تفضیح

مشینی ووٹنگ کے سلسلہ میں جو تلخی آئینی اداروں کے مابین کر وٹ بدل بدل کر ابھر رہی ہے وہ ملکی اقدا ر کے لئے ہر گز سود مند قرار نہیں پاتی اوریہ ایک ایساالجھاؤ بنتا جا رہا ہے جس سے نہ صرف ملک گیر سطح پر بلکہ عالمی منظر میں بھی بے تو قیر ی کا احسا س پیدا ہو رہا ہے ایسا محسو س کیا جارہا ہے کہ کسی اہم امور پر اختلاف رائے نہیں ہے بلکہ ذاتیا ت پر مشتمل کوئی ایجنڈا ہے ، کوئی دن ہی جاتا ہو گا کہ الزامات کی بھر ما ر نہ ہو رہی ہو عوام حیر ت میں ہیں کہ سرکار اور آئینی ادارہ آمنے سامنے آکھڑ ے ہیں ، کوئی بھی سرکا ر ہو اس کا فرض اولین یہ بنتا ہے کہ وہ جب اس قسم کا کوئی پراجیکٹ شروع کرے تو پارلیمنٹ کو اعتما د میں لے اس کے بعد قدم بڑھا ئے مگر جس شد ومد سے مشینی ووٹنگ کی چاہت کا اظہا ر کیا جا رہا ہے اس سے احساس یہ ہو رہا ہے کہ کوئی خاص کمال ہے کہ جس کے لئے اس پر دل فریفتہ ہے ۔ اس طرح ووٹنگ مشین پر دل موہ لینے سے عوام میں بھی احساس بڑھا رہا ہے کہ کچھ نہ کچھ ہے جس کی پر دہ داری ہے ۔ بہر حال الجھنے سے سلجھنے کے امکا نا ت معدوم ہو جا یا کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے پرتبّرا بھیجنے کی بجائے ملکی مفاد کے تقاصوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کاوش ہو نا چاہئے کہ کوئی حل نکالا لیا جائے ۔ اور حل نکالنے کا طریقہ بھی اور راستہ بھی موجو د ہے پھر بے صبری کاہے کو ہو رہی ہے ، شائستہ راہ بھی ہے اس پر عمل پیر ا ہو کر بھی منزل کو پایا جا سکتا ہے بصورت دیگر قلقلا خان کی طرح یہ گمان عام ہوجائے گا کہ یہ گمبھیر ڈسکہ الیکشن کی رپو رٹ کے منظر عام پر آنے سے پہلے حالا ت کو اپنے موافق بنانے کی سعی ہے گو دسکہ الیکشن کی رپو رٹ ہنو ز عام نہیں ہوئی ہے تاہم اس بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کی وجہ سے بڑے بڑے گھر جا سکتے ہیں چنا نچہ پہلے ہی سے ایک آئینی ادارے کو سیاست کی نذر کر دیا جائے تو حق میں بہتر رہے گا ۔پھر فارن فنڈنگ کیس بھی تو سامنے ہی پڑ ا ہو ا ہے ۔قلقلا خان کہا ں تک ذہین ہیں اس بارے میں سب ما نتے ہیں ۔ گزشتہ ہفتے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں حکومتی وزراء اور کمیٹی کے ارکا ن اور اجلاس میں شامل الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعلیٰ عہدیدار پر وفاقی وزیر اعظم سواتی نے سنگین الزامات لگاے اور تڑی بھی دی، الیکشن کمیشن نے پارلیما نی امو ر کی اس کمیٹی میں سینٹس اعتراضا ت مشینی ووٹنگ کے بارے میں پیش کیے تھے یہ اعتراض الیکشن کمیشن کے کسی فرد واحد کی جانب سے نہیں اٹھائے گئے تھے بلکہ ا ن اعتراضا ت کو الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکا ری طور پر پیش کیا گیا تھا ، اعتراضات کا جو اب دینے کی بجائے حکومتی ارکا ن کی جانب سے جس براہم خوردگی کا اظہا ر کیا گیا وہ باعث حیر ت ہے ۔ تب سے اب تک اسی براہم خوردگی کا اظہا ر کیا جا رہا ہے ، حالا نکہ اب بھی وقت ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ الیکشن کمیشن دودھ دھلا نہیں ہے اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے تحریر ی اعتراضات کا جو اب بھی اسی دفتری نظام کے تحت دیا جائے پارلیمانی امو ر کی اس کمیٹی میں حکومتی ارکا ن کی جانب سے الیکشن کمیشن کے اعتراضات کا تحریر جو اب داخل کیا جا سکتا ہے نہ کہ اس پر الزامات کے ذریعے سوقیا نہ راستہ اختیا ر کرلیا جائے ،پاکستان میں جس شخص نے یہ مشین تیا ر کی ہے وہ ان دنو ں آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہے اس کا سوشل میڈیا پر ایک انٹرویو چلا ہے جس میں اس نے بتایا ہے کہ اس مشین کا انٹر نیٹ سے کوئی واسطہ نہیں ہے اس لئے اس مشین کا ہیک کیے جا نے کا کوئی امکان نہیں ہے تاہم ایسا سافٹ وئیر اس مشین میں انسٹال کیا جا سکتا ہے جس سے اپنے مطلب کے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔ مسئلہ ایک صرف الیکشن کمیشن کا نہیں ہے بلکہ اپو زیشن بھی اس مشین پر راضی نظر نہیں آرہی ہے چنا نچہ بہتر یہ ہے کہ لفاظی سے حالا ت کو گرما نے کی بجائے اس کو ٹھنڈ ے پیٹوںلیاجائے کیوں کہ یہ معاملہ کسی ایک سیاسی جما عت سے متعلق نہیںہے بلکہ بائیس کروڑ عوام کی قسمت سے متعلق ہے۔آئی ٹی کے ماہر ین کے مطابق نئے سسٹم کو بنانے کے لئے تین سال کا عرصہ چاہیے ۔ جبکہ چیئرمین نادرا نے صرف ایک سال میں یہ سسٹم مکمل کرنے کی پیش کش کی نئے سسٹم کے تحت نا درا اپنی طرز پر الیکشن کمیشن کو ایک مربوط آئی ووٹنگ نظام بنا کر دے گا جو سمندرپار پاکستانیوں کوووٹ کا حق دینے کے کا م آئے گا نا درا کاوضع کردہ اور تیا ر کر دہ نظام الیکشن کمیشن کے اپنے ڈیٹا سنٹر ، سرور اور تھرڈپا رٹی سافت وئیر انتظامات پرمشتمل ہو گا ۔ الیکشن کمیشن کوئی سرکا ری ادارہ یا دفتر نہیں ہے جس سے حکمیہ انداز میں بات کی جائے ، الیکشن کمیشن نے مطالبہ کیا کہ ایسی زبان لکھے جانے پر تحقیقات ہونی چاہیے جس پر نادرا کے چیئر مین نے متعلقہ حکام کی سرزنش کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیدیا ہے جو احسن اقدام ہے مختصراًیہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ آئینی اداروں کے مابین چوٹ ملک کو پستی اورجوکھم کا باعث ثابت ہو تا ہے ۔