ہم کہاں کھڑے ہیں؟

جرمنی نے ڈرائیور کے بغیر چلنے والے ٹرین متعارف کرا دی ہے، جرمن ریل کمپنی ڈویچے بان اور صنعتی گروپ سیمنز کے اشتراک سے تیار ہونے والی اس ٹرین کو ڈرائیور کے بغیر چلنے والی دنیا کی پہلی ٹرین بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ خود کار نظام ہونے کی وجہ سے یہ ٹرین وقت کی زیادہ پابند ہو گی، تیس فیصد زیادہ مسافر لے جانے سمیت تیس فیصد توانائی کی بچت کریں گی۔ یہ سہولت جرمنی کے شہریوں کو دسمبر میں دستیاب ہو سکے گی، جرمنی ریلوے سسٹم دنیا کا سب سے جدید اور بہترین ریلوے نظام ہے، ماحول دوست اور عوام کو سستے سفر کی سہولت فراہم کرنے کے علاوہ جرمنی ایندھن کی بچت کرنے والے سرفہرست ممالک میں شامل ہے، دیگر یورپی ممالک میں اگرچہ ڈرائیور کے بغیر ٹرین سروس کا آغاز نہیں ہوا ہے مگر وہاں کے ریلوے نظام کو دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے، بلٹ ٹرین کو لانچ ہوئے بھی برسوں بیت چکے ہیں، جو عوام کو سستے اور آسان سفر کی سہولت فراہم کر رہی ہیں، ریلوے کا یہ جدید نظام ٹریفک کے ہنگام کو قابو کرنے میں مفید ثابت ہوا ہے، جس سے عوام کو ریلیف پہنچنے کے علاوہ ایندھن کی بھی بچت ہوتی ہے۔ پاکستان کا ریلوے نظام جدید خطوط پر استوار ہوتا تو ماحول دوست سفر ہونے کے علاوہ عوام کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑ رہا ہوتا، اگر ہم صرف بڑے شہروں کی بات کریں تو شہر کے اندر ہی گھنٹوں سفر کرنا پڑتا ہے جس سے پورا دن برباد ہو جاتا ہے، تمام سرکاری و غیر سرکاری دفاتر شہر کے مرکز میں ہوتے ہیں، جہاں جانے کی دو ہی صورتیں ہوتی ہیں کہ اپنی گاڑی میں جائیں یا پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریں ، جو سوسائٹیاں نئی آباد ہو رہی ہیں یا کچھ ہی عرصہ میں ہوئی ہیں جیسے کہ بحریہ ٹاؤن ، ڈی ایچ اے وغیرہ تو وہاں کے مکینوں کو ٹرانسپورٹ کے ناقص نظام کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس طرح شہروں کی آبادیاں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہیں اگر اس دوران عوام کی ضروریات کا خیال رکھ کر منصوبہ بندی کر لی جاتی تو ہمارے مسائل کسی قدر کم ہوتے، آپ اندازہ لگائیں کہ بحریہ ٹاؤن یا اس سے بھی آگے رہنے والے شہری کس طرح کی اذیت سے گزرتے ہیں،گزشتہ دور حکومت میں میٹروکا بندوبست کیا گیا مگر اس سے بھی دس فیصد سے کم لوگ مستفید ہو رہے ہیں اگر اس کی بجائے ریلوے کو بہتر کرنے پر توجہ دی جاتی اور پورے شہر کے اہم علاقوں کو اس سے منسلک کیا جاتا تو لوگ اپنی گاڑی پر سفر کر کے ایندھن ضائع کرنے کی بجائے ٹرین پر سفر کرنے کو ترجیح دیتے لیکن یہ اس وقت ہوتا جب یورپی ممالک کی طرح ہمارے ہاں ریلوے کا بہترین نظام ہوتا۔ بھلا کون نہیں چاہے گا کہ اپنی گاڑی میں ہزار دو ہزار روپے کا تیل جلانے کی بجائے تیس چالیس روپے میں معیاری کی سہولت سے فائدہ اٹھائے۔اس کے برعکس دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے انگریز ریلوے کا جو نظام ہمیں دے کر گیا تھا اسے اپ گریڈ کرنا تو درکنار ہم اس کی بھی حفاظت نہیں کر سکے ہیں۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ گزشتہ پچھتر برسوں میں ہم نے کچھ بنانے کی بجائے بگاڑا ہی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایوب خان کے دور میں پاکستان نے جرمنی کو بیس سال کیلئے12 کروڑ روپے قرض دیا تھا،اس مہربانی پر جرمن چانسلر نے حکومت پاکستان کا باقاعدہ شکریہ ادا کیا وہ خط آج بھی وزارت خارجہ کے آرکائیو میں محفوظ ہے۔ مشکل حالات میں جرمنی نے پاکستان سے دس ہزار ہنر مند افراد مانگے لیکن پاکستان نے اپنے ہنر مند افراد جرمنی کو دینے سے انکار کر دیا کیونکہ اس وقت پاکستان کے حالات بہت بہتر تھے، لوگ بھی پاکستان چھوڑ کر کسی دوسرے ملک جانے کیلئے آمادہ نہیں تھے۔ جرمنی نے گزستہ پچاس سالوں میں زیرو سے لیکر اس قدر ترقی کی ہے کہ آج وہ دنیا کی معیشت بن چکا ہے اور جرمنی کو قرض دینے والا پاکستان کہاں کھڑا ہے اسے سمجھنے کیلئے افلاطون کی عقل کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے محنت کش پوری دنیا میں اپنی شہرت رکھتے ہیں، پاکستانی ڈاکٹروں کی دنیا بھر میں مانگ ہے، ہماری حکومت بیرونی محنت کشوں کی آمدن کو پاکستانی معیشت کیلئے اہم قرار دیتی ہے، اسی طرح اگر چین کے محنت کشوں کی بات کی جائے تو وہ کسی دوسرے ملک جا کر محنت کرنے کی بجائے اپنے ملک میں کام کو ترجیح دیتے ہیں اور چینی ہنر مندوں کی وجہ سے سرمایہ کار چین میں سستی لیبر کی وجہ سے سرمایہ لگانے کیلئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانا چاہتے ہیں، چین کی ترقی کو ہنر مندوں کی محنت کا صلہ قرار دیا جا رہا ہے، اس حوالے سے دیکھا جائے تو ہم کہاں کھڑے ہیں، ہم نے کیا کمایا ہے اور کیا کھویا ہے اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ جائزہ لئے بغیر کوئی بھی قوم آگے نہیں بڑھ سکتی ہے۔