نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ منسوخ۔۔ وجوہات؟

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ جو گزشتہ روز(جمعتہ المبارک) کو پہلے میچ سے شروع ہو رہا تھا اچانک منسوخ کر دیا گیا اور اس کے لئے سکیورٹی کی وجوہات ظاہر کی گئی ہیں ‘ نیوزی لینڈ کی ٹیم اٹھارہ سال بعد پاکستان آئی تھی مگر نیوزی لینڈ کے وزیر نے یہ کہہ کر انہیں یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ٹیم کے کھلاڑی جیسے ہی ہوٹل سے باہر آئیں گے ان پر حملہ ہو سکتا ہے اس لئے انہوں نے پاکستان کی استدعا کو رد کرتے ہوئے ٹیم کے کھلاڑیوں کو واپس جانے کا حکم دے دیا ‘ جبکہ نیوزی لینڈ کے کرکٹ چیف ڈیوڈ وائٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمارے لئے کھلاڑیوں کی سکیورٹی اولین ترجیح ہے ‘ موجودہ حالات میں ہمارے پاس یہی آپشن تھا ‘ اس صورتحال پر وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک پریس کانفرنس میں سکیورٹی تھریٹ کو رد کرتے ہوئے اسے پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا ‘ ادھر طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی ایک ٹویٹ وائرل ہوئی ہے جس میں خبرداری دی گئی ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم پر حملے کے خطرات موجود تھے ‘ اسی کو لیکر بعض حلقوں کے مطابق بھارت نے انگلینڈ کے ساتھ مل کر اس دورے کو منسوخ کرانے میں اہم کردار ادا کیا ‘ تاہم اسلام آباد میں برٹش ہائی کمیشن نے اس قسم کے دعوئوں کی تردید کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کرکٹ کے دورے کی تنسیخ میں ملوث ہونے سے انکار کردیا ہے ‘ حالانکہ دوسری جانب بھارت کی میڈیا جس طرح حسب عادت اس معاملے کو اچھال رہا ہے اور چیخ چیخ کر پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا ہے اس سے صورتحال کی وضاحت ہوتی ہے ‘ یاد رہے کہ سری لنکا کی دورہ پاکستان میں جوتخریب کاری ہوئی تھی اور کھلاڑیوں کی گاڑی پر حملہ ہوا تھا اس میں بھارت کی تلویث کے واضح ثبوت سامنے آئے تھے جس کے بعد پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کے لئے کوئی ملک آنے کوتیار نہیں تھا اور پاکستان میں کرکٹ کو شدید نقصان پہنچا تھا ‘ لگ بھگ دس سال تک دنیا کی کوئی ٹیم پاکستان آنے کو تیار نہیں ہوئی تھی اور پاکستانی ٹیم کو یا تو دنیا کے دوسرے ممالک میں جا کر سیریز کھیلنے پر مجبور ہونا پڑتا تھا یاپھر شارجہ اور دبئی میں بیرونی دنیا کی ٹیمیں آئی سی سی کے تحت آکر پاکستان کے ساتھ کھیلنے پرآمادہ ہوتی تھیں ‘ بڑی مشکل سے پاکستان کرکٹ لیگ کے چند میچز کے لئے باہر کے کچھ کھلاڑی پاکستان آنے پر تیار ہوئے تھے ‘ مگر یہ ساری صورتحال بھارت کے لئے”قابل قبول” نہیں تھی اور وہ مسلسل سازشیں کرکے پاکستان کو کرکٹ کی دنیا سے باہر رکھنے کے لئے کوشاں تھا ‘ نیوزی لینڈ کی ٹیم کے دورے کی تنسیخ پر پی سی بی کے نو منتخب چیئرمین رمیض راجہ نے بڑے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور معاملے کو آئی سی سی میں اٹھانے کا عندیہ دیا ہے ‘ تاہم اس قسم کے معاملات میں جذبات کی بجائے اگر صبر وضبط اور تحمل سے کام لیا جائے تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ‘ بہتر یہ ہوتا کہ وہ صرف افسوس کا اظہار کرتے نرم الفاظ میں آئی سی سی سے رجوع کا بیانیہ اپناتے اور باقی معاملہ وزارت خارجہ پر چھوڑ دیتے تو دو دوست ممالک کے مابین تلخی بڑھنے کی نوبت نہ آتی ‘ کیونکہ اگر نیوزی لینڈ کے ذمہ دار سرکاری وزراء اور حکام سکیورٹی تھریٹ کا دعویٰ کر رہے ہیں تو ان کے خدشات کو ایک طرف اگرسابق طالبان ترجمان احسان اللہ احسان کی ٹویٹ سے تقویت مل رہی ہے تودوسری جانب خود پاکستان کے سکیورٹی حکام کی جانب سے محولہ ٹیم کے بارے میں جاری کردہ سکیورٹی انتظامات کے ایک خط سے بھی صورتحال پر سوالیہ نشان ثبت ہو رہے ہیں’ بد قسمتی سے معاملہ صرف نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی