Arif bahar

ہندو تواجبڑے ،تقریریں اور ڈوزئیر

بھارتی وزات داخلہ نے اپنی ویب سائٹ پر اڑتیس صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں پانچ اگست 2019کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیر میں بہنے والی دودھ اور شہد کی فرضی نہروں کا ذکر کیا گیا ہے ۔مگر سب سے اہم او ر چونکا دینے والی بات یہ ہے اس فیصلے کو ہند وتوا مائنڈ سیٹ کو ایک سیاسی چہرہ دینے والے لیڈر راما پرساد مکھر جی کے خواب کی تعبیر کہا گیا ہے ۔ایک انگریزی نیوز پورٹل”دی کشمیر والا”کے مطابق اس فیصلے کو ایک ودھان ایک پردھان ایک نشان کے اس خواب کی تعبیر کہا گیا ہے جو راما پرساد مکھر جی نے دیکھا تھا ۔اس رپورٹ میں ان دعوئوں کا ایک طومار باندھا گیا ہے جن کے مطابق پانچ اگست کے بعد کشمیر میں تعمیر وترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے ۔رپورٹ کے مطابق ریاست کا اپنا جھنڈا آئین اور زمینوں اور ملازمتوں کو تحفظ دینے والے قوانین ختم کر دئیے گئے ہیں ۔ان میں ایک سو چونسٹھ قوانین ختم کئے گئے ہیں جبکہ ایک سو ستاسٹھ کو ترامیم کے ساتھ اپنایا گیا ہے۔کشمیر کے آزاد ذرائع اور گپکار لائنس نے ان دعوئوں کو قطعی مسترد کیا ہے اور ان کے مطابق پانچ اگست کے بعد کشمیر کی سیاحت،تجارت،ہینڈی کرافٹ ،زراعت ،ہارٹی کلچر سیکٹرز بری طرح متاثر ہوگئے ہیں ۔راما پرساد مکھر جی پنڈت نہرو کی پہلی کابینہ کا حصہ تھے ۔یہ بنگال کے ایک سخت گیر ہندو تھے جو ہندو بالادستی پر یقین رکھنے کے علاوہ بھارت کو ایک ہندو راشٹریہ سمجھتے تھے ۔انہوںنے پنڈت نہرو سے اختلاف کی بنیاد پر کابینہ سے استعفیٰ دیا ۔پنڈت نہرو کانگریس میں سیکولرازم اور سوشلزم کے علمبردار تھے تو سردار پٹیل اور شیاما پرساد مکھرجی جیسے لوگ ہندوتوا اور سخت گیری کے علمبردار تھے ۔کشمیر کو خصوصی شناخت دینے پر نہرو سے ان کا اختلاف ہوااور یہی بات آگے چل کر استعفے کی وجہ بنی ۔مکھر جی نے 1950میں بھارتیہ جنتا پارٹی بنائی اور ایک سال بعد راشٹریہ سیویم سیوک سنگھ کے تعاون سے بھارتیہ جنتا پارٹی تشکیل دی ۔اس پارٹی کے مقاصد میں کشمیر کی خصوصی شناخت کا خاتمہ شامل رہا ۔پنڈت نہرو نے کشمیر کو آئین میں خصوصی شناخت دینے کی طرف پیش قدمی کی جس کا وعدہ وہ مہاراجہ ہری سنگھ اور شیخ عبداللہ سے کرچکے تھے ۔اس پر انتہا پسند ہندو سیخ پا اور راما پرساد مکھرجی نے ایک ودھان ایک پردھان کا نعرہ یعنی ایک قوم ایک آئین ایک جھنڈا کا نعرہ لگاکر کشمیر میں داخل ہونے کی کوشش کی ۔شیخ عبداللہ کی حکومت نے راما پرسا د مکھر جی کو کشمیر کی حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے پر گرفتار کرکے جیل میں ڈالدیا اوراس کی موت جیل میں ہی واقع ہوئی ۔اس موت کو بہانہ بنا کر انتہا پسندوں نے دہلی میں شیخ عبداللہ کی برطرفی کے لئے سازشوں کا جال بننا شروع کیا ۔1953میں یہ سازشیں کامیاب ہوئیں اور شیخ عبداللہ کو عہدے سے برطرف کرکے قید کر لیا گیا اور اس کے بعد ریاست کی خصوصی شناخت کے خاتمے کی طرف تیز رفتار پیش قدمی کا آغاز ہو گیا ۔اس سفر کی تکمیل پانچ اگست 2019کو ہوگئی ۔بھارت نے طویل سفراور مشقت کے بعد اپنا ہدف حاصل کر لیا مگرکشمیر اور پاکستان اپنے ہدف سے کوسوں دور ہیں ۔اب کشمیر ہندو توا کے خونیں مگرمچھ کے جبڑوں میں جکڑا گیا ہے۔یہ رپورٹ اگر کسی سیاسی جماعت کی ہوتی تو اسے نعرے بازی اور کریڈٹ کا چکر کہا جا سکتا تھا مگر یہ حکومت وقت کی رپورٹ ہے جس سے بھارت میںاعلیٰ ترین فیصلہ سازوں کی ذہنیت واضح ہو رہی ہے ۔اس سے صاف لگتا ہے کہ بھارت کشمیر پر کوئی رو رعائت دینے کو تیار نہیں ۔وہ کشمیر کو مکمل ہضم کرنے کے بعد اسے قبل از اسلام کی ہندو ریاست کے طور پر بحال کرنا چاہتا ہے ۔اب تو سخت گیر ہندو اور کشمیری پنڈت یہ کہنے لگے ہیں کہ کشمیر کا اسلام سے کیا تعلق یہ تو جبری طور پر مذہب بدلنے والی آبادی تھی ۔یہ وہی سٹائل ہے کو اسرائیل نے فلسطین میں اپنایا ہوا ہے ۔اس مائنڈ سیٹ اور اس جکڑ بندی کو اب خوبصورت تقریروں سے توڑنا اور بدلنا ممکن نہیں رہا ۔کشمیر کی معروف صحافی نعیمہ احمد مہجور نے وزیر اعظم عمران خان کی جنرل اسمبلی میں خوبصورت اور استدلال بھری تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ پلوامہ کی ایک خاتون نے یوٹیوب پر عمران خان کی تقریر سننے کے بعد کہا کہ اسے اس تقریر کی اثر پزیری کا یقین اس وقت آئے گا کہ جب اس کے گھر کے ساتھ فوجی چھائونی ختم ہو گی اور سرشام ہی اس بستی کو خاردار تاروں میں مقید کرنے کا عمل رک جائے گا ۔گویا کہ زمینی حقائق کو بدلے بغیر اب معاملات آگے نہیں چل رہے ۔بھارت اپنے فیصلے پر قائم اور ہدف کی جانب رواں دوں ہے ۔اب اس عمل کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کو کیا کرنا ہے ؟اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔کم ازکم بھاری بھرکم ڈوزئیر اورتقریروں سے تو مگرمچھ کے جبڑوں کو ہر گز توڑا نہیں جا سکتا ۔اس کے لئے بہرحال جبڑوں کو اس انداز سے پکڑنا لازمی ہوگا کہ کشمیر کو نگلنے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکے۔اب کشمیری عوام کو اس لمحے کا انتظار ہے ۔