ناداروں کی دستگیری کے حقیقی تقاضے

معاشرے کے کمزور اور نادار طبقوں خصوصاً مسافروں کو قیام و طعام کی مفت سہولیات کی فراہمی کے لئے موجودہ حکومت اور وزیراعظم عمران خان کے وژن کے تحت صوبے میں پاکستان بیت المال اور محکمہ سماجی بہبود خیبرپختونخوا کے باہمی اشتراک سے اس وقت مختلف اضلاع میں سات پناہ گاہیں فعال ہیں جن میں پشاور مردان، ایبٹ آباد، ڈی آئی خان، کوہاٹ ، سوات اور بنوں میں قائم پناہ گاہیں شامل ہیں جبکہ پشاور میں دوسری پناہ گاہ کو بہت جلد فعال کیا جائے گا۔ ان پناہ گاہوں میں مجموعی طور پر800 افراد کے لئے رات کے قیام کی گنجائش موجود ہے جبکہ روزانہ1800سے زائد مستحق افراد کو مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔یہ بات گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت پناہ گاہوں سے متعلق منعقدہ اجلاس میں بتائی گئی۔ حکومتی وسائل اور سرکاری مشینری کی غیر فعالیت اور ضرورت مند افراد کی بہت بڑی تعداد اتنی تعداد کہ ان کو حکومت اگر پورے وسائل اور خلوص سے ان کی دستگیری کی سعی کرے تو بھی مشکل پیش آئے گی ا ندریں حالات حکومت کی ہر کوشش کو جزوی اور ناکامی گرداننا غلط نہ ہو گا۔صوبے میں سماجی بہبود کا محکمہ اور اسی کی نظامت کی کارکردگی کو اگر کاغذوں اور رسمی کارروائی ہی گردانا جائے اور اس محکمے کے وظیفہ خوروں کو ا پنی تنخواہوں اور مراعات میں دلچسپی کے علاوہ فرائض منصبی سے انصاف نہ کرنے والے قرار دیئے جائیں تو مبالغہ نہ ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ سرکاری طور پر وسائل کے بروئے کار لانے اور باقاعدہ محکمہ اور نظامت کی موجودگی کے باوجود سماجی بہبود کا سرکاری عمل ناکام اور اس کے مقابلے میں مختلف سماجی تنظیموں یہاں تک کہ بعض محدود گروہ اور واٹس اپ گروپ بنا کر لوگوں کی دستگیری کی کامیاب مثالیں پیش کرنے والے بجا طور پر خراج تحسین کے مستحق ہیں دیکھا جائے تو درد دل ‘ جذبہ اور خلوص عمل ہی محدود وسائل کے حاملین کی کامیابی اور برعکس امور سرکاری سطح پر ہونے والے کاموں کو ناقص و ناکام رقم اور وسائل کا ضیاع بنانے کے حامل امور ہیں جب تک اس طرح کی صورتحال رہے گی حقداروں کی حق تلفی ہوتی رہے گی اور محروم رہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہو گا اس بنیادی مسئلے سے قطع نظر خود وزیر اعلیٰ کے زیر صدارت اجلاس کے اعداد وشمار کے تناظر میں آٹھ سو افراد کو اقامت اور اٹھارہ سو مستحق افراد کو مفت کھانے کی فراہمی کا جائزہ لیا جائے لاکھوں کی آبادی والے صوبے کے سب سے بڑے شہرمیں اور ڈویژنز کی سطح پرناکافی اقدامات کے تناظر میں اس امر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے اس کے مقابلے میں اگر کسی قابل ذکر فلاحی تنظیم کو چھوڑ کر اگر ہم نیم انفرادی سطح کی مساعی کا جائزہ لیں تو محدود وسائل کے باوجود سفید پوش افراد کی دستگیری اور ایک وقت کا کھانا ان کے گھروں کی دہلیز تک پہنچانے کے مسلسل عمل کی اس شہر ہی میں مثالیں موجود ہیںاس مثال کو مدنظر رکھتے ہوئے اب حکومت کو اسی طرح کی مساعی کے لئے مساجد کی سطح پرکمیٹیاں قائم کرکے ان کے توسط سے جب تک تیار کھانا پہنچانے کے اس عمل میں شریک نہیں ہوگی اور نہایت کم وسائل سے شفاف بنیادوں پر آبادی کے ایک بڑے حصے کی باعزت مدد کا طریقہ نہیں اپنائے گی وسائل کا ضیاع ہی ہو گا فطری امر بھی یہ ہے کہ سرکار کے تنخواہ دار خدام خواہ کتنے بھی فعال کیوں نہ ہوں رضا کاروں اور نیکی کے متلاشی رضا کاروںکے ہمسر نہیں ہوسکتے ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اگرکسی کے بھی سڑک پر نہ سونے کے واقعی خواہشمد ہیں تو سب سے پہلے نشے کے عادی افراد اور واقعی میں بے گھر گداگروں کے لئے پناہ گاہوں کا انتظام کروائیں پیشہ ورگداگروں کے خلاف جو مہم چل رہی ہے اس کے باوجود بھیک مانگنے والوں کی بڑی تعداد بی آر ٹی سٹیشنز کی راہداریوں اور سڑکوں پر موجود ہیں البتہ پنجاب وسندھ سے آنے والے پیشہ ور گداگروں کی ٹولیاں نظر نہیں آتیں ممکن ہے وہ موسمی صورتحال کے پیش نظر چلے گئے ہوں بہرحال مقامی گداگروں کی تعداد میں کمی نظر نہیں آتی جہاں اس کی وجوہات کے جائزے کی ضرورت ہے وہاں ان کے مسائل و مشکلات کے حقیقی ہونے کی تصدیق اور ان کی دستگیری کا فریضہ بھی نبھایاجائے دو وقت کی روٹی ہی ان کا مسئلہ نہیں اور نہ ہی ان کو پناہ گاہوں میں ڈالنے سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے بلکہ ان عناصر کے باقاعدہ خاندان جس میں ضعیف بیمار اور دیگر قسم کے مسائل کا شکار افراد موجود ہیں جن تک رسائی اور دستگیری کرکے ہی بھیک مانگنے سے ان کو روکا جا سکتا ہے ۔پیشہ ور گداگروں کے خلاف سخت اقدامات احسن ہیں ساتھ ہی ضرورت مندوں کی ضروریات کا خیال رکھا جائے اس کے بعد ہی گداگری کی حوصلہ شکنی کی جائے سرکاری طور پر پناہ گاہوں اور امدادی عوامل میں صرف کام کاج کے ناقابل افراد کی مدد باقی کے لئے کام اور روزگار کا بندوبست کیا جائے بیروزگاری کا مسئلہ حل ہو جائے اور لوگ گداگری پر مجبور نہ ہوں تبھی یہ ٹھوس اور سنجیدہ امرٹھہرے گا بصورت دیگر وسائل کا ضیاع اور ناکام مہم کی حقیقت کا سبھی کو علم ہے جس کا اعادہ ایک اور لاحاصل عمل ہوگا۔