مذہبی اور سائنسی افکار بارے غلط فہمیاں

جب سے مغرب میں سائنس نے معاشروں کو اپنی گرفت میں لیا ہے اُس وقت سے بعض لبرلز اور سیکولرز نے مذہب کو سائنس کا مخالف اور مقابل کے طور پر لیا ہے جو قطعاً ایسا نہیں ہے۔ اس قسم کی غلط فہمیاں پیدا کر نے میں دونوں طرف سے زیادتیاں ہوئی ہیں اور اب بھی ہوتی ہیں۔ مغرب میں سائنس کے عروج کیساتھ ہی ریاست اور زندگی کے دیگر اہم اجتماعی امور سے مذہب کو یکسر نفی کر دیا گیا جبکہ دوسری طرف اسی زمانے میں مسلمانوں کے ہاں (خلافت عثمانیہ) پرنٹنگ پریس کے ذریعے قرآن کریم کی اشاعت کو مذہب کیخلاف قرار دیکر منع کیا گیا، جس کے اثرات مرتب ہو کر رہے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور مغرب ومشرق (بالخصوص اسلامی دنیا) کے درمیان یہ غلط فہمیاں یونہی جاری وساری ہیں۔ اگرچہ ساری دنیا میں اس کے باوجود کہ سائنس کا غلبہ ہے اور مذہب کو افراد کا ذاتی معاملہ بنایا گیا ہے لیکن مختلف مواقع پر دنیا کی ساری اقوام میںغیرمعمولی حالات، جنگوں، قحط اور وباؤں کی صورت میں بہرحال لوگ مذہبی عبادات اور شعائر کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، لیکن اس ساری بحث میں ایک بڑی غلط فہمی اور بدقسمتی یہ رہی کہ مسلمانوںکے ہاں بھی مغرب کے افکار اور فلسفہ سے متاثر طبقات نے اسلام کو بھی مسحیت، یہودیت اور ہندومت وغیرہ کی طرح مذہب کا درجہ ان معنوں میں دیدیا کہ اسلام مسلمانوں کیلئے ضابطہ حیات (قانون معاشرت، معاشیات اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کیلئے) کا درجہ رکھتا ہے لیکن ہم نے بھی ان دیگر اقوام کے دیکھا دیکھی بس چند مذہبی عبادات ورسوم تک ہی اس کو محدود کر دیا ہے۔ ستاون اسلامی ملکوں میں گزشتہ ڈیڑھ دو صدیوں سے کہیں بھی اسلام، لاء آف دا لینڈ نہ بنایا گیا نتیجہ یہی ہوا کہ کہیں مصیبت وتکلیف آئی تو ہمیں مذہبی روایات، وظائف اور تعلیمات یاد آئیں لیکن حالات اچھے رہے تو اپنے من موج میں لگے رہے۔ اسی بات سے یار لوگوں نے اسلام کو بطورمذہب دیگر مذاہب عالم کیساتھ نتھی کر لیا اور وقتاً فوقتاً جب کبھی دنیا کے دیگر بعض مذاہب کی سائنس سے متصادم تعلیمات کو بطور استہزاء لیا جاتا ہے تو اسلام پر بھی وار کرنے سے نہیں چوکتے۔ مکرر عرض کردوں کہ اسلام کے حوالے سے بعض غلط فہمیاں پیدا کرنے کا سبب بے شک خود مسلمان ہیں لیکن بہرحال اسلام کی مستند تعلیمات قرآن وسنت میں قیامت تک بنی نوع انسان کیلئے زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی کیلئے اصول موجود ہیں۔ یہ لمبی تمہید گزشتہ دنوں ایک انگریزی روزنامے میں ملک کے مایہ ناز سائنسدان کے ایک آرٹیکل جس میں اس حوالے سے استہزاء کا پہلو لئے ہوئے بہت دلچسپ معلومات شیئر کی تھیں' کے تناظر میں لکھی گئی۔ آپ نے چارلس ڈارون کے بارے میں پاکستان کے سکولوں اور کالج اساتذہ کے حقارت آمیز روئیے کا رونا روتے ہوئے لکھا تھا کہ چونکہ ہمارے ہاں بیالوجی کے باوا آدم کو سنجیدہ نہیں لیا گیا اسلئے مسلمان دنیا سائنسی تحقیقات بالخصوص میڈیسنز، میں پیچھے رہ گئی اور آج کرونا کے اس عالمی وباء کی صورت میں ٹونے ٹوٹکوں سے کام چلاتے ہوئے دیگر ملکوں کی طرف استمدادی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ پروفیسر صاحب کی یہ بات اپنی جگہ پر بہت صائب ہے کہ پاکستان میں سائنس وٹیکنالوجی کو وہ توجہ حاصل نہ رہی جو بیسویں صدی میں مغربی اقوام وممالک میں جاری رہی اور یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ ڈارون اور نیوٹن بہت بڑے سائنسدان تھے ان کی تھیوریز آف ایوالوشن اور گریویٹی اپنی جگہ مؤثر اور فطرت میں جاری وساری ہیں لیکن ارتقاء کا یہ مطلب لینا کہ کائنات میں جہاں جہاں ارتقاء جاری ہے وہ خودبخود ہے اور اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اورکن فیکون کا امر شامل نہیں، یقیناً اسلام کے بنیادی عقائد کیخلاف ہے۔ ہاں ان دونوں سائنسدانوں کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ جس زمانے میں مسلمان گہری نیند سو گئے انہوں نے ان نظریات واصولوں سے پردہ ہٹا کر تحقیقات کی ایک نئی دنیا آباد کرلی لیکن ان کے اور سائنس کے دیگر بڑے اساتذہ اور سوشیالوجی کے فلاسفر کی ساری تحقیقات وتخلیقات کے باوجود کسی طرح یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسلام نے زندگی کے روحانی پہلو کے حوالے سے جو تعلیمات دی ہیں وہ درخوراعتنا نہیں بلکہ اسلام بیک وقت اعتدال کی راہ دکھاتے ہوئے انسان کو سائنس اور مذہب کے درمیان موافق ومطابقت پیدا کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور خاتم النبیینۖ نے جو ہدایات وتعلیمات عطا فرمائی ہیں وہ قیامت تک اُنہی خصوصیات وصفات کی حامل ہیں جو بتایا گیا ہے۔ لہٰذا اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں کی طرف بھرپور توجہ دی جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے (ہم عنقریب لوگوں کو اُن کی اپنی جانوں اور آفاق میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ اُن کے سامنے واضح ہو جائے گا کہ یہ سب حق ہے) اس عالمی وباء کی روک تھام کیلئے جہاں سائنسدانوں کو سرجوڑ کر ویکسین ودوا کی ایجاد میں دن رات ایک کرنا چاہئے وہاں مسلمانوں کو بالخصوص اور دیگر اقوام کو بالعموم اپنے خالق حقیقی کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ فرض عبادات کیساتھ نفلی عبادات بالخصوص محتاج وتنگ دست انسانوں کی خدمت کر کے اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کا حصول ممکن بنانا چاہئے نہ کہ اس نازک موقع پر سائنس ومذہب کے درمیان معرکے زیربحث لانا۔ لاک ڈاؤن گھروں میں نماز اور اجتماعات سے گریز یہاں تک کہ حج بھی اگر ممکن نہ ہوا سب اسلام میں روا اور جائز ہے۔ ہندوتوا والوں کا گاؤ موتر کا معاملہ اپنا ہے۔ اسلام حرام اور ناپاک چیزوں کے کھانے پینے اور زیرعمل لانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس وباء سے محفوظ رکھے آمین۔