بار دگر تلخ نوائی پر معذرت حضور!

لطیفہ کہیں یا نقصان ہوا یہ ہے کہ ایک موضوع پر چند سطور لکھنا چاہتا تھا بات پھیلتی گئی اور اخبارمیں شائع ہونے والے کالم کے مساوی تحریر مکمل ہوگئی ۔ سوچا چلومحنت توکرہی لی ہے اسے اشاعت کے لئے بھیج دیتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ اسے محفوظ کرنے کے عمل میں کلک کرنے کی معمولی سی غلطی نے ڈیڑھ گھنٹے کی محنت برباد کر دی۔ اب قلم اٹھانے اور لکھنے کے سواکوئی دوسراراستہ نہیں بچا۔ چلیں ایک غلطی نے کچھ سبق بھی دیا اور انصافی دوستوں کی ناراضگی سے بھی بچا لیا۔ باقی اللہ مالک ہے ۔ آگئے بڑھتے ہیں سعودی عرب سے چار فیصد سود پرتین ارب ڈالر لئے ہیں یہ زرمبادلہ کے ذخائر کا حصہ ہوں گے۔ ایک ارب تیس کروڑ ڈالرکا ادھار تیل بھی تین فیصد سے زائد شرح پرملے گا۔ 72گھنٹے کے نوٹس پر تین ارب ڈالر واپس کرنا ہوں گے ۔ عدم ادائیگی کی صورت میں ڈیفالٹ قرار دیا جا سکے گا۔ اس انوکھے معاہدے کے بارے میں 28نومبر کو اپنے سوشل میڈیا اکائونٹس پر کچھ معروضات تحریر کیں تو لینے کے دینے پڑ گئے ۔ اخبار نویس اپنی اطلاع کو درست سجھتا تھا سوموار کی شام وفاقی کابینہ نے اس معاہدہ کی تصدیق کر دی۔ خارجہ پالیسی اور خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے”دور” کااس معاہدہ سے اندازہ کرلیجئے ۔ اس سے زیادہ کچھ عرض کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم چوہتر سال کے سفر کے بعد جہاں کھڑے ہیں یہ قابل فخر توکیا قابل ذکر مقام بھی نہیں اس کے باوجود داد کے ڈونگرے برسانے والوں کی کمی نہیں۔ مان لیجئے کہ رعایا اور عوام کے ملک الگ الگ ہوتے ہیں۔ اس ملک میں عوام ہوتے توسوال اٹھتے مگر کیا سوال موجودہ حکومت سے کرنا چاہیں؟ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے آئی ایم ایف سے طے پائی سات شرائط کا ڈھول بجانے کے دن تیزی سے بڑھتے چلے آرہے ہیں۔تحریر نویس کو صحافت کے کوچے سے رزق اٹھاتے نصف صدی ہونے کو آئی ہے ۔ گزرے ماہ و سال کے دوران تین اعلانیہ اور ایک غیر اعلانیہ مارشل لا دیکھے ۔جنرل ضیا الحق کا مارشل لا توبھگتا بھی اور خوب بھگتا۔ لگ بھگ نصف صدی سے کچھ کم اس سفر کے بعد پچھلے چند دنوں سے مایوسی غالب ہے ۔سچ تو یہی ہے کہ اب لکھنا پڑھنا مجبوری ہے مطالعے کا ذوق ختم ہوتا جارہا ہے چھ سات نئی کتابیں پچھلے ماہ منگوائیں دو کتب دوستوں نے بھیج دیں سامنے میز پررکھی ہیں پڑھنے کوجی نہیں کرتا۔ مایوسی کے یہ دن مختصر ہیں یا سفرحیات تمام ہونے پر ختم ہوں گے فی الوقت کچھ کہنے سے قاصر ہوں ۔ ہم سے اچھے بلکہ بہت اچھے وہ لوگ رہے جو سائیکل پرآئے تھے اور اب باعزت شہری ہیں بڑے پترکار اور سینئر تجزیہ کار بھی کہلاتے مانے جاتے ہیں ۔ ہم لگ بھگ نصف صدی سے لفظوں کو جوڑ کر رزق حاصل کر رہے ہیں مگر یہاں باعزت و مرتبہ کے حامل باربوائے اور سپلائی پر مامور لوگ ہوئے یا پولیس اور آئی بی کے وہ مخبر جو منہ کھولتے ہیں تو پھول جھڑتے ہیں کامیابی کی معراج یہ ہے کہ آپ مشرف دور میں بھائی کے نام پر اشتہاری کمپنی بنائیں خوب مال کمائیں سادھو کے سادھو رہیں ۔ ہمارے چار اور”سنت”دندناتے پھر رہے ہیں۔ جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے ۔ جنرل پرویزمشرف کے دور میں ریاست سے یوٹیلٹی بلز تک کا ہدیہ پانے والے معتبر ہیں دعوی یہ ہے کہ وہ آزادی صحافت کے مجاہد ہیں۔ ہوں گے ہمیں ان سے جلن یا حسد نہیں۔ دستیاب انسانی تاریخ ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے ۔ اس تلخ نوائی پر معذرت خوا ہوں ۔ کسی پر دوش نہیں ریاست یاکسی اور سے شکایت تھی نا ہے ۔ ہم اپنی پسند سے اس شعبہ میں آئے تھے ۔ ہاں بھلا وقت تھا صحافت ایک مشن اور نظریہ تھا اس کی بربادی میں بھی غیر جماعتی قومی انتخابات کرانے والوں کا حصہ ہے ۔ سول حکومتوں نے بھی کسر نہیں چھوڑی کیسے کیسے دانا بینا صحافی سرکاری عہدوں پرفائز کر دیئے ۔ پی ایف یو جے کا دستور کہتا ہے صحافی وہی ہے جس کا ذریعہ روزگار یہی آمدنی ہو۔ چار اور دیکھ لیجئے پی ایف یو جے کے دستور کی اس شق پرکون کون پورا اترتا ہے۔ خیر جس ملک میں اس کے اپنے دستور کی رتی برابر اہمیت نہ ہووہاں کسی تنظیم کے دستور پر عمل نہ ہوسکنے پرشکوہ کیسا۔ مرحوم دوست پروفیسر غلام محمد قاصر یاد آرہے ہیںکروں گا کیا جومحبت میں ہوگیا ناکام مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتامایوسی بھرے اس شب وروز میں ان کا یہ شعروظیفہ بنا ہوا ہے ہوسکتا ہے اس مایوسی کی ایک وجہ کراچی میں مسائل کا شکار بیروزگار صحافی فہیم کی خود کشی ہو لیکن ہم میں یہ حوصلہ بھی نہیں ہے ۔ گوادر کی بندر گاہ کو امریکہ بہادر کی ناراضگی کے باوجود آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی نے ہانک کانگ کی کمپنی سے واپس لے کر چین کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور پھر بھگتا بھی۔ میمو گیٹ اسی فیصلے کی سزا تھی۔ چلیں کسی دن تفصیل سے بات کریں گے ابھی یہ کہ بلوچستان کے اس ساحلی شہر میں گزشتہ روز گھریلو خواتین نے ایک تاریخی احتجاجی جلسوس نکالا۔( گھریلو اس لئے لکھا کہ اس شہر کے مخصوص سماجی قبائلی پس منظر میں خواتین کا گھروں سے بلا ضرورت نکلنا انہونی کے برابر ہے) لیکن سوموار کویہ انہونی ہو گئی خواتین اپنے مردوں پر ٹوٹے بیروزگاری کے عذاب ‘شہری سہولتوں کے فقدان اور خصوصاً پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی پر احتجاج کر رہی تھیں۔ ماہی گیری سے منسلک ہے گوادر کی اکثریتی آبادی اور ان ماہی گیروں کا استحصال ہو رہا ہے ۔ مقامی لوگ ہر جگہ نظر انداز ہو رہے ہیں شہر کے داخلی وخارجی راستوں پر لگے ناکوں پر ان کی تذلیل معمول کا حصہ ہے کئی ہفتوں سے ایک دھرنا بھی جاری ہے لیکن خواتین کا احتجاجی جلوس منفرد واقعہ ہے ۔ آخری بات یہ ہے کہ بلوچستان حکومت نے سڑکوں اور شاہراہوں پر احتجاجی مظاہروں ‘ جلوسوں اور دھرنوں پر پابندی لگا کر کہا ہے خلاف وزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔ سوال یہ ہے کہ یہ عالی شان قانون باقی کے تین صوبوں اور اسلام آباد میں نافذ کیوں نہیں کیا جاتا کیا بلوچستان والے درجہ چہارم کے شہری ہیں۔ ایک بار پروفیسر غلام محمد قاصر مرحوم سے مل لیجئے۔
لفظوں کا بیوپارنہ آیااس کو کسی مہنگائی میں
کل بھی قاصر کم قیمت تھا آج بھی قاصر سستا ہے