کیا جانئے تونے اسے کس آن میں دیکھا

اب تو شیکسپیئر کی سوچ پر بھی شک ہونے لگا ہے جس نے گلاب کو کسی بھی نام سے پکارنے کے باوجود خوشبو کے فلسفے کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا کہ چاہے گلاب کو کسی بھی نام سے پکارو اس کی مہک وہی رہے گی ‘ مگر یہاں تو یار لوگوں نے بے چارے گلاب کو تباہی اور بربادی سے جوڑ لیا ہے ‘ جی ہاں خبر آئی ہے کہ ”تائوتے” اور ”یاس” کے بعد 2021ء میں ایک تیسرا سمندری طوفان سر اٹھا رہا ہے جسے پاکستانی ماہرین موسمیات نے گلاب کا نام دے دیا ہے ‘ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سردار سرفراز کے مطابق امکان ہے کہ سائیکلون مغرب کی جانب سے بڑھ کر ”وشا کا پیٹنم” کو عبور کرے گا جو بھارتی راست آندھرا پردیش کی بندر گاہ اور صنعتی مرکز ہے ‘ اس کی شدت البتہ زیادہ نہیں ہو گی کیونکہ یہ مختصر مدت یعنی 24سے36 گھنٹے کے لئے ہو گا۔ سردار سرفراز کے مطابق ستمبر کے مہینے میں طوفان بننا غیر معمولی بات ہے یہ عام طور پر مون سون سے قبل یا بعد میں وجود میں آتے ہیں ‘سردار سرفراز کے مطابق ستمبر کے مہینے میں طوفان بننا غیرمعمولی بات ہے یہ عام طور پر مون سون سے قبل یا بعد میں وجود میں آتے ہیں ‘ سردار سرفراز کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ سمندری طوفان اپریل سے جون یا اکتوبر اور نومبر میں بنتے ہیں جبکہ ستمبر میں مون سون کا طویل سلسلہ بھی غیر معمولی ہے ‘ ستمبر میں ایسا بہت کم ہوتا ہے جو تاریخی ہے ‘ لیکن یہ ہمارے ملک میں پانی کے بحران کو کم کرنے کا باعث بنا کیونکہ اگست میں ملک کو بارشوں کی کمی کا سامنا رہا ۔ سردارسرفراز کے اس فرمان نے 81ء میں کہی ہوئی اپنی ایک غزل کی یاد آگئی ہے اس کے ایک دو شعر آپ کی نذر کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے ۔
کھل رہے ہیں ترے بدن کے گلاب
انجمن انجمن سخن کے گلاب
مشکبو ہیں تمہاری یادوں سے
میرے ہر تار پیرہن کے گلاب
تری تنہائیوں کے موسم میں
خار بھی مل رہے ہیں بن کے گلاب
اب تک جو سمندری طوفان سامنے آئے ہیں ان کی وجہ سے تو جو تباہی دنیا کے مختلف علاقوں(جہاں جہاں سے یہ گزرے ہیں( میں مچی ہے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے ‘ چند برس پہلے کا ایک طوفان جسے سونامی کا نام دیا گیا تھا اس نے اپنی گزر گاہ والے ممالک میں تو جو بربادی مچائی اس کے بعد یہ لفظ سونامی ایک استعارہ بن کر رہ گیا اور اب دنیا بھر میں جہاں جہاں سماجی ‘ سیاسی ‘ معاشی ‘ ثقافتی بربادی آتی ہے اسے ”سونامی” کا نام دیدیا جاتا ہے ‘ اس حوالے سے پاکستانی معاشرے کو گزشتہ چند برس کے دوران جن حالات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اب بھی پڑ رہا ہے اس کی وجہ سے اب تو بچے بچے کی زبان پر( اپنی اپنی سوچ کے مطابق) لفظ سونامی کا ورد جاری رہتا ہے ‘ اس لئے تو ہم نے کالم کے آغاز میں شیکسپیئر کی سوچ کو”فرسودہ” قرار دیتے ہوئے اس پر شکل کیا ‘ کہ اسے اگر یہ معلوم ہوتا کہ آنے والے ایک دور میں لوگ سمندری طوفان کو بھی گلاب کا نام دیں گے تو وہ اپنے”گلاب والی خوشبو” کے نظریئے سے دستبردار ہو جاتا ۔ اگرچہ بہزاد لکھنوی نے یہ بھی تو کہا تھا کہ
