Idharya

ایندھن کی قیمتوں سے جڑی مہنگائی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بارپھر اضافہ کردیاگیا ہے۔جس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں8 روپے82پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔علاوہ ازین حکومت نے ایل پی جی کی قیمت میں 29روپے فی کلو اضافہ کر دیا ہے۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)نے قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس کے مطابق ماہ اکتوبر کے لیے ایل پی جی کی نئی قیمت 29 روپے اضافے کے بعد203روپے فی کلو گرام مقرر کی گئی ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق گھریلو سلنڈر343روپے مہنگا ہوا ہے، 11.8کلو گرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت2304روپے مقرر کی گئی ہے۔سرمنڈھاتے ہی اولے پڑے کے مصداق آٹے کی قیمتوں میں ایک مہینے کے دوران تیسری مرتبہ اضافہ ہوا ہے، اشرف روڈ ، رامپورہ ، فقیر آباد ، سمیت شہر کے مختلف مقامات پر بڑے بڑے ڈیلرز نے پہلے سے موجود آٹا بھی نئی قیمتوں پر فروخت کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ آئندہ سے 85کلو وزن والی بوری کی بجائے 80کلو آٹے کی بوری پلاسٹک کی بوریوں میں آئے گی85کلو آٹے کی بوری کی قیمت5700روپے سے بڑھ کر6 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، مکس آٹا 1220روپے بیس کلو سے 1320روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ پرچون میں 1350روپے میں فروخت ہو رہا ہے ۔ آٹے کی قیمت میں اضافہ کے ساتھ ہی نانبائیوں نے بھی روٹی کاوزن کم کر دیا ہے ۔دریںاثناء آٹے کی قیمتوں سے متعلق کیس کے دوران سماعت جسٹس قیصررشید نے ریمارکس دیئے کہ ملک کے حالات اتنے خراب ہیں کہ گندم اور چینی میں خود کفالت کے باوجود اب ہمیں یہ درآمد کرنا پڑ رہی ہے، مہنگی گندم اور چینی درآمد کرنے سے بوجھ غریب پر پڑے گا۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے قیمتیں مزید بڑھیں گی پتہ نہیں حکومت کس طرف جا رہی ہے۔چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ مہنگے داموں گندم اور چینی برآمد کرکے اب یہ عوام کو مہنگے داموں ہی فروخت کریں گے اس کے علاوہ کوئی مکینزم نہیں، یہاں پر تو غریب کو ایک وقت کی روٹی تک میسر نہیں بعد ازاں عدالت عالیہ نے انتظامیہ کو گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔ مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے ہر بار کی طرح اس بار بھی مہنگائی کا ایک شدید ریلہ متوقع ہے جو عوام کیلئے سخت مشکل کا باعث ہونا فطری امر ہو گا۔ مہنگائی میں کمی لانے کی ہر سعی مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کے مصداق بنتا ہے مسائل کی جڑ یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے جن شرائط کے تحت پاکستان کو قرضہ دیا تھا اس پر حکومت پورے زور و شور سے عمل پیرا ہے یہی وجہ ہے کہ بجلی ‘ تیل اور گیس کی قیمتوں میں نہ رکنے والا اضافہ جاری ہے آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے ے ذریعے ایک سو چالیس ارب روپے ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف دیا تھا جنرل سیلز ٹیکس کی شرح بھی بڑھانے کی شرط رکھی گئی تھی۔گیس صارفین سے مزید پچاس ارب روپے جمع کیا جانا تھا تیل کے نرخ تو خیر سے عالمی منڈی سے منسلک ہیں اور ہر مہینے ان کی قیمتوں کا اسی حساب سے تعین ہوتا ہے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر جس طرح گھٹتی جائے گی تیل کی قیمتوں میں اسی حساب سے مزید اضافہ کرنا پڑتا ہے تیل کی قیمتوں پر ٹیکسوں کی شرح اس قدر زیادہ ہے کہ حکومت اگر ٹیکس کم کرنے پر آمادہ ہو تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ٹھہرائو آسکتا ہے مگر حکومت ایسا کرنے کو تیار نہیں تیل اور گیس کی قیمتوں کا براہ راست اضافہ برآمدات پر بھی پڑتا ہے کیونکہ مصنوعات مہنگی ہونے پر بین الاقوامی مارکیٹ میں خریدار نہیں ملتے گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کی برآمدات میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہماری اشیا کا عالمی منڈی میں مہنگا ہونا ہے اس امر کے اعادے کی چند ان ضرورت نہیں کہ پٹرولیم مصنوعات ایل پی جی اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ سے ملک میں ہر چیز مہنگی ہوگی اور قیمتوں کو پر لگ جائیں گے۔ عدالت تک کی جانب سے صورتحال کے حوالے سے جو سخت ریمارکس دیئے گئے ہیں وہی کافی ہیں۔ عوام کی حالت کیا ہے اور عوام کے جذبات کیاہیں اس کے اعادے کی ضرورت نہیں۔ارباب اختیار کا مہنگائی کو عارضی قرار دینا طفل تسلی سے کم نہیں ان کو چاہئے کہ مہنگائی کو مستقل مسئلہ تسلیم کرتے ہوئے اس میں کمی لانے کے اقدامات کریں لوگ خدانخواستہ بھوک سے مرنے لگیں تو پھر یقین کرنے کا کیا فائدہ؟۔