غزنی سے نواکھلی تک ردعمل کی لہریں

بنگلہ دیش میںمشتعل مسلمان آبادی اپنی ہم وطن ہند و آبادی پر حملے کررہی ہے ۔حقیقت میں یہ حملے بڑے ارمانوں سے اگائے گئے اس شجر پر ہیں جس کی ایک مشترکہ شاخ پر ہندواور مسلمان آبادی کو ”امار دیش تمار دیش بنگلہ دیش ” کا مسحور کن نعرہ لگایا تھا ۔خلاصہ یہ تھا کہ بنگال کا ہندو اور مسلمان ایک ہے اور اس کا مغربی پاکستان کے مسلمان سے کیا واسطہ ؟ پرتشدد واقعات کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک مندر میں مورتی کے قدموں میں قرآن پاک رکھنے کا واقعہ سامنے آیا ۔جس کے بعد کئی اضلاع اور شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور کئی مندروں کو جلا گیا ۔کئی افراد تشدد میں جاں سے گزر گئے اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوئے ۔حسینہ واجد بھارت اور بنگالی ہندوئوں کے احسانات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں اس لئے بنگلہ دیشی عوام کے اس طرز عمل پر ان کا مضطرب ہونا حکمران سے زیادہ احسانات کا فطری نتیجہ تھا مگر وہ مسلمانوں کے احتجاج کے آگے بے بس ہو گئیں ۔ سب سے دلچسپ بات حسینہ واجد کا تبصرہ ہے جس میں انہوں نے کہا بھارت اپنے ہاں انتہا پسندوں کو روکے اور یہ کہ بھارت میں ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ جو ہمارے ملک کو متاثر کرے اور اس کے نتیجے میں ہمارے ملک میں اقلیتوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے ۔حسینہ واجد کے اس تبصرے کا صاف اور آسان مطلب یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں اس وقت ہندو آبادی کے خلاف تشدد کی جو لہر چل پڑی ہے وہ بھارت میں انتہا پسندی کا ردعمل ہے یا اس انتہا پسندی سے آکسیجن حاصل کرتی اور نمو پاتی ہے ۔اس طرح حسینہ واجد ماضی کے تمام احسانات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے ملک میں رونما ہونے والے واقعات کی جڑ بھارت کی ہندو توا پالیسی میں تلاش کرکے دنیا کو حیرت زدہ کر دیا۔یہ چنداں غلط بھی نہیں آسام میں ایک مسلمان کی لاش پر اچھلنے والے صحافی کی ویڈیو نے دنیا کو دہلا دیا ہے ۔آسام میں ہندو توا پالیسی کا نشانہ بننے والے اکثر لوگ بنگالی مسلمان ہوتے ہیں۔یہ وہ بنگلہ دیش ہے جہاں اندراگاندھی نے دو قومی نظریے کوخلیج بنگال میں غرق کر دینے کا فاتحانہ اعلان کیا تھا ۔نریندر مودی کی شخصیت کا” اعجاز ”ہے کہ وہ اس ٹائٹینک کی باقیات کی طرح دوقومی نظریے کو خلیج بنگال کی تہہ سے دوبارہ نکال کر لائے ہیں ۔سونار بنگلہ میں آج ہندواور مسلمان کی ابھرتی ہوئی تقسیم مودی کے اس کارنامے کی داستان سنا رہی ہے۔کچھ ہی دن پہلے افغانستان کے شہر غزنی میں طالبان لیڈر انس حقانی نے سومناتھ کا مندر گرانے والے سلطان محمو دغزنوی کے مزار کا دورہ کرکے تصویریں سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں اور ان کے ٹویٹ کا یہ
جملہ معنی خیز تھا کہ سلطان محمود غزنوی نے سومناتھ کے بت توڑے تھے ۔ افغانستان کے شہر غزنی سے بنگلہ دیش کے شہر نواکھلی تک یہ سب بوتل کے اس جن کا تعاقب اور ردعمل ہے جسے نریندر مودی نے نکالا ہے ۔ وہ اس خطے کی بدقسمتی کا دن تھا جب بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے طویل المیعاد نظریاتی مقاصد اور اہداف کے حصول کے لئے ہندوتوا کے جن کو بوتل سے نکالنے کا فیصلہ کیا تھا ۔یہ کہنا بہت سطحی ہوگا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہ راستہ محض اقتدار کے غرض سے اپنایاتھا حقیقت میں یہ اپنی تہذیب اور نظریہ کو بالادست بنانے کا خواب تھا ۔مہا بھارت کا تصور اور فرزندان زمین ہونے کے تصور کے تحت باقی تہذیبوں سے برتر کا خبط تھا ۔اسی جنون نے بابری مسجد کو نگل لیا ۔ بابری مسجد کے قدیم گنبدوں کے ساتھ ہی بھارت میں گاندھی اور نہرو کا سیکولر ازم بھی زمیں بوس ہو گیا تھا ۔بابری مسجد کے ملبے تلے نہرو کے جدید خیالات اور گاندھی کے انسانی مساوات کے تصورات بھی دب کر رہ گئے ۔اس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس راہ میں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔نفرت ،بالادستی اور فرقہ پرستی کا جن بوتل سے نکال دیا گیا اور جو کوچہ کوچہ پھر کر اپنا سودا بیچتا چلا گیا۔برصغیر کی تقسیم کے وقت بھی نفرتوں کی ایک لہر آئی تھی مگر یہ زخم مندمل ہونے لگے تھے ۔فریقین کو احساس ہونے لگا تھا کہ بچھڑنا ضروری تھا تو بھی بقول ساحر لدھیانوی اس افسانے کو ایک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑدینا اچھا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہندو بالادستی کے نظریہ کو ریاست کی طاقت اور وسائل میں گوندھنے کا عمل شرو ع کیا ۔یوں رفتہ رفتہ بھارت کا سیکولرازم دستور کی کتاب میں لکھے ہوئے بے جان لفظوں تک محدود ہوتا چلا گیا ۔سرکاری اور عوامی سطح پر نفرت سے بھرپور ہندوآئیڈلوجی طاقت پکڑتی چلی گئی۔بھارت کے اندر کروڑوں مسلمان ،مشرق میں بنگلہ دیش ، انڈونیشیا ، ملائیشیا مالدیپ ، مغرب میں پاکستان ، افغانستان ایران ،وسط ایشیائی ریاستیں اور سمندروں سے پرے خلیجی ممالک کی طویل پٹی جو یورپ کے ساتھ جا کر ختم ہو تی ہے ۔پچھواڑے میں کنفیوشس تہذیب ہے جسے خود بھارت” ڈریگن” کہہ رہا ہے۔اس جزیرے میں سخت گیر نسل اور فرقہ پرست پرستانہ انداز سراسر گھاٹے کا سودا تھا ۔نفرت بھی کس سے اپنی کروڑوں کی آبادی کے ساتھ اوراپنے ہمسایوں اور ہمسایوں کے ہمسایوں کی ایک طویل زنجیر کے ساتھ ۔اسرائیل کا کام تو چل گیا تھا مگر اسرائیل سٹائل دنیا کا رول ماڈل اور قابل تقلید مثال نہیں بن سکتا تھا ۔