گیس بحران کا کوئی حل ہے بھی کہ نہیں؟

ابھی سردی کی ابتداء ہی ہے اور گیس کی ضرورت میں پوری طرح اضافہ نہیں ہوا لیکن گیس کی ناپیدگی کی شکایات آنے لگی ہیں امرواقع یہ ہے کہ گیس بحران شدت اختیارکرتا جارہا ہے جس کے باعث عام صنعتوں، سی این جی اسٹیشنوں اور پاور پلانٹس کودوماہ کے لیے گیس کی فراہمی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ پہلے سے موجود ایل این جی ٹرمینلز کو ان کی پوری صلاحیت کے مطابق استعمال نہیں کیا گیا؟ سردیوں کے چند ماہ میں حکومت14کارگوز کا انتظام کرسکتی تھی، مگر ایسا نہیں کیاگیا۔ دسمبر میں صرف10کارگوز ہی کا انتظام کیا جاسکا۔ ماہرین کے مطابق اصل حقیقت یہ ہے کہ ایل این جی ٹینڈر کرنے میں تاخیر کی گئی۔ حکومت کے پاس موقع تھا کہ وہ6سے 8ڈالر میں ایل این جی لے سکتی تھی، مگر فیصلوں میں تاخیر کی وجہ سے6سے 8ڈالر میں ملنے والی گیس30ڈالر تک میں خریدنی پڑی۔ تمام تر دعوئوں کے باوجود روس کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے پر اب تک کام شروع نہیں ہوسکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ2019 سے مسلسل دعووں کے باوجود حکومت اب تک کوئی ایک نیا ایل این جی ٹرمینل نہیں لگا سکی۔ ایک کے بعد ایک بحران نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ جہاں گیس کی عدم دستیابی اہم معاملہ ہے وہاں اس کی قیمت میں روز بروز اضافے سے بھی لوگ پریشان ہیں۔ابھی سردی پوری طرح آئی بھی نہیں ہے اور گیس کے بحران نے عوام کو گھیر لیا ہے اور وہ اس خوف اور پریشانی میں مبتلا ہیں کہ سردیاں کیسے گزاریں گے؟ مہنگائی نے پہلے ہی عوام کی زندگی اجیرن بنائی ہوئی ہے، سی این جی کی قیمتوں میں کیا جانے والا حالیہ اور بہت زیادہ اضافہ صارفین کے لیے کسی صورت میں بھی قابلِ برداشت نہیں ہو گا۔مشکل امر یہ ہے کہ حکومت کے تاخیری فیصلوں کے باعث اب عین وقت پر مسئلے کے حل کا کوئی دوسرا متبادل بھی نہیں حکومت بجلی کے استعمال کی طرف لوگوں کو رعایت دے کر متوجہ کر رہی ہے لیکن سردیوں میں پاور سیکٹر کو گیس نہیں دی جا سکتی اور پانی کی بھی کمی ہو جاتی ہے بجلی کی پیداوار ہی معمول کی ضرورت سے کم ہو تو اسے بطور ایندھن استعمال کیسے کیا جاسکے گا۔ یکے بعد دیگرے آنے والے بحران اور رہی سہی کسر وبا نے پوری کردی عوام ہیں کہ نہ جانے رفتن اور نہ پائے ماندن کے مصداق بیٹھے ہیں نجانے یہ سردیاں کیسے گزریں گی اور عوام کو کتنی مشکلات کا مزید سامنا کرنے پڑے گا۔
آئینہ
وزیر اطلاعات واعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا کامران بنگش کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کا پشاور جلسہ ویلج کونسل کی کارنر میٹنگ سے بھی کم تھا پی ڈی ایم کا پاور شو نہیں بلکہ پاور لیس شو تھا،عوام نے ان لوگوں کو آئینہ دکھا دیا۔صوبائی دارالحکومت پشاور میں پی ڈی ایم سمیت دیگر اہم سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں پوری کوشش اور وسائل کو بروئے کار لانے کے باوجود ناکامی ایک ایسا مشترکہ رجحان ہے جو بادی النظر میں وجہ عوام کی سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں پر عدم اعتماد اور بیزاری کا اظہار ہے پی ڈی ایم کے مختلف جماعتوں کامجموعہ اور اتحاد ہونے کے ناتے اس کا جلسہ اتنا بھی ناکام نہیں ہونا چاہئے تھا کم از کم قابل ذکر جماعتوں کے کارکنان ہی جلسے میں آتے تو پنڈال سج جاتا صوبائی دارالحکومت پشاور میں اب یہ روایت بنتی جارہی ہے کہ عوام