Mashriqyat

مشرقیات

بعض اوقات ہمیںلگتا ہے کہ ”جتھوں دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی” کی مثال بھی ہم پر ہی پوری طرح فٹ بیٹھتی ہے کہ ساری دوڑ دھوپ کے بعد بھی وہیں کھڑے ملتے ہیں جہاں سے چلے تھے، سیدھی راہ چلنے والے بھلا کب پیچھے پلٹنے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک دائرے میں ہی گھوم پھر رہے ہیں، ہماری صبح سے شام تک کی بھاگ دوڑکا نتیجہ آگے بڑھنا ہی نہیں ہے،کولہو کے بیل بھی ہم قرار دیئے جا سکتے ہیں۔کوئی ایک شعبہ بتائیں جس میں ہم نے چن نہ چڑھایا ہو اور دنیاہمارے قصیدے نہ پڑھ رہی ہو۔
ادھر یار لوگ پھر بھی حیرت زدہ ہیں کہ دنیا ہمیں گھاس ڈالنے کا بھی کیوں اہل نہیں سمجھ رہی؟ تو جناب! دنیا پوچھ رہی ہے کوئی ایک چیز ایسی بتائیں جو آپ جناب نے انسانوں کی فلاح کے لئے ایجاد کی ہو؟جب سوئی سے لے کر ہوائی جہاز تک ہم غیروں کی بنائی گئی چیزوں کا استعمال کرتے ہیں تو کلمہ (بندہ خدا کلمے سے مراد وہی لیجئے گا جو یہاں ہے کسی کے عقیدے وغیرہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں) بھی ان کا پڑھنا بنتا ہے لیکن یہ کیا کہ ایک جیب میں موبائل دوسری میں جہاز کا ٹکٹ ، ہاتھ پر بندھی گھڑی، آنکھوں پر چڑھائی عینک اور بیگ میں ٹوٹھ پیسٹ سے لے کر دل، شوگر وغیرہ کی دوائوں تک کافروں کے سہارے سے استفادہ کر تے ہوئے بھی آپ جناب صلوٰاتیں سنانے پر آئیں توسب کی ایسی تیسی کر کے رکھ دیتے ہیں۔
ابھی کل پرسوںکی ہی بات ہے ہمارے وزیرستانی قبیلے کے ایک وزیر باتدبیر جو کشمیر کا مقدمہ لڑنے امریکا پہنچے ہیں اس لڑائی میں میزبانوں کی حمایت حاصل کرنے کی بجائے نیویارک کے گلی کوچوں میں بے گھر افراد کی حالت زار سے دنیا کو آگا ہ کر نے پر لگ گئے، اپنا کام چھوڑ کر انہوں نے ترقی کی معراج پر پہنچے امریکا بہادر کی ترقی کا ستیاناس ضروری سمجھا۔اس سے امریکا کا کیا بگڑا خود انہیں بھی نہیں معلوم۔البتہ اپنے جذباتی ابال یا کوئی خفت مٹانے کی کوشش میں انہوں نے کشمیر کا مقدمہ بغیر لڑے ہار دیا۔ انہوں نے امریکا کو گالیاں دینے کے لئے بھی امریکا جانا ضروری سمجھا، سوشل میڈیا پرانہیں اپنے پرائے سب داد دے رہے ہیں۔”جان اللہ کو دینی ہے او رگالیاں امریکا کو”۔(رفع شر کی خاطرہم نے جملے میں ترمیم ضروری سمجھی) اس فلسفے سے اب جان چھڑانے کی ضرورت ہے کب تک آپ اور میں گالیاں دے کر سرخرو ہونے کی فضول خواہش اور خوش فہمی میں مبتلا رہیں گے۔شورشرابے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔گرجنے والوں کو کب کسی نے برستا دیکھاہے۔خاموشی سے اپنا کام کریں اور کام ہو جائے تو یہی خود بخود آپ کا نام بھی اچھال دے گا۔نکموں کا نام دنیا نے بدناموں کی فہرست میں ڈالا ہوا ہے۔”بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا” کا فلسفہ آپ کو پیا را ہے تو آپ کی مرضی تاہم ایسی بدنامی کا کیا فائدہ کہ دنیا دیکھتے ہی منہ پھیر لے اور آپ کو کوئی خوش آمدید کہنے والا نہ ہو۔