دنیا نے مجھ کومال غنیمت سمجھ لیا

ایوب خان سمجھدار آدمی تھی ‘ روایت کے مطابق(کچھ لوگ اس سے اختلاف کرتے ہیں)جب ایک باران کے اپنے نواسوں یا پوتوں نے وہ نعرے لگائے جو ان دنوں ملک کے طول و عرض میں گونج رہے تھے اور جن سے ایوبی آمریت کے خلاف نفرت آشکار تھی ‘تو ا نہوں نے مزید اقتدار میں رہنے سے انکار کرتے ہوئے عافیت اسی میں جانی کہ عزت سے صدارتی عہدے کو تج دیاجائے ‘ اگرچہ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے اپنے ہی دئیے ہوئے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقتدار منتخب نمائندوںکے حوالے کرنے کی بجائے ایک اور ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ خان کو دیتے ہوئے ایک اور مارشل لاء ملک پرمسلط کرنے کا غیر آئینی اقدام کیا ‘ تاہم بعض لوگ اس نظریئے کو بھی تسلیم نہیں کرتے اور ان کا خیال ہے کہ اس دور کے حزب اختلاف کے دبائو اورعوامی غیظ و غضب سے کمزور ہوتی ہوئی حکومت کو جنرل یحییٰ خان نے بزور برطرف کرتے ہوئے ایوب خان سے استعفیٰ لیا یوں سکندر مرزا سے بندوق کی نالی پر اقتدار چھیننے والے صدرایوب کا انجام بھی مکافات عمل کا شکار ہو گیا ‘ خیر یہ تاریخ ہے اور بدقسمتی سے ہماری تاریخ میں کئی مغالطے اور سازشی تھیوریاں ساتھ ساتھ اور سینہ بہ سینہ چلتی ہوئی اصل حقائق کوپوشیدہ رکھنے میں اب تک کامیاب رہی ہیں ‘ یعنی ملک ترقی کی راہ پر سرپٹ دوڑتا ہوا ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا دکھائی دیتا ‘ اور وہ بنگلہ دیش جو ہمارے تن ہی کا حصہ تھا ‘ آج ہم سے اتنا آگے نہ نکل چکا ہوتا ‘ نہ ہی افغانستان کی کرنسی ہماری کرنسی کو قدر کے لحاظ سے شرمندگی کا وہ احساس دلا رہی ہوتی ‘ جو ہمارا مقدر بنا دی گئی ہے ۔ بقول ا متیاز الحق امتیاز
حساب دردجگر جب بھی دیکھنا چاہو
ہمارے پاس ہے فہرست پائی پائی کی
بات دور نکل گئی ‘ شروع ہوئی تھی ایوب خان کی اس سوچ سے جو ان کے اقتدار کے آخری دنوں میں عوامی غیظ و غضب اور شدید ردعمل کی کوکھ سے جنم دینے والی اس نعرے بازی پر منج ہوئی تھی جس کی اگرچہ ابتداء کو 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران بھارتی پردھان منتری(وزیر اعظم) شری لال بہادر شاستری کے خلاف پاکستان کے گلی کوچوں میں شاستری کتا ہائے ہائے کے الفاظ میں ڈھل چکی تھی اور ملک کے گلی کوچوں میں چینی چور کے نعرے گونجنے کے ساتھ ساتھ 65ء والا شاستری کے خلاف لگائے جانے والے نعرے میں شاستری کی جگہ صرف نام تبدیل کرکے دہائیاں دی جانے لگیں۔ وہ صرف اتنی تھی کہ چینی کی قیمت میں صرف چار سے آٹھ آنے سیر کا اضافہ ہوا تھا اور بدقسمتی سے اس دور کے وزیر صنعت و تجارت نوابزادہ عبدالغفور خان ہوتی ایک شوگر مل کے بھی مالک تھے ‘ مگر صرف چار آنے سے آٹھ آنے سیر چینی مہنگی ہونے سے جو حشر ایوبی آمریت کا ہو رہا تھا وہ ہماری تاریخ کا ایک باب ہے اب یہ آپ کی مرضی چاہے اسے ”سنہرا کہیں یا سیاہ” کیونکہ عوام میں زندگی کی رمق بھی باقی تھی اور حزب اختلاف کے سیاسی قائدین میں ایک جذبہ بھی تھا ‘ وہ عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے تھے ‘ اب کی طرح نہیں کہ صورتحال حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے والی بن چکی ہے ‘ یعن اب تو چار آنے یا آٹھ آنے کی بات سے معاملہ کتنا آگے نکل چکا ہے ‘ ایوبی دور بہت پیچھے رہ گیا جب سال میں ایک بار یعنی ہر سال بجٹ کے موقع پر پٹرول کی قیمت میں معمولی ساردو بدل کیا جاتا تواس پر بھی اسمبلی میں ہنگامہ مچا دیا جاتامگر اب تو کیا پٹرول ‘ کیا گیس ‘ کیاچینی ‘ کیا آٹا ‘ گھی ‘ دالیں وغیرہ وغیرہ بلکہ مزید وغیرہ وغیرہ بلکہ مزید وغیرہ روز مرہ کے حساب سے ”ترقی” کی راہ پر گامزن ہیں یعنی
دنیا نے مجھ کو مال غنیمت سمجھ لیا
جتنا میں جس کے ہاتھ لگا لے اڑا مجھے
ڈھٹائی کی حالت یہ ہے کہ ایک مہنگائی کے بعد ایک اور مہنگائی کی چتائونی دی جاتی ہے کہ ذرا انتظار کرو ‘ مزید مہنگائی آرہی ہے بس تم نے گھبرانا نہیں ہے یعنی بقول منیر نیازی
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میںایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
بات یہاں تک بھی ہو تو چلو کوئی ”بات” نہیں ‘ مگر مشکل تو یہ ہے کہ عوام پر بوجھ لادنے کے بعد انہیں دنیا بھر کے نرخوں کے ساتھ”موازانہ” کرکے یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دیکھو پاکستان تودنیا کا سستا ترین ملک ہے ‘ ایسا کرتے ہوئے تصویر کاصرف ایک رخ بتایا جاتا ہے اور دوسرا رخ جو ان ممالک میں عوام کی آمدن کا ہوتا ہے اس کو پردے میں رہنے دو پردہ نہ ا ٹھائو ‘ کے بیانئے میں چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے ‘ حالانکہ اصل صورتحال یہ ہوتی ہے کہ پردہ جو اٹھ گیا تو بھید کھل جائے گا کو ا نداز بیان میں خلط ملط کیا جاتا ہے سیف الدین سیف نے بھی تو کہا تھا
سیف انداز بیاں بات بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
خیر بات ہو رہی تھی ایوب خان کے اس فیصلے کی جس نے صورتحال بدل دی تھی ‘ ایوب خان کی ان ادائوں کی بدولت تو آج پاکستان بھرمیں ٹرکوں کے پیچھے ان کی تصویریں جن کے نیچے لکھا ہوتا ہے ‘ تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد یوں ہی تو نہیں نظر آتیں ‘ یعنی کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے ۔ وما علینا الالبلاغ