professor-ihsanullah-column

مطالعے کی اہمیت اور افادیت

ہر چیز کی معرفت اور پہچان علم کی وجہ سے ہوتی ہے، اصل علم وحی کا علم ہے اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے اپنی معرفت ، قدرت احکامات اور تخلیق کائنات کے بارے میں ہمیں قرآن کریم میں بتاتے ہیں کہ میں نے پوری کائنات کوانسانوںکی فلاح وبہبود کے لیے پیدا کیا ہے۔ دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی اللہ تعالیٰ نے علم میں رکھی ہے، دنیا میں آپ جتنے ترقی یافتہ ممالک دیکھتے ہیں انہوں نے علوم کی وجہ سے ترقی کی ہیں، دنیاوی ترقی کے لیے سائنس ، ٹیکنالوجی ، معیشت اور صنعت وحرفت کے علوم حاصل کرنا ضروری ہے۔
جاپان سائنس وٹیکنالوجی میں دنیا کے بہت سے ممالک سے آگے ہے ان کی ترقی کی کئی وجوہات ہیں لیکن دو وجوہات بہت اہم ہیں وہ یہ کہ ان کا سارا نظام تعلیم اپنی ہی زبان جاپانی میں ہے دوسری وجہ، وہاں پر بہت بڑے بڑے کتب خانے ہیں انہیں کتاب خانوں میں مطالعے کے ذریعے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ہمارے اکابرین،ائمہ کرام، علماء اور مجتہدین نے اپنے اپنے اوقات میں درس تدریس، سیاست، امامت اور تصانیف کے امور احسن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچائے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان علماء نے یہ سب کام کس طر ح مختصر زندگی میں کیے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان علمائے کرام کی زندگیاں باقاعدہ ٹائم ٹیبل کے مطابق تھیں ،اسی وجہ سے اللہ نے ان کی زندگیوں میں برکت ڈالی تھی۔ اگر ہم بھی اپنی زندگی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گزاریں تو ہم بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔
گذشتہ زمانے میں بادشاہوں کے گھروں میں بڑے بڑے کتب خانے موجود ہوتے تھے، لوگ کتب اور کتب خانے کے ساتھ بہت پیار اور محبت کرتے تھے۔ بازاروں میں بڑی  بڑی دکانیں کتابوں کی ہوا کرتی تھیں۔لوگ بہت کتابیں خریدتے تھے۔آج وہ بڑی بڑی دکانیں ختم ہو رہی ہیں۔جب ان سے پوچھا جائے کہ آپ کیوں کتابوں کاکاروبار چھوڑ رہے ہیں تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ کوئی کتاب خریدنے والا نہیں۔ہمارا کاروبار کمزور ہے اسی وجہ سے ہم نے کتابوں کے کاروبار ختم کرنے کا سوچا ہے اور متبادل کاروبار شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ایک دن میرا جانا گورنمنٹ پبلک لائبریری تیمرگرہ ہوا ،لائبریری میں طلباء کی کثرت دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، طلباء اپنے اپنے مطالعے میں مصروف تھے ، لائبریری کی لوکیشن بہترین جگہ بائی پاس روڈ کے کنارے پر واقع ہے لائبریری کی بہترین بلڈنگ کشادہ رقبے پر محیط ہے جس میں چمن اور پودے لگے ہوئے ہیں ، میں نے لائبریری کی مختلف جگہوں کا وزٹ کیا اس میں کتابیں علاقے کی ضرورت کے مطابق موجود ہیں لیکن کئی چیزوں کی کمی ضرور محسوس ہوتی ہے۔ جس میں کرسیاں ، لائٹ ، اے سی ، مسجد  اور
