Shazray

انسداد ڈینگی مہم میں تاخیر کے نقصانات

یبر پختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی کے سب سے زیادہ یعنی 304مریضوںکی تشخیص ہوئی ہے۔ پنجاب، سندھ اور اسلام آباد میں بھی بڑی تعداد میں ڈینگی کے مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ توقع تھی کہ برسات کے گزرنے کے بعد ڈینگی میں کمی آئے گی لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ ڈینگی کے مریضوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور ڈینگی کا گڑھ بن چکا ہے، گذشتہ روز محض پشاور میں ڈینگی کے 99مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔
امر واقعہ یہ ہے کہ گذشتہ برسوں میں ڈینگی صوبے میں خوفناک تباہی مچا چکا ہے جس میں سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہوئی تھیں، اس کے بعد ہر سال برسات سے پہلے محکمہ صحت کی انسداد ڈینگی ٹیمیں گھروں کا سروے کرتی تھیں جس سے چند سال ڈینگی میں کمی ریکارڈ کی گئی لیکن بدقسمتی سے امسال انسداد ڈینگی مہم کی طرف خاص توجہ نہیں دی گئی ، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ڈینگی بے قابو ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جو کام معمولی توجہ اور اقدامات سے حل ہو جانا تھا ، محکمہ صحت کی غفلت سے وہ کام خوف ناک شکل اختیار کر چکا ہے، خیبر پختونخوا کی ہی بات نہیں پورے ملک میںڈینگی سے متاثرین کی تعداد سینکڑوں سے تجاوز کر چکی ہے۔ مسلم لیگ ن کے گذشتہ دور میں جب ڈینگی بے قابو ہوا اور سینکڑوں افراد ڈینگی کی وجہ سے لقمۂ اجل بنے تھے تو اس وقت ہی ڈینگی کا مؤثر علاج کا انتظام ہو گیا تھا ، یہ علاج ہلاکتوں میں کمی کا سبب بنا اور سینکڑوں متاثرین صحت یاب ہوئے، بروقت انسداد ڈینگی مہم کا آغاز نہ کرنے اور لاروا تلف نہ کرنے کی وجہ سے مریضوں کو اذیت سے گزرنا پڑتا ہے، کیونکہ متاثرہ شخص کے سفید خلئے حد درجہ تک گر جاتے ہیں، جس کی وجہ سے مریض نقاہت کا شکار ہو جاتا ہے، اگر ڈریپ کے ذریعے بروقت سفید خلئے نہ بڑھائے جائیں تو مریض کی جان بھی جا سکتی ہے۔ اس مشکل صورت حال کا سامنا صرف اس وجہ سے کرنا پڑتا ہے کہ انسداد ڈینگی مہم کی طرف توجہ نہیں دی گئی ، ضرورت اس امر کی ہے کہ جب تک ڈینگی کا مکمل سدباب نہیں ہو جاتا تب تک انسداد ڈینگی مہم کو ریاستی سرپرستی میں جاری رکھنا ہو گا کیونکہ کورونا کی طرح اس کی خاص حفاظتی تدابیر نہیں ہیں، ایک مچھر کسی بھی انسان پر بیٹھ کر اسے متاثر کر سکتا ہے، ہمیں ڈینگی لاروا کے تلف کی طرف خاص توجہ دینی ہو گی تاکہ عوام کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ووٹر لسٹوں کا تصدیقی عمل
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ووٹر لسٹوں میں مبینہ طور پر بے ضابطگیوں کے خلاف ملک بھر میں قومی اسمبلی کے 56 سے زائد حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کے لیے گھر گھر تصدیقی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ووٹوں کی تصدیقی مہم مارچ 2022 تک جاری رہے گی ، جب کہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر ڈائریکٹر ایم آئی ایس کو معطل کر کے ان کے خلاف باضابطہ انکوائری بھی شروع کر دی گئی ہے۔
شفاف انتخابات کے لیے ضروری ہے کہ ووٹر لسٹیں بے ضابطگیوں سے پاک ہوں، یہ کام اگرچہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا کیونکہ 2017ء میںمردم شماری ہوئی تھی تو اس پر متعدد سیاسی جماعتوں و حلقوں کو تحفظات تھے، اسی طرح مردم شماری کے نتیجے میں حلقہ بندیاں تبدیل ہوئیں تو اس پر بھی تحفظات موجود ہیں، لیکن آج تک ان تحفظات کے تدارک کی سنجیدہ سعی سامنے نہیں آ سکی ہے، اب جبکہ مردم شماری کو پانچ سال کا عرصہ بیت چکا ہے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے ووٹر لسٹوں کی تصدیق کے لیے مہم شروع کی گئی ہے تو امید کی جانی چاہیے کہ ووٹوں کی تصدیق کا عمل مقررہ تاریخ میں پورا ہو جائے گا، ووٹر لسٹوں کی تصدیق شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ضروری ہونے کے ساتھ ساتھ فنڈز کی تقسیم اور شفافیت کے لیے بھی نہایت ضروری ہے، کیونکہ فنڈز کی تقسیم آبادی اور حلقہ بندیوں کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے، اگر مردم شماری پر تحفظات کا ازالہ نہ کیا گیا تو پھر یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ انتخابات کے غیر شفاف ہونے کے علاوہ فنڈز کی تقسیم بھی منصفانہ طریقے سے نہ ہو سکے گی ۔ عجیب بات یہ ہے کہ جن 56 حلقوںمیں آبادی سے زیادہ ووٹوں کے اندراج کا انکشاف ہوا ہے، وہ صوبہ سندھ میں ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ کام ایک منظم طریقے سے اور خاص مقصد کے لیے کیا گیا ہے ، سو ضروری ہے کہ ووٹر لسٹوں کی شفافیت کے ساتھ ساتھ ان چہروں کو بھی سامنے لایا جائے جو اس بے ضابطگی میںملوث تھے۔
ذیابیطس کے تدارک کیلئے اقدامات کی ضرورت
بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (آئی ڈی ایف) نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے دنیا میں تیسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ اس وقت پاکستان میں ذیابیطس مریضوں کی تعداد 3کروڑ 30 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران شوگر کے مریضوں میں ایک کروڑ 40 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے، ماہرین نے ذیابیطس مریضوں میں اضافہ کی بڑی وجہ ورزش اور جسمانی مشقت سے دوری قرار دی ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان 22کروڑ آبادی کا بڑا ملک ہے، اس قدر آبادی کے حقیقی مسائل سے آگاہ رہنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ شہریوں کی صحت سے متعلق لاحق خطرات سے آگاہی فراہم کرنے سے عوام مہلک بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں، سو فلاحی ریاستیں وقتاً فوقتاً مختلف قسم کی آگاہی مہم کا آغاز کرتی رہتی ہیں، مگر پاکستان جیسی ریاستوں میں عموماً دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب مسئلہ خوفناک حد تک بڑھ جاتا ہے اور کروڑوں لوگ متاثر ہو جاتے ہیں تو ریاست بیدار ہوتی ہے ، تب تک پانی سر سے اوپر ہو چکا ہوتا ہے ، ابتداء میں جس مہم پر محض چند لاکھ یا چند کروڑ روپے خرچ آنے ہوتے ہیں ، مسئلے میں شدت آنے کے بعد اربوں روپے خرچ کر کے بھی اس کا تدارک آسان نہیں ہوتا ہے۔ اب شوگر کو ہی لے لیجئے، ساڑھے تین کروڑ لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں ، وفاقی وزیر صحت اور محکمہ صحت کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو اس موذی اور جان لیوا مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