jehangir-khan-column

بدلتے رحجانات، ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت ناگزیر

ٹیکنالوجی کی ترقی سے عالمی سطح پر افرادی قوت کے لیے روزگار یا کام کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ عصر حاضر میں اس طرح کی تبدیلیاں ترقی یافتہ دنیا میں تیز رفتاری سے رونما ہو رہی ہیں، تاہم پاکستان بھی ایسی تبدیلیوں سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ جلد یا بدیر ، ہمیں ایسی تبدیلیوں اور اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کا بہتر انداز میں تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ پاکستان میں روزگار کی پہلے سے ہی ابتر صورت حال پر اس کے نقصان دہ اثرات سے بچا جا سکے؟ اگر ٹیکنالوجی کی بنیاد پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو ان کے نتیجے میںکم ہنرمند افرادی قوت کے لیے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں جبکہ اعلیٰ درجے کے علم اور ڈیجیٹل مہارتوں کی طلب بڑھ رہی ہے۔ چنانچہ آٹومیشن ٹیکنالوجیز یا خوکار ٹیکنالوجیز کارکردگی کے لحاظ سے تعمیری ثابت ہوسکتی ہیں اور ان کے اثرات بھی قابل تلافی ہیں لیکن ان کے نتیجے میںکارکنوں کے لیے وہ کام ختم ہو سکتا ہے جو آٹومیشن سے پہلے وہ کررہے تھے۔چونکہ کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا میں لوگوں کے روزگار کو متاثر کیا ہے، اس لیے اس وبائی صورتحال کے تناظر میں اس مرحلے پر آٹومیشن ٹیکنالوجیز کے مجموعی اثرات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے،کیونکہ اس وباء کے باعث لاک ڈائون (بندشوں) نے ٹیکنالوجی/ ڈیجیٹل تبدیلیوںکا عمل مزید تیز ہوا ہے اور اب ڈیجیٹل ہنر مندی افرادی قوت کیلئے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ پاکستان میں بھی یہ بھی پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے۔ یوں اس شرح میں تقریباً تیرہ فیصد کمی آگئی تھی۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق معاشی سرگرمیوںکی بحالی کے بعد اب پانچ کروڑ پچیس لاکھ ساٹھ ہزار افراد پھر سے اپنے کام پر آگئے ہیں جو تینتیس فیصد شرح بنتی ہے۔ اس دوران تیس لاکھ سے زائد افراد کی ملازمت بالکل چلی گئی یا پھر انہوں نے نیا کام ڈھونڈ لیا ہے۔ پاکستان کو نوجوانوں کی بڑھتی تعداد کا بھی چیلنج درپیش ہے۔ ہماری مجموعی آبادی کا تقریباً 59 فیصد حصہ 15سے59 سال تک کی عمر کے لوگوں پر مشتمل ہے اور ان میں سے27 فیصد افراد 15 سے 29 سال تک عمر کے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان دنیا میں افرادی قوت کے حوالے سے دنیا کا نواں بڑا ملک ہے جس ہرسال تقریباً تیس لاکھ کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تناظرمیں روزگار کی فراہمی کے حوالے سے صورتحال غیریقینی ہوسکتی ہے۔ جاب مارکیٹ پر نئے آنے والوں اور بے روزگار ہونے والوں کو کھپانے کے لیے بہت دبائو ہوگا،اس لئے یہ مناسب وقت ہے کہ ممکنہ چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ہنرمندی کے فروغ اور روزگار کی فراہمی کی پالیسیوں کو نئے سرے سے مرتب کیا جائے۔ سب سے پہلے ہمیں کارکنوں کی موجودہ کام سے نئے کام پر منتقلی پر توجہ مرکوزکرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں خاص طور پرکم ہنرمند افرادکی نئے سرے سے تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ یورپی یونین کے مطابق خودکاری یا آٹومیشن سے متاثرہ کارکنان مناسب تربیت سے ہی اسی جیسا یا بہتر کام تلاش کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ نئے کارکنوںکی تربیت میں خودکاری کے رحجانات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
یہ یقینی بنایا جائے کہ ان کے پاس ایسی نئی مہارتیں ہوں جو لیبر مارکیٹ سے مطابقت رکھتی ہوں اور اس کی طلب کو پورا بھی کرتی ہوں۔ اس کے لیے ایسا موثر تعلیمی نظام قائم کیا جائے جو مہارتوں کے حوالے سے تیزی سے بدلتی طلب کا تجزیہ کرسکے اور اسے پورا بھی کر ے تاکہ ہنرمندوں کی قلت یا ان کے لیبر مارکیٹ سے مطابقت نہ رکھنے جیسی صورتحال سے بچا جا سکے۔ ہنرمندی کی تربیت میں خواتین، دیہی آبادی اور پرانے کارکنوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ کم آمدن کے حامل کارکنان کام بدلنے کی صورت میں سب سے زیادہ غیرمحفوظ ہوتے ہیں کیونکہ ان پر دوسروں کی نسبت زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔ اس لیے نئے ہنر سکھانے اور افرادی قوت کے پروگراموں میںکم آمدن کے حامل کارکنوں کی انفرادی ضرورتوں کی بھی مدنظر رکھا جائے۔ فنی و پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت کے نظام کو لیبر مارکیٹ میں آنے والی جدت اور تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ وسائل اور معیار کے لحاظ سے ہمارا فنی اور پیشہ وارانہ تربیت کا نظام بہت پیچھے ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ نظام مستند تدریسی عملے اور طلبہ کو راغب کرنے کا اہل نہیں ہے۔ طلبہ اور والدین بھی رسمی اعلیٰ تعلیم کے لیے فنی و پیشہ وارانہ تربیت کوکمتر آپشن تصور کرتے ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ فنی و پیشہ وارانہ تربیت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اقدامات کرے تاکہ ہنرمندی کے فروغ میں ڈیجیٹل مہارتوں کے خلاء کو پر کیا جا سکے۔(بشکریہ ،دی نیوز،ترجمہ:راشد عباسی)