سٹاف کی کمی سرفہرست ہے ،اس میں دو پوسٹ لائبریرین کی ہیں اور دونوں پر ایک بندہ بھی نہیں ہے، کتب خانے کا سب سے ذمہ دار بندہ لائبریرین ہوتا ہے، کتب خانے کی ترقی میں لائبریرین کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔آج ملک کے بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں بڑے بڑے کتب خانے ہیں ان میں ملازمین موجود ہوتے ہیں وہ شکایت کرتے ہیں کہ بہت کم طلباء واساتذہ کتابیں پڑھنے کے لیے آتے ہیں۔ حکومت نے اس پر کتنی مال دولت خرچ کی ہے؟ کتنی بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں؟ ان کے اندر کتنی کتابیں رکھی گئی ہیں؟ ایسا کیوں ہوا؟ ان سارے سوالات کے جوابات واضح ہیںکہ آج کل ہمارے اکثر لوگ اپنے اوقات موبائل کے استعمال میں گزار رہے ہیں اور وہ بھی فضول چیزوں میں جیسے سوشل میڈیا کے استعمال میں وقت زیادہ صرف ہوتا ہے۔
ہم سب چھوٹے ،بڑے اور جوان فیس بک ، یوٹیوب ، ٹک ٹاک اور موبائل گیمز پر اپنے اوقات ضائع کر رہے ہیں۔ ایسے گیمز بھی ہیں جن میں خاص کر نوجوان ساری رات کھیلتے رہتے ہیں یہ صحت اور دولت دونوں کے لئے مضر ہے۔ خدا را اپنے بچوں کی کڑی نگرانی کرکے موبائل سے دور رکھیں ورنہ ان کا مستقبل بہت تاریک ہوگا۔
وہ بچے جو سنجیدہ ہیں اگر وہ تعلیمی سرگرمیوں کے لیے موبائل استعمال کر رہے تو ان کے لیے موبائل خرید لو لیکن ان کے نگرانی کرتے رہو تاکہ وہ منفی سرگرمیوں میں استعمال نہ کریں اور ان سے رات سوتے وقت موبائل لیتے رہو تاکہ وہ ساری رات فضول قسم کی گیمز میں ضائع نہ کریں۔ یقیناً تعلیم و تعلم کے لیے موبائل کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔ ان وجوہات سے کسی کے پاس کتب پڑھنے کے لیے وقت نہیں۔ موبائل مطالعے کے لیے اچھا ہے لیکن یاد رہے موبائل اور کمپوٹر سے متواتر پر سیر مطالعہ نہیں ہو سکتا البتہ انتخاب وحوالاجات کے لیے بہت مفید ہے۔ ہم لوگ مطالعہ نہ کرنے کی وجہ سے پیچھے جا رہے ہیں۔دیگر اقوام ترقی کرکے آگے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔یورپ میں موبائل ہم سے کئی سال پہلے آیا ہے لیکن وہاں کتابوں کی دکانوں پر اس طرح رش ہوتی ہے جس طرح ہمارے ہاں موبائل اور کپڑے کی دکانوں پر دکھائی دیتا ہے۔ ہر شخص کو چاہئے کہ اپنا ٹائم ٹیبل اس طرح بنائے جس میں فضول کام کا دخل نہ ہو تو ممکن ہے کہ ایسے شخص کو بہت وقت فارغ مل جائے۔پھر وہ فارغ اوقات میں اپنے مطالعے کو دے گا تو ان شاء اللہ کافی فائدہ ہوگا۔
حکومت کو چاہیے کہ ہر تحصیل کی سطح پر ایک ایک بہترین پبلک لائبریری تعمیر کریں ،اس میں طلباء ، اساتذہ اور عوام کی ضرورت کی کتابیں رکھی جائیں اس سے معاشرے پر مثبت اثر ہوگا ،لوگ بہت سے منفی سرگرمیوں سے باز آجائیں گے اسی طرح کالجز ، یونیورسٹیاں اور سکولز میں طلباء اور اساتذہ کی ضرورت کے مطابق لائبریریاں قائم کی جائیں۔
آئیں اپنے بچوں، طلباء ،طالبات اور عوام کو مطالعہ کی اہمیت سمجھائیں اس کے فضائل اور فوائد بتائیں ان کو راغب کر یں تاکہ آئندہ نسل میں پھر کتابوں کے مطالعے کا شوق اجاگر ہو اور ہم ترقی کی طرف گامزن ہو جائیں۔اپنے اوقات ٹائم ٹیبل کے مطابق لے آئیں۔ سوشل میڈیا پر فضول چیزیں نہ دیکھیں بلکہ سوشل میڈیا مثبت کام کے لیے استعمال کریں۔ تو ان شاء اللہ ہم دنیاوآخرت میں کامیاب ہوں گے۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو