وزیراعظم کی یقین دہانی اور امتحان

وزیراعظم عمران خان نے بجاطور پر کہا ہے کہ اب کوئی طاقتور گروہ عوامی مفادات کا خون کر کے منافع نہیں کما سکے گا۔ وزیراعظم نے اس امر کی بھی واضح یقین دہانی کرائی ہے کہ فرانزک آڈٹ کا نتیجہ 25اپریل تک مرتب ہوگا جس کے بعد تفصیلی رپورٹ کے مطابق گندم اور چینی کے بحران کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اطلاعات ونشریات کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے اس رپورٹ کو خوداحتسابی حکمران جماعت سے شروع ہونے سے تشبیہ دی ہے۔ وزیراعظم نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے دنوں میں یکسوئی سے اس پر توجہ کی بجائے عجلت میں نامکمل رپورٹ جاری کیوں کی، وزیراعظم کو اس فیصلے پر آمادہ کرنے والوں میں کون شامل ہیں، یہ رپورٹ پہلے ہی میڈیا پر لیک کیسے ہوئی، ان تمام سوالات سے قطع نظر یہ رپورٹ ایک ایسی دو دھاری تلوار ہے جس سے خود حکومتی ساکھ بری طرح متاثر ہونا فطری امر ہے۔ سزا پر عملدرآمد کا مرحلہ آنے میں ابھی بہت وقت لگ سکتا ہے، سزا دینے کا ایک باقاعدہ قانونی طریقۂ کار مقرر ہے، نیز اسی رپورٹ پر حکومتی کارروائی اور ملک میں جاری احتساب کے عمل میںکٹہرے میں کھڑا کرنے کا عمل اور معیارات انصاف کے تقاضوں کیلئے سنگین سوالات کا باعث بن رہے ہیں، اگرچہ اسی رپورٹ کی آمد سے اس وقت معاملات تحسین اور خوداحتسابی کے نظر آتے ہیں لیکن اس قسم کی رپورٹوں کے جو قانونی اور سیاسی پہلو بدلتے وقت کیساتھ سامنے آتے ہیں وہ غیرمعمولی ہو سکتے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ اُٹھتا ہے کہ جب ملک میں اس قسم کی صورتحال پیدا ہورہی تھی اور ببانگ دہل اسی رپورٹ کے مندرجات سے ملتے جلتے خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا قوم کے اربوں روپے لوٹے جارہے تھے اس وقت حکومت کہاں تھی اس وقت اس کا سخت نوٹس کیوں نہیں لیا گیا، اس سارے عمل میں وفاقی اور دو صوبائی حکومتوں اور بیوروکریسی کا جو کردار تھا وہ بدعنوانی کی روک تھام کی بجائے موافق کیوں تھا۔ جن مختلف اعلیٰ فورمز پر فیصلے کئے گئے وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کیا اس کا اہم حصہ نہ تھے۔ اس منظم بدعنوانی میں ریاستی عناصر اور حکومتی عہدیداروں کا کردار وہ کیوں نہیں تھا جس کا عوامی مفاد کا تحفظ متقاضی تھا۔ وزیراعظم جہاں اس رپورٹ پر دیگر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کریں گے وہاں وزیراعظم کو کرپشن مافیا کو سہولت دینے کیلئے پیدا کئے جانے والے ماحول کے بارے میں بھی جواب دینا ہوگا۔ وزیراعظم خواہ کتنی ہی نیک نیتی اور خوداحتسابی کے جذبے کے تحت اس رپورٹ کو عجلت میں عوام کے سامنے لائے ہیں اس کی سنجیدگی اور حقیقی طور پر احتساب کا امتحان ابھی باقی ہے، یقیناًً خود اپنی ہی حکومت اور اپنی ہی غلطیوں کو سامنے لانا کوئی آسان کام نہیں، اس کا کریڈٹ بہرحال عمران خان کو جاتا ہے کہ پارٹی فنڈنگ کیس پر اعتراضات کے پیچھے چھپنے کے الزامات اور بی آرٹی کی تحقیقات رکوانے کیلئے عدالتوں کا سہارا لینے کے بعد اپنی جماعت کے طاقتور اور پارٹی پر وسائل خرچ کرنے والی شخصیت اپنی ہی کابینہ کے وزیر اور اتحادی جماعت کے حلیفوں سبھی کے چہروں کو بے نقاب کر دینے والی رپورٹ عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے وقت پر غور کیا جائے تو اس کی سیاسی حکمت عملی سوائے اس کے اور کچھ سمجھ نہیں آئی کہ وزیراعظم نے ایک مشکل وقت میں عوام کو اس امر کا یقین دلایا ہے کہ ان کی حکومت احتساب کے عمل کو پس منظر میں جانے نہیں دے گی، بہرحال اس کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کورونا کے ایک نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے یہ رپورٹ منظرعام پر لاکر وزیراعظم نے اپنی حکومت کیلئے ایک اضافی سیاسی ارتعاش پیدا کر دیا ہے اور جس کے نتیجے میں پارٹی کے دھڑوں میں ہی کشمکش بڑھے یا نہ بڑھے البتہ حلیف سیاسی جماعت سے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اس سے جنوبی پنجاب کے آزاد گروپ کیساتھ بھی دوریوں کی صورت میں سیاسی بیساکھی کو ٹھوکر لگ سکتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اس رپورٹ کے پبلک ہونے میں وزیراعظم کی منشاء کا سوال اُٹھتا ہے، بہرحال اس طرح کے امکانات ہوں یا نہ ہوں وزیراعظم نے مفصل رپورٹ آنے کے بعد کارروائی کا عندیہ دیکر اس رپورٹ کے افشا کو گود لے لیا ہے۔ اس رپورٹ میں خود حکومت کی قابلیت اور نیت بارے جو سوالات اُٹھتے ہیں بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب کی کارکردگی وریلیف جس کا وزیراعظم ہر وقت دفاع کرتے ہیں اس حوالے سے اب مزید ایسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے جو وزیراعظم کیلئے سیاسی مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ اس رپورٹ کا حوالہ دیکر بیڈگورننس کا بھی سوال اُٹھے گا۔ یہ سارے معاملات تفصیل اور تصدیق شدہ وحتمی رپورٹ کے آنے تک جاری وساری رہیں گے۔ بہرحال تمام تر معاملات سے قطع نظر اس رپورٹ کو منظرعام پر لانا جوئے شیر لانے کا حامل امر ہے جس کی وزیراعظم نے جرأت کر کے ایک بڑی مثال قائم کی ہے، تفصیلی رپورٹ کے بعد ذمہ داروں کیخلاف کارروائی جس کی تکمیل ہوگی۔