Idhariya

طالبان حکومت ‘ دنیا سے جڑنے کی ضرورت اور تقاضے

طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتیرس کولکھے گئے ایک خط میں درخواست کی ہے کہ اقوام متحدہ کے سالانہ جنرل اسمبلی اجلاس میں انہیں خطاب کرنے کا موقع دیا جائے۔اقوام متحدہ میں طالبان کے سفیر کی تعیناتی کی منظوری ان کے عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کے لئے ایک اہم اقدام ہوگا۔ اس سے بحران سے دوچار افغان معیشت کے لئے فنڈز ملنے کے امکانات روشن ہوں گے۔اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کا کہنا ہے کہ طالبان کی عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کی خواہش وہ واحد عنصر ہے جس کی بنا پر دوسرے ممالک ان سے بدلے میں مطالبات کر سکتے ہیں۔طالبان کے مطالبے پر رواں اجلاس کے دوران کسی فیصلے کے امکان نہیں اور عین ممکن ہے کہ گزشتہ حکومت کے مقرر کردہ مندوب ہی کو خطاب کا موقع دیا جائے جس سے قطع نظر طالبان کے اس مطالبے سے اس امر کا واضح اظہار ہوتا ہے کہ طالبان دنیا سے کٹ کر نہیں بلکہ دنیاسے جڑ کر رہنے کے خواہاں ہیں مگر مشکل امر یہ ہے کہ وہ اس کے لئے اپنے نظریات اور طرز عمل میں ذرا بھی تبدیلی لانے کے خواہاں نہیں جو خلاف مصلحت ہے طالبان کو اپنی حکومت اور اقوام متحدہ میںاپنے مقرر کردہ مندوب کو دنیا کے لئے قابل قبول بنانے کے لئے بعض مطالبات کو پورا کرنا ہو گاجس میں سرفہرست خواتین کونمائندگی دینا ہے لیکن عملی طور پر صورتحال یہ ہے کہ طالبان نے اپنی کابینہ کو وسعت دیتے ہوئے اس میں نائب وزیر بھی شامل کیے ہیں تاہم ان میں ایک بھی خاتون شامل نہیں ہے۔طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کابینہ میں توسیع کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تمام اقوام اور اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی ہے جبکہ خواتین کو بعد میں شامل کیا جائے گا۔لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت جتنی جلدی ممکن ہوا دے دی جائے گی۔اس وقت طالبان حکومت کو ملک چلانے کے لئے ایک بھاری بھرکم ہدف کا سامنا ہے۔افغانستان کے ایک ایسے ملک کے طور پر جس کا دارومدار امداد پر رہا ہے، اس کی مشکلات طالبان کی آمد کے بعد بڑھی ہیں اس ساری صورتحال سے نکلنے کے لئے افغانستان کی حکومت کو عالمی برادری کے مطالبات کو پورا کرنے کی طرف پیش رفت کرنا ہو گی اور سخت گیری سے اجتناب کرنا ہو گا بصورت دیگر طالبان کو پہلے کی طرح عسکری جنگ کا سامنا ہونے کا تو امکان نہیں لیکن معاشی واقتصادی تنہائی کی جنگ سے واسطہ یقینی ہے اور یہ صورتحال گوریلا جنگ سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنے ایک تازہ انٹرویو میں طالبان پر جامع حکومت کی تشکیل کے لئے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں افغانستان میں جلد یا بدیر خانہ جنگی ہو گی جس کے اثرات پاکستان کے لئے بھی ناموافق ہوں گے ابھی تک طالبان کو اس ہم آہنگی کی پالیسی اور بیانات کا فائدہ حاصل ہے مگر یہ بیانات اب عملی تشکیل کے متقاضی ہو چکے ہیں اورطالبان سے ان وعدوں کی پاسداری کا مطالبہ کرنے والی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ جن کو بہت دیر تک نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔ طالبان سے توقعات صرف یہی نہیں کہ وہ دیگر لسانی دھڑوں کو حکومت میں جگہ دیں بلکہ تعلیم حقوق اور دنیا کے ساتھ تعلقات کی مروجہ روایات کو بھی اہمیت دینا ہو گی۔ طالبان کے لئے قابل غور نکتہ یہ ہے اور امید ہے یہ باتیں طالبان کو سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہو گی کہ معاصر دنیا میں دنیا سے کٹ کر رہنا ممکن نہیں۔طالبان کے لئے مسلم دنیا کے کئی ممالک کی مثالیں موجود ہیں جہاں اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزاری جاتی ہے مگر یہ اصول عالمی اقدار کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے میں رکاوٹ نہیں۔ حقوق انسانی اس سلسلے میں بنیادی طور پر اہم ہے جس کی چھتری تلے تعلیم انتخاب اور اظہار کے حقوق بھی آتے ہیں۔ ایک آئیڈئل معاشرہ بنانے کے لئے ان حقوق کی فراہمی بنیادی طور پر اہم ہے اور اسی سے دنیا کے لئے قبولیت کی حد طے ہوتی ہے کہ آپ اپنی رعایا کے ساتھ کس حد تک نیکی اور بھلائی کا سلوک کرتے ہیںطالبان اگرغور کریں تو شریعت کی پابندی کے ساتھ خاتین کو تعلیم اور حقوق دینا اور آزادی اظہار کاموقع دینا کوئی مشکل امر نہیں خلفائے راشدین کے دور کے مطالعے اور علمائے کرام کے اجتہاد کی روشنی میں اس کے لئے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق طریقہ کار وضع کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔طالبان کے لئے چیلنج یہ ہے کہ توازن قائم رکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور تضادات کے باعث تنہائی کا راستہ اختیار کرنے سے گریز کریں۔ اس ضمن میں ہمسایہ ممالک اور دنیا بھر کو طالبان کی مدد کرنی چاہیے یہی افغانستان اور اس خطے کے بہتر مستقبل کے حق میں ہے مگر یہ سب اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک طالبان خود اس معاملے میں سنجیدگی اور دور اندیشی کا مظاہرہ نہ کریں۔ دور اندیشی کا تقاضا ہے کہ داخلی سطح پر موجود مطالبات سے بہتر انداز سے نمٹا جائے تاکہ اچھی شہرت کی تشہیر ہو اور طالبان کی جانب دنیا کے رویے میں تبدیلی آئے ۔