واپسی کا نہیں ہے بلکہ اس کے بعد انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان بھی مشکلات میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے ‘ اور انگلینڈ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے دورہ پاکستان پرحتمی فیصلہ آئندہ 24گھنٹے میں کر سکتا ہے ‘ جس سے یہ اندازہ لگانے میں دشواری نہیں ہونی چاہئے کہ موجودہ حالات میں انگلستان کرکٹ ٹیم کے دورے پر بھی شکوک کے سائے لہرا رہے ہیں اور اگر خدانخواستہ وہاں سے بھی منسوخی کا اعلان ہوتا ہے تو پاکستان میں کرکٹ کا مستقبل ایک بار پھر تاریخ ہوسکتا ہے ‘ اس حوالے سے بھارت کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس کی خواہش او کوشش پاکستان کے اندر کرکٹ کے کھیل کو تباہی سے دو چار کرنا ہے ‘ تاہم خود ہمارے بعض سیاسی رہنمائوں نے اس صورتحال پرنامناسب اور منفی بیان بازی شروع کرکے دشمنوں کے بیانئے کو تقویت پہنچانا شروع کر رکھا ہے ‘ حالانکہ انہیں اس موقع پر پاکستان کی کرکٹ کو سہارا دینے میں تعاون کرنا چاہئے ‘ سیاست کو ہر معاملے میں داخل کرنے سے پاکستان کے امیج کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے احتراز ضروری ہے ۔
پٹرول کے بعد بجلی
وزیر اعظم عمران کے اس بیان کو ابھی ایک روز بھی نہیں گزرا جب انہوں نے ملک میں بجلی مہنگی ہونے کوبدقسمتی قرار دیا تھا کہ ایک صدارتی آرڈی ننس کے ذریعے اسی مہنگی بجلی پر مزید ٹیکس عاید کرکے اسے مزید مہنگا کر دیاگیا ہے ‘ جبکہ اس سے پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ملک میں مہنگائی کا طوفان سراٹھا رہا ہے ‘ اور عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں ‘ اگرچہ اس نئے آرڈی ننس کا مقصد نیب کے اختیارات میں توسیع ‘ 20سال پرانی اور بند فائلیں کھول کر بدعنوان عناصر کو گرفت میں لانا مقصود ہے جبکہ ایف بی آر کو یوٹیلٹی کنکشن منقطع کرنے اور موبائل سمیں بند کرنے کا اختیاربھی مل گیا ہے اور ارکان اسمبلی کے لئے ٹیکس کی تفصیلات ظاہر کرنے کا استثنیٰ بھی ختم کر دیا گیا ہے ‘ تاہم ساتھ ہی بجلی کے مختلف سیلبز پرجو اضافی ٹیکس عاید کر دیا گیا ہے اس سے بدترین مہنگائی کی ایک اور لہر آئے گی ‘ حالانکہ اس سے پہلے 25ہزار روپے
سے زیادہ بجلی بلوں پر حال یہ میں ساڑھے بارہ فیصد ٹیکس عاید کیا جا چکا ہے مگر بقول وزیر اعظم مہنگی ‘ بجلی پر جونیا ٹیکس عاید کیا جارہا ہے اس سے عام متوسط طبقہ بھی بری طرح متاثر ہوگا ‘ کیونکہ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے پہلے ہی احتیاط سے کام لینے والوں کی ایک دوسال پہلے جتنی بجلی یونٹ خرچ ہونے کے باوجود قیمت میں بتدریج اضافے سے پرانے بلوں کی نسبت اب دوگنے سے بھی زیادہ رقم کے بل آرہے ہیں ‘ اوپر سے اس تازہ آرڈیننس سے صارفین پر 5 تا 35 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس عاید کرنے سے عوامی سطح پر متوقع احتجاج کو روکنے میں حکومت شاید کامیاب نہ ہو سکے ‘ اس سے پہلے 25 ہزار کے بل پر اضافی ساڑھے بارہ فیصد ٹیکس لگایا گیا تھا مگر اب سے اور بھی کم کرکے دس ہزار تک کے بل پرپانچ فیصد ‘ دس سے بیس ہزار تک کے بل پر دس فیصد اور بیس سے تیس ہزار تک کے بل پر پندرہ فیصد اضافی انکم ٹیکس لگا کر حکومت مہنگائی کواپنے عروج پر لیجانا چاہتی ہے ‘ بدقسمتی مگر بقول وزیر اعظم یہ نہیں کہ ملک میں بجلی مہنگی ہے (جومزید مہنگی ہونے جارہی ہے) بلکہ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کو اپوزیشن جماعتیں عوام کے دکھ درد کو محسوس ہی نہیں کر رہی ہیں اور صرف بیانات ہی کے ذریعے مذمت کرکے خاموش ہوجاتی ہیں ‘ حالانکہ انہیں آئی ایم ایف کے اس حکم ناموں کے آگے بند باندھنے کی تدابیر کرنی چاہئے اور عوام جو پہلے یہ بے روزگاری ‘ مہنگائی کے ہاتھوں غربت کی لکیر کے نیچے تیزی سے بدترین حلات کی طرف لڑھک رہے ہیں ان کی داد رسی کے لئے اقدامات کرنے پر توجہ مرکوز کرکے ریلیف دلوانے میں اپنا کردار کرنا چاہئے۔