آنا ہے جوطوفان آنے دوکشتی کا خدا خدا حافظ ہے
مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آجائے
تاہم اسے شاعر کے تخیل سے زیادہ کی اہمیت نہیں دی جا سکتی کہ بھلا ساحل کبھی خود موجوں سے ٹکرایا ہے ‘ یا اس نے موجوں کا استقبال کیا ہے ‘ اسی لئے تو حضرت انسان نے ہمیشہ اپنی بستیاں ساحلوں سے قدرے دور ہی بسا رکھی ہیں مگر اسے پھر بھی ہمیشہ یہ خطرہ پریشان رکھتا ہے کہ کہیں طوفان اس قدر غضبناک نہ ہوجائے کہ بستیوں کو ویران کر جائے اور پھر شاعر کو یہ کہنا پڑے کہ دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں ‘ بہرحال پاکستانی محکمہ موسمیات نے آنے والے سمندری طوفان کو گلاب کا نام کیوں دیا ‘ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس نے پاکستانی ساحلوں سے نہیں ٹکرانا اور بھارت میں بھی ریاست آندھرا پردیش کی بندر گاہ سے اس کے ٹکرانے کی شدت کم کم ہی بتائی ہے کیونکہ اس کا دورانیہ چوبیس سے چھتیس گھنٹے بتایا جا رہا ہے مگر یہ تو ”گلاب” کے گزرنے کے بعد ہی آندھرا پردیش کی بندر گاہ اور اس کے ساحلی علاقوں خصوصاً وہاں قائم صنعتی بستی کے لوگ ہی بتا سکیں گے کہ بقول شاعر کیا جانئے تونے اسے کس آن میں دیکھا ‘ اور جہاں تک سندھ (پاکستان) میں جاری مون سون کے سلسلے کے حوالے سے اس کے سائیکلون بننے کا تعلق ہے تو موصوف کے خیال میں ہمارے ساحلی علاقوں میں اس کا سائیکلون کی شکل اختیار کرنا بعید از امکان ہے ‘ کیونکہ مون سون کا یہ سلسلہ بحیرہ عرب اور بھارتی گجرات میں گردش کا باعث ہے ‘ انہوں نے بھارتی محکمہ موسمیات آئی ڈی ایم کی جانب سے 1990ء سے 2021ء تک کے جاری کردہ سائیکلون ڈیٹا کاحوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ستمبر کے مہینے میں صرف چودہ سائیکلون بنے ہیں جن میں 2011ء سے2021 کے دوران ”گلاب” سمیت صرف تین طوفان گزرے ہیں ‘ جن کے نام ”تائوتے ”اور ”یاس” ہیں۔ اس نئے سمندری طوفان گلاب کے بارے میں تو معلومات ہمیں مل گئی ہیں البتہ تائوتے ‘ اور یاس سے تو ہم بالکل ہی بے خبر رہے کہ کب آئے اور کب گزر گئے یعنی وہ ایک پی ٹی وی کے مزاحیہ پروگرام میں عرصہ پہلے نشر ہوئے مزاحیہ مشاعرے میں معین اختر نے بطور شاعر جو کلام سنایا تھا یہ بالکل وہی صورتحال لگتی ہے کہ
کیا وہ ٹرک گزر گئے
ہاں وہ ٹرک گزر گئے
کیا وہ سڑک ہوئی تمام
ہاں وہ سڑک ہوئی تمام
اب یہ بات وثوق کے ساتھ تو نہیں کہی جا سکتی کہ وہ جو تائوتے اور یاس گزر گئے ہیں ان کے بعد”گزرگاہوں” کی کیا صورت تھی ‘ مگر چلو اس بات پر تو اطمینان کا اظہار کیا جا سکتا ہے کہ ”گلاب” بھی پاکستان کے ساحلی علاقوں سے ”ہیلو ہائے”کہنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا ‘ شاید اسی وجہ سے پاکستانی محکمہ موسمیات نے اسے ”گلاب” کا نام دیا ہے ‘ اور محکمے کے ماہرین نے اختر بیخود مراد آبادی کے اس شعر میں پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کی ہو کہ
سرد موسم ‘ دھوپ ‘ بارش ‘ بجلیاں
اب ہمیں سب کچھ گوارا ہوگیا!