نوجوان قتل

چارسدہ میں فائرنگ سےنوجوان قتل ،مشتعل افراد نے ملزم کو زندہ جلادیا

ویب ڈیسک(چارسدہ) چار سدہ میں معمولی تلخ جھگڑے پر ملزم نے فائرنگ کر کے نوجوان کو قتل کر دیا جس پر مقتول کے لواحقین مشتعل ہو گئے اور مبینہ قاتل کے گھر کو آگ لگا کر قاتل کو زندہ جلا دیا۔

تفصیلات کے مطابق چارسدہ میں سٹی تھانہ کے حدود پلہ ڈھیری میں ٹانگوں سے معذور ملزم ملنگ جان نے کبوتروں کے تنازعہ پر فائرنگ کر کے 22سالہ نوجوان شاہ سوار کو قتل کر ڈالا جس پر عوام مشتعل ہو گئی اور ملزم کو از خود قتل کرنے کیلئے پولیس پر شدید پتھرائو اور حملے کئے، پولیس نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ بھی کی مگر مشتعل مظاہرین کی طرف سے شدید مزاحمت جاری رہی۔

کوہاٹ میں میاں بیوی، بیٹی سمیت قتل

مشتعل مظاہرین نے ملزم کا گھر مسمار کر کے جلا دیا جبکہ ملزم نے اپنی والدہ کے ہمراہ گھر کی چھت پر پناہ لے رکھی تھی جہاں دو پولیس اہلکار بھی موجود تھے،مشتعل مظاہرین نے قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے ملزم ملنگ جان کوچھت سے آگ میں گرا دیا جس سے ملزم جھلس کر موقع پر جان بحق جبکہ اس کی والدہ شدید زخمی ہو گئی جسے تشویش ناک حالت میں چارسدہ ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

قبل ازیں صوبائی وزیر قانون فضل شکور خان اور ڈی پی او چارسدہ آصف بہادر خان مسلسل مشتعل مظاہرین سے مذاکرات کرتے رہے مگر مظاہرین کی طرف سے ملزم کو حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا جبکہ دوسری طرف پولیس ملزم کو گرفتار کرکے قانونی کاروائی کرنا چاہتی تھی، اس دوران سینکڑوں مشتعل مظاہرین کھیتوں میں موجود رہے اور کئی گھنٹے تک پولیس کو شدید دبائو میں رکھا، رات کی تاریکی کی وجہ سے مشتعل مظاہرین کی طرف سے پولیس پر حملوں کا خدشہ بھی موجود تھا، صوبائی وزیر قانون فضل شکور خان اور ڈی پی او چارسدہ آصف بہادر خان کی طرف سے مشتعل مظاہرین کے ساتھ متعدد بار مذاکرات ہوئے اور ایک موقع پر مظاہرین نے ملزم کو پولیس حراست میں دینے پر آمادگی بھی ظاہر کر دی مگر بعد میں مشتعل مظاہرین اپنی بات سے مکر گئے۔

ملزم کو آگ میں ڈالنے کے افسوس ناک واقعہ کے بعد پولیس نے پورے علاقے کا محاصرہ کرکے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع کر دی ہیں، واقعہ میں سٹی تھانہ چارسدہ کے ایس ایچ او بہرمند خان سمیت متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