افغان حکومت کی دستگیری کی ضرورت

امریکا نے ایک بار پھر افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے سے انکار کرکے افغانستان کو غیر مستحکم رکھنے کی چال چلی ہے ان کا امریکی بینکوں میں افغانستان کے 10بلین ڈالرز کو مستقبل قریب میں بحال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال میں ہم طالبان کو ان پیسوں تک رسائی نہیں دیں گے ان کا کہنا تھا کہ طالبان پر دبائو برقرار رکھنا ضروری ہے کہ افغانستان کے عوام کو نقصان نہیں پہنچنا چاہئے۔تاہم نائب وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے عوام کو انسانی بنیادوں پر امداد کے لئے نئے راستے لازمی تلاش کرنے چاہئیں، ہم افغان عوام کے لئے انسانی بنیادوں پر امداد جاری رکھیں گے۔افغانستان میں استحکام عالمی امن کے لئے بنیادی طور پر اہم ہے۔ گزشتہ دو تین عشروں کے دوران افغانستان سے اٹھنے والے خطرات نے دنیا کو جس طرح متاثر کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اسی صورتحال نے امریکہ کو افغانستان میں طویل مدتی مداخلت کا مو قع فراہم کیا۔ مغرب کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ افغانستان عالمی امن کے لئے خطرہ ہے اور اس خطرے کا تدارک کیا جانا ضروری ہے۔ دو عشرے اسی تدارک کے نام پر افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی جاتی رہی۔ بہرحال اس دور کا بھی اختتام ہونا تھا افغانستان میں داعش کا وجود اور اس عالمی دہشتگرد گروہ کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں علاقائی اور عالمی ممالک سبھی کیلئے یکساں پریشانی کا موجب ہیں ۔ افغانستان میں پلنے والے اس عالمی دہشتگردی کے خطرے کے تدارک کا یہی موقع ہے اور یہ اسی صورت ہو سکتا ہے اگر افغانستان میں ایک پائیدار اور مستحکم حکومت قائم ہو چنانچہ دنیا کے پاس اس وقت بہترین آپشن یہی ہے کہ طالبان کے ساتھ معاملات کو بہتر انداز سے چلانے کے لئے تلخ یادداشتوں سے نکلے اور درپیش حالات کا ادراک کرنے کی کوشش کرے۔ اس موقع پر جب نئے افغانستان کو استحکام کی راہ پر چلنے کے لئے تعاون کی ضرورت ہے دنیا جس طرح اس عالمی سطح کے مسئلے سے بیگانہ ہوئی یہ حیران کن ہے۔ امریکہ افغانستان کی جنگ پر ہزاروں ارب ڈالر خرچ کر دئیے لیکن وہ افغانستان کے نئے دور میں استحکام کی غرض سے تعاون سے انکاری ہے۔ افغانستان کے جو مالیاتی وسائل مغرب کی دسترس میں تھے وہ روک لئے گئے امدادی اداروں کے عطیات بھی معطل ہو گئے ایسی صورتحال کہیں بھی ہو خلفشار پیدا کرتی ہے اور ایسا ماحول انتہا پسند گروہوں کے لئے زرخیز ثابت ہوتا ہے۔ افغانستان اس وقت اسی خطرے سے دوچار ہے۔دنیا کو اس خطرے سے بچانے کیلئے طالبان کو امور جہانبانی میں کھپانے اور انہیں یہ احساس دلانے کی ضرورت تھی کہ اب وہ ایک مزاحمتی گروہ نہیں ایک ملک کی ذمہ داریاں ان پر ہیں اور اس غرض سے افغان عوام اور دنیا ان کی جانب دیکھ رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان نے جو وعدے کئے تھے وہ ابھی تک پورے نہیں ہوئے اور انہیں اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے پھر بھی افغان عوام کی ضروریات سے پہلوتہی اختیار نہیں کی جا سکتی ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف افغانستان کی حکومت کے منجمد اثاثے فوری بحال کئے جائیں بلکہ عالمی برادری افغانستان کی مالی مدد کرکے اسے معاشی مشکلات کے باعث عدم استحکام سے بھی بچائے۔
غفلت کی انتہا
گردے کے مریضوں کے علاج اور ادویات کے لئیفنڈز جاری کرنے کی درخواست کا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی راہداریوں میں تین ماہ تک زیر گردش رہنا اور اس بارے میں محکمہ خزانہ سے رابطہ کی زحمت نہ کرنا غفلت اور نااہلی کی انتہا ہے فنڈز دستیاب نہ ہونے سے گردے کے مریضوں کا علاج متاثر ہونا فطری امر ہے جبکہ وسائل کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں کو ضروری ادویات کی فراہمی بھی معطل ہے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس کی طرف بار بار توجہ دلانے کے باوجود توجہ نہیں دی جا رہی ہے قبل اس کے کہ ترقیاق از عراق آمدہ شود مار گزیدہ مردہ شود کے مصداق ہو جائے گردوں کے مریضوں کی ادویات و علاج کا معطل سلسلہ بحال کیا جائے۔
حیات آباد میں انسداد جرائم کیلئے کارگرنسخہ
حیات آبادکے سابق ناظم نے درست نشاندہی کی ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے بغیر حیات آباد کا سیکیورٹی پلان بے معنی ہے پولیس نے شہریوں کے دبائو پر چیکنگ کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ احسن ہے مگر پائیدار نہیں اور نہ اسے پویس تسلسل سے جاری نہیں رکھ سکتی لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ منظم منصوبہ بندی کی جائے حیات آباد سکیورٹی پلان ایک بہترین پلان ہے مگرجب تک اس منصوبے میں جب تک حیات آباد میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کو شامل نہیں کیا جاتا یہ سب بے سود ہو گا۔ٹیکنالوجی کی مدد سے نگرانی کا مسلسل عمل نت نئے قسم کے جرائم اور جرائم پیشہ افراد کے بدلے حربوں اور چالوں کا جائزہ لینے اور اسی کی مدد سے ان کو گرفتار کرنے کی ضرورت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے حیات آباد میں مضافات سے آنے والے جرائم پیشہ افراد اور منشیات فروشوں کی نشاندہی وگرفتاری کے لئے جن منظم انتظامات کی ضرورت ہے اس کے لئے پوری طرح فعال کیمروںکی ضرورت میں روز افزوں ا ضافہ ہو رہا ہے کار چوری ‘ رہزنی اور موبائل چھیننے کی اچانک وارداتوں میں ملوث عناصر کی اکثریت حیات آباد سے باہر سے آنے والے ملزموں اور واپس بھاگنے والوں کی ہوتی ہے مقامی طور پر بھی بعض بغلی سیکٹروں میں جرائم پیشہ افراد یا پھر ان کے سہولت کار اور ساتھی بستے ہیں نیز حیات آباد میں بدکاری کے اڈوں میں جرائم پیشہ افراد کچھ وقت گزار کر واردات کے وقت نکلنے کی سہولت کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں ان عوامل کی مسلسل مانیٹرنگ کے لئے کیمروں کی تنصیب اور شہریوں کی جانب سے لگائے گئے کیمروں سے حسب ضرورت استفادے کی ضرورت ہے تاکہ جرائم پیشہ افراد کا راستہ روکا جا سکے اور ان کی نشاندہی ہو سکے اور جرائم کا تدارک ممکن بنایا جا سکے۔