مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے، یعنی اب لڑنا سے زیادہ ڈرنا کے خدشات پیدا ہونے لگے، ہمارے وزیراعظم نے تو کورونا سے ڈرنے کی بجائے لڑنے کا بیانیہ جاری کیا، مگر وہ جو ماہرین اس لڑائی کے دوران ہاتھوںکو صابن سے دھونے اور خاص طور پر سیناٹائزر استعمال کرنے کی ترغیب دیتے نہیں تکھتے اور اس حوالے سے مختلف ٹی وی چینلز پر اب صابنوں اور سیناٹرئزر کے اشتہارات بھی زیادہ سرعت سے دکھائے جارہے ہیں، عام غریب لوگ جو پہلے ہی بیروزگاری کے عفریت کا شکار ہو کر گھروں میں بیٹھے فاقے کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں وہ اس ''عیاشی'' کے متحمل تو خیر کیا ہوں گے، یہ شعر البتہ ضرور ان کی اس کیفیت کا غماز بن کر اپنی اہمیت جتلا رہا ہے کہ
تنگدستی اگر نہ ہو سالک
تندرستی ہزار نعمت ہے
تاہم جو لوگ سیناٹرئزر کے استعمال کی طاقت رکھتے ہیں یعنی قوت خرید ان کیلئے کوئی مسئلہ نہیں ہے، اب ان کی جانب سے بھی یہ شکایت سامنے آئی ہے کہ سیناٹائزر کے استعمال سے خارش اور آنکھوں میں جلن پیدا ہونے لگی ہے، اس پر ماہرین جلد نے رات کو سونے سے پہلے سرسوں کا تیل استعمال کرنے کا مشورہ دے دیا ہے، مگر اسے کیا کہئے کہ چند روز پہلے ایک مشورہ سوشل میڈیا پر یہ سامنے آیا تھا کہ دن میں تین سے چار مرتبہ یعنی صبح، دوپہر، شام اور رات سوتے وقت اگر ناک میں زیتون کے تیل کے دو دو قطرے ڈالے جائیں تو کورونا سے محفوظ رہا جا سکتا ہے اور ابھی اس مشورے کو وائرل ہوئے بمشکل چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ ایک انتباہی مشورہ اس کا توڑ کرتے وائرل ہوگیا کہ خبردار ناک میں زیتون کا تیل نہ ڈالیں کیونکہ کورونا وائرس اس سے چپک کر مشکل کا باعث بن سکتا ہے، غرض آج کل سوشل میڈیا ماہرین نے یہ نسخوں اور ٹوٹکوں کی بھرمار کر رکھی ہے تو ان کو پڑھ اور سن کر بندہ کدھر جائے؟ بقول حبیب جالب
اے شام غم بتا کہ سحر کتنی دور ہے؟
آنسو نہیں جہاں وہ نگر کتنی دور ہے؟
کوئی پکارتا ہے تجھے کب سے اے خدا
کہتے ہیں تو ہے پاس مگر کتنی دور ہے؟
بات ہورہی تھی ڈرنے اور لڑنے کی جبکہ اصل موضوع کے بیچ سخن گسترانہ بات آنے سے موضوع کی شاہراہ سے نکلنے والی پگڈنڈی پر چہل قدمی کرنا پڑی، یعنی وہ جو حکومتی بیانیہ تھا کہ کورونا سے ڈرنا نہیں بلکہ اس سے لڑنا ہے اور لڑ کر اسے شکست دینا ہے اور جس سے قوم کے اندر ایک ولولہ تازہ اور عزم پیدا ہوگیا تھا، گزشتہ روز خود وزیراعظم نے یہ کہہ کر کہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ کورونا پاکستان میں نہیں پھیلے گا، عوام کو ''تڑیاں'' لگانا شروع کر دی ہیں، چلئے اگر اس صورتحال کو تڑیاں قرار نہ بھی دیا جائے تو کم ازکم اسے تنبیہ، چتاؤنی اور فکرمندی تو قرار دیا جاسکتا ہے، تو پھر پہلے والا بیانیہ یوں تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے کہ ''ڈرنا نہیں، لڑنا ہے، مگر ڈرانے پر کوئی پابندی تو نہیں ہے'' حفیظ جالندھری نے ایسے ہی حالات کے بارے میں کہا تھا
دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی
وہ جو ماہرین ہیں، ان کے مشورے کا حشر تو تازہ خبر نے دکھا دیا یعنی اب خارش کا علاج کرانا پڑے گا۔ ویسے وہ یہ مشورے بھی تو ''بلامعاوضہ'' دیتے رہتے ہیں کہ ناک، آنکھوں اور منہ کو ہاتھوں سے نہیں چھونا، تو اس مشورے کے پیچھے جو ''نیک مقاصد'' کارفرما ہیں ان پر غور کرلینا چاہئے یعنی اب لوگ نہ تو منہ صاف کریں، نہ ناک صاف کریں نہ منہ دھوئیں، بہ الفاظ دیگر یہ حیثیت مسلمان وضو ہی نہ کریں حالانکہ نماز پڑھنے سے پہلے وضو بنانے کیلئے ناک صاف کرنا لازمی ہے۔ اب کیا بس تیمم سے ہی کام چلایا جائے؟ ویسے جب سے یہ مفت کے مشورے عام ہو رہے ہیں یہ کم بخت کھجلی زیادہ سرگرم ہو چکی ہے یعنی نہ صرف ناک اور آنکھوں بلکہ چہرے میں بھی اکثر خارش سی ہونے لگتی ہے اور اگر اس کیفیت سے جان نہ چھڑائی جائے تو کھجلی میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، اس پر ہمیں وہ بہت پرانا لطیفہ یاد آگیا ہے، جب ایک ہاتھ سے محروم شخص خودکشی کی نیت سے ایک دس منزلہ بلڈنگ سے نیچے کودنے کیلئے کھڑکی سے ایک پاؤں نکالتا ہے تو نیچے سڑک پر ایک نوجوان کو جس کے دونوں ہاتھ نہیں ہوتے، ڈانس کرتے دیکھتا ہے تو حیرت میں پڑ جاتا ہے اور یہ معلوم کرنے کیلئے کہ اس کا ایک ہاتھ نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی نے گھیر رکھا ہے تو جس کے دونوں ہاتھ نہیں ہیں، وہ کیوں خوش ہے اور یوں خودکشی کا ارادہ ملتوی کر کے لفٹ کے ذریعے نیچے آکر ناچنے والے کو روکتا ہے اور پوچھتا ہے کہ آخر اسے ایسی کونسی خوشی ہے جس نے ناچنے پر مجبور کر رکھا ہے، تو ناچنے والا اسے ایک لمحے کیلئے دیکھتا ہے اور جواب دیتا ہے ''ابے سالے، جب میری طرح کسی کے دونوں ہاتھ نہ ہوں اور اسے کھجلی ہورہی ہو تو بتاؤ وہ خارش مٹانے کیلئے اور کیا کرے؟ اب سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بندہ کیا کرے، ماہرین کے مشوروں پر عمل کرے تو خارش پیدا ہوتی ہے اور وزیراعظم کے بیانئے کے بعد ایک اور یوٹرن کو دل سے لگالے کہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ کورونا پاکستان میں نہیں پھیلے گا، تو ڈرنا نہیں لڑنا ہے کے نعرے کا کیا بنے گا؟ بقول مرزا غالب
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