بھتہ خوروں کیخلاف کارروائی سے اجتناب کیوں؟

پشاور ٹاؤن سرکل میں دو افغان بھائیوں پر مشتمل بھتہ خور گینگ کی جانب سے شہریوں سے بھتہ طلب کرنے اور نہ دینے پر ڈرانے دھمکانے کی غرض سے ہوائی فائرنگ کرنے کے واقعات پولیس فورس کی موجودگی اور قانون کے نفاذ پر سوالیہ نشان ہے۔دریں اثناء رپورٹ درج کرائی گئی ہے کہ پشاور بی آر ٹی میں نامعلوم افراد نے دو خواتین کو ہزاروں کی نقدی ‘قیمتی موبائل فونز اور دیگراشیاء سے محروم کر دیا۔ساتھ ہی ساتھ ہی حیات آباد فیز 7 میں ایک ملزم کی گرفتاری کے لئے جانے والی پارٹی پرفائرنگ اور پولیس اہلکاروں کی شہادت کا واقعہ بھی قابل توجہ ہے جس میں اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ پولیس کی جانب سے پوری تیاری کے بغیر ملزموں کو للکارا گیا تھا پولیس کی جانب سے حیات آباد ہی میں ایک اور گھر سے بلاجوازگرفتاری پر عدالت سے رجوع کیا جا چکا ہے ان تمام واقعات سے اس امر کا احساس ہوتا ہے کہ پولیس سے شکایات بڑھنے لگی ہیں جبکہ خود پولیس بھی پیشہ ورانہ طریقے سے کام نہیںکر رہی ہے ۔بی آر ٹی میں جیب کتروں کی سرگرمیاں کیمرے لگے ہونے اور گارڈز کی موجودگی کے باوجود بڑھتی جارہی ہیں اور ملزمان کا سراغ نہیں مل رہا ہے جو ان کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا جارہا ہے۔دریں اثناء ایک پراپرٹی ڈیلرنے رپورٹ درج کراتے ہوئے تہکال پولیس کو بتایا کہ گزشتہ دنوں محولہ عناصر نے ان سے دھمکی آمیز لہجے میں5لاکھ روپے بھتے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر رقم کا بندوبست نہ کیا تو آفس نہیں کھول پاؤگے۔ چند روز بعد جب وہ اپنا پراپرٹی آفس کھولنے کے لئے آیا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے آفس کو نقصان پہنچا جبکہ وہ بال بال بچ گیا۔ پولیس نے روایتی مقدمہ درج کرکے تفتیش پر ہنوز اکتفا کی ہوئی ہے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ملزمان نے چند دیگر دکانداروں سے بھتہ طلب کیا تھا تاہم پولیس تاحال ملزمان کو گرفتار نہ کرسکی۔اس قدر واضح نشاندہی اور رپورٹ درج کرانے کے باوجود پولیس کی جانب سے کارروائی سے احتراز مشکوک عمل ہے جس سے ملی بھگت کی بوآتی ہے اور اگر ایسا نہ بھی ہو تو بھی بھتہ خور گروہ کے خلاف کارروائی میں تاخیر کی نوبت نہیں آنی چاہئے تھی ہمارے تئیں پولیس اگر جاگ رہی ہو اور ان کی جانب سے غفلت کا ارتکاب نہ ہو تو کسی کی مجال نہیں کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے لوگوں کوڈرائے د ھمکائے اور بھتہ طلب کرے ۔آئی جی خیبر پختونخوا کو ان تمام واقعات اور پولیس کی غفلت کا سخت نوٹس لیکر متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کرنی چاہئے اور جلد سے جلد ملزمان کی گرفتاری اور عوام کے تحفظ کے اقدامات یقینی بنانے کی ذمہ داری پوری کی جائے یہ پولیس کی کمزوری ہی ہے جس کی وجہ سے سماج دشمن عناصر کوسرا ٹھانے کا موقع ملتا ہے ۔
جامعات میں سلیکشن بورڈ پر پابندی کا خاتمہ
صوبے کے سرکاری جامعات میں گورنر خیبر پختونخوا نے سلیکشن بورڈ پر پابندی عائد کرکے میرٹ پر اہل افراد کی بھرتی کا راستہ کیوں روکے رکھا تھااس سے قطع نظر اب سلیکشن بورڈ پرپابندی ہٹانے کا اقدام احسن عمل ہے جس کے بعد سرکاری جامعات میں مستقل بنیادوں پر اعلیٰ تعلیم کمیشن کے مقرر کردہ معیار کے مطابق جلد سے جلد مستقل بنیادوں پر تدریسی عملے کی خاص طور پر تعیناتی کی ضرورت ہے ۔ وزیٹنگ فیکلٹی کے عارضی انتظام کے تحت جامعات میں تدریس کے باعث آئے روز فیکلٹی ممبران کے چلے جانے کے باعث تعلیم کا ماحول ہی نہیں بن پا رہا اور نہ ہی طالب علموں و اساتذہ کے درمیان ہم آہنگی ہو پاتی ہے جو فطری امر ہے ‘ اس کا واحد حل اہل افراد کا میرٹ پر تقرر ہے جواہر قابل کی خدمات کے مستقل حصول سے ہی جامعات میں تدریس کا معیار بڑھ سکتا ہے توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت کو ان کے غلط فیصلے کا احساس ہونے کے بعد اب اس راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کرنے کی غلطی کا اعادہ نہیں کیا جائے گا اور جامعات میں تدریسی عملے کی مستقل تعیناتی یقینی بنائی جائے گی۔
حکم عدولی کے مرتکب افسران
سرکاری افسران کے لئے کسی بھی محکمے میں دو سال سے زائد عرصہ کی تعیناتی پر پابندی کے باوجود پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ یعنی پی اینڈ ڈی کے دس ایسے افسران کی نشاندہی کر دی گئی ہے جوایک ہی سیکشن یا عہدے پر چھ سے پندرہ سال سے تعینات ہیں اورانہیں صوبائی حکومت کی جانب سے جاری چارمرتبہ کے احکامات کے بعد بھی تبدیل نہیں کیا جاسکا ہے ۔برسوں سے کسی ایک نشست پر براجمان ہونے والے افسران کا صوبائی حکومت کے احکامات کے باوجود تبادلہ نہ ہونے کے پس پردہ کیا عوامل کارفرما ہیں اس حوالے سے وثوق سے کچھ کہا نہیں جا سکتا البتہ وفاق کی جانب سے تبادلہ کے باوجود صوبوں کی جانب سے افسران کو ریلیز نہ کرنے کا عمل بھی مناسب نہیں ہر دو صورتحال میں مروجہ قوانین کی پابندی ہونی چاہئے چھ سے پندرہ سال کے عرصے تک کسی بھی سرکاری افسر کی تعیناتی اور تبادلے کے احکامات کی تعمیل سے انکار پر صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی راست قدم کیوں نہ اٹھایا گیا سرکاری افسران اگر تبادلے کے احکامات کو تسلیم کرنے سے ہی انکاری تھے تو وہ حکومت کے احکامات کو کیا خاطر میں لاتے ہوں گے بہرحال کم از کم اب حکومتی پالیسی کو پوری طرح لاگو کیا جانا چاہئے اور تمام قابل تبادلہ افسران کا تبادلہ کرکے ان سے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنوانے میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