ایم ٹی آئی پر نظر ثانی کی ضرورت

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے یہ ریمارکس قابل غور ہیںکہ حکومت نے ایم ٹی آئی کے نام پر سرکاری ہسپتالوں کو غیر فعال کر دیا ہے ۔ صوبے کا سب سے بڑا اور قدیم ہسپتال لیڈی ریڈنگ توجیسے غیر فعال ہے، کارڈیالوجی وارڈ کو غیر فعال کرکے مریضوں کے لئے مشکلات پیدا کی گئی ہیں، حکومت کیا چاہتی ہے، کیا یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ہسپتالوں میں رلتے رہیں، ایم ٹی آئی کا بہانہ بنا کر حکومت ہسپتالوں کی غیر معیاری کارکردگی سے جان نہیں چھڑاسکتی، سینئر ڈاکٹر ہسپتال کو چھوڑ کرجارہے ہیں، کارڈیالوجی وارڈ کا جو حشرہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ایل آر ایچ صدیوں پرانا ہسپتال ہے جسے اس حکومت کے ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت تباہ کیا گیا، لوگوں کی تکالیف دور کرنی ہوں گی۔چیف جسٹس نے کہا کہ صحت سے متعلق اچھی خبریں نہیں مل رہیں، اس وجہ سے لوگ مجبورا نجی ہسپتالوں کا رخ کررہے ہیں۔صوبے کے اعلیٰ عدلیہ کے معزز چیف جسٹس کے ریمارکس میں اضافہ ممکن نہیں انہوں نے پوری تفصیل سے حالات سامنے رکھے ہیں جس پر اب حکومت کو سنجیدگی سے غو رکرنے اور ایم ٹی آئی پر نظر ثانی پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تدریسی ہسپتالوں کو خود مختار بنا کر علاج معالجے کی سہولتوں میں بہتری لانے کی حکومتی سوچ اور فیصلے پر اعتراض و عدم اعتراض الگ مسئلہ ہے لیکن اس تجربے میں کامیابی نہ ہونے شکایات میں اضافہ اور علاج معالجہ کی بہتر سہولتوں کی بجائے ہسپتالوں کا ماہر معالجین سے خالی ہونا ایسا ا مر ہے جس پر مزید تاخیر کئے بغیر غور نہ کیا گیا تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو جائے گی اور سرکاری تدریسی ہسپتالوں کا وجود اور جواز دونوں ہی خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں امر واقع یہ ہے کہ کسی فیصلے سے قبل اس حوالے سے پوری چھان بین ‘ منصوبہ بندی کے علاوہ اہم یہ بھی ہوتی ہے کہ اس نظام کو چلانے کے حالات اور مناسب افراد کا تقرر کیا جائے بہتر یہ تھا کہ اس نظام کو متعارف کراتے ہوئے محولہ تمام امور کے علاوہ تربیت یافتہ اور تجربہ کار افراد کی خدمات لی جائیں اور نظام کو بتدریج متعارف کراتے ہوئے اس کی خامیوں کو دور کرنے پر توجہ دی جاتی سب سے ضروری امر یہ کہ اس نظام کوجن کی وساطت سے چلانا تھا ان سے مشاورت ہوتی ان کی معروضات کو سنا جاتا ان کو تحفظ کے ساتھ ان کے تحفظات کو دور کیا جاتا لیکن یہاں بالعموم برعکس عمل اختیار کیا گیا جس کے نتیجے میں انتظامیہ اور طبی عملے میں ا ختلافات نے جنم لیا دوریاں بڑھیں اور انتظامیہ کی جانب سے ماہر ڈاکٹروں کی تکریم تو درکنار ان کو ہراسان کرنے کے حربے آزمائے گئے سینئرز کو جونیئرز کا ماتحت کر دیا گیاتو یکے بعد دیگرے ڈاکٹر نے ہسپتالوں سے استعفے دینے لگے جس کا نتیجہ آج سامنے ہے ان سارے امور کے تناظر میں چیف جسٹس کے ریمارکس وہ حتمی رائے ہے جس کے اظہار کے بعد اب اس نظام کو چلانے باقی رکھنے یا پھر اس کے سرے سے خاتمے پر حکومت کو غور کرنے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے ایک بات بہرحال طے ہے کہ آنے والی حکومت اس نظام کو یقیناً لپیٹنے کا ہی فیصلہ کرے گی قبل اس کے کہ حکومت اس ناکام تجربے کا ادراک کرے اور اگر ایم ٹی آئی میں اصلاحات لا کر اسے قابل قبول اور باعث منفعت بنانے کی گنجائش ہے تو اس میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے کم از کم ایک بات طے ہے کہ ہسپتالوں کا نظام زبردستی نہیں چلایا جا سکتا اور نہ ہی ڈاکٹروں سے اس طرح سے کام لیا جا سکتا ہے جس میں ان کی رائے اور مشورہ شامل نہ ہو اس نظام کے خلاف ڈاکٹروں کا رد عمل ملازمت چھوڑنے کا ہے جس کے تدارک کا کوئی قانون اور انتظامی راستہ نہیں سوائے اس کے کہ ان کی ملازمتوں کی حرمت بحال کی جائے ان کو احترام دیا جائے اور میرٹ پر کام لیا جائے اور عہدے دیئے جائیں تدریسی ہسپتالوں کی حالت زار سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والے نجی ہسپتال ہیں جہاں مریض ان ڈاکٹرز سے علاج کے لئے جاتے ہیں جو سرکاری ہسپتالوں پر نجی ہسپتالوں کوترجیح دے کر وہاں ملازمتیں کرنے لگے ہیں ۔خیبر پختونخوا میں صحت کی سہولتوں کے حوالے سے صحت کارڈ کی صورت میں یقینا بڑا کام ہوا ہے اور حکومت عوام کو مفت علاج کی سہولتیں دینے کے لئے عملی طور پر کوشاں ہے مگر جہاں وسائل خرچ کرنے کے باوجود مطلوبہ نتائج ہی حاصل نہ ہوں عوام کی شکایات اور مشکلات میں کمی نہ آئے وہاں اصلاحات کا جائزہ اور فیصلہ پر نظر ثانی ضروری ہے صوبے کے سب سے بڑے اور قدیم تدریسی ہسپتال کے حوالے سے معزز چیف جسٹس کے ریمارکس ہی کافی ہیں جس نظام کو سب سے پہلے یہاں متعارف کرایا گیا تھا اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت اس سارے معاملے کا جائزہ لے گی اور عوام کوعلاج معالجے کی بہتر سہولتوں کی فراہمی میں رکاوٹوں اور مشکلات کو دور کرنے میں مزید تاخیر کا مظاہرہ نہیں ہو گا۔