سیاسی اجتماعات سے اجتاب برتنے لگے ہیں عوام کا سامنے آنے والا یہ مجموعی رویہ مایوسی کا اظہار ہے آمدہ بلدیاتی انتخابات میں عوام اگر اس کا عملی اظہار کریں تو سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی بجائے آزاد اور مقامی سطح کے امیدواروں کی کامیابی کی صورت پیدا ہو سکتی ہے یہ صورتحال سیاسی جماعتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے دوسروں کے علاوہ اس آئینہ میں اپنے آپ پر بھی نظر ڈالی جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔
اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی
صوبے کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال کے حوالے سے آئے دن سامنے آنے والے مسائل ‘حالات اور صورتحال سنگین سے سنگین تر ہوتے جارہے ہیں اس کے باوجود اس پر سنجیدگی سے توجہ نہ دیا جانا اورحکومت کی سرد مہری والا پرواہی کا مسلسل اختیار کردہ رویہ حیران کن ہے ۔ہمارے نمائندے کے مطابق سینئر ڈاکٹروں کے مسلسل استعفوں کے بعد باقی سینئر ڈاکٹرز نے اپنی توجہ نجی کلینکس پر مرکوز کردی ہے ہسپتال کی ایمرجنسی اور مختلف وارڈزمیں سینئر ڈاکٹرز ، پروفیسرزاور سپیشلسٹ ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے واضح رہے کہ صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال میں کسی ایمرجنسی کی صورت میں کوئی سینئر پروفیسر یا سپیشلسٹ موجود نہیں ہوتا جبکہ ان کی جگہ میڈیکل آفیسرز اور نا تجربہ کار سٹاف تعینات ہوتے ہیں ہسپتال کے ترجمان کے مطابق ایمرجنسی میں تمام کیڈر کے ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں جن کی تین شفٹوں میں ڈیوٹی لگائی گئی ہے زیادہ سیریس مریضوں کے علاج کیلئے سینئر ڈاکٹرز کے ساتھ مشاورت کرنے اور معمول کے مریضوں کیلئے مذکورہ سپیشلٹی کا ڈاکٹر چوبیس گھنٹے موجود رہتا ہیعملی طور پر ایل آر ایچ کی صورتحال اور ترجمان کی تردید کے بعد حقیقت جاننے کے لئے اگر کمیٹی تشکیل دی جائے اور حکومت سنجیدگی کے ساتھ شکایات وانتظامات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری پوری کرے تومریضوں کی مشکلات کا ازالہ ہوسکے گا اور حقیقی صورتحال سامنے آنے کے بعد حکومت کو اس کی روشنی میں اقدامات میں آسانی ہو گی۔ حقائق کو جھٹلانے کی بجائے اگر ہسپتال کی ماضی کی کارکردگی ہی بحال کی جا سکے تو شکایات میں کمی ممکن ہو سکے گی۔
جانی خیل قبائل سے وعدے پورے کئے جائیں
بنوںجانی خیل وزیرقبائل نے اپنے مطالبات کے حق میں ایک مرتبہ پھر پیدل امن مارچ اور احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔قبائلی عمائدین کے مطابق حکومت وعدے سے انحراف کرتے ہوئے بند کمروں میں جانی خیل کے مستقبل کی تباہی کے منصوبے بنا رہی ہے جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔ان کو شکایت ہے کہ 8ماہ گزرنے کے باوجود وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے کئے گئے معاہدے پر عملدرآمد میں کوئی واضح پیشرفت نہیں ہوئی۔جانی خیل قبائل قبل ازیں دو مرتبہ پوری شدت سے احتجاج کرچکے ہیں اور ہر بار ان سے معاہدے اور یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں اور وقتی طور پر معاملہ ٹال دیا جاتا ہے جو مناسب تدبیر نہیں وعدے ہوتے ہیں لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا جومناسب امر نہیں بہتر ہوگا کہ حکومتی یقین دہانیوں کے مطاق عملی اقدامات کئے جائیں اور بار بار کے احتجاج کی نوبت نہ آنے دی جائے۔