مہنگائی، اب مارچ، مارچ میں کیوں؟

پی ڈی ایم کی قیادت نے اسمبلیوں میں استعفوں کو مؤخر کیوں کیا یہ ان کا سیاسی فیصلہ اور صوابدید ہے ، 23مارچ کو مہنگائی مارچ کا فیصلہ بھی مضحکہ خیز ہے ، ان کی کال کو بھی سوشل میڈیا پر ”مسڈ کال” قرار دے کر مذاق اُڑانا بلا جواز نہیں، مہنگائی جب اس وقت عروج پر ہے اور مہنگائی کا جادو سر چڑھ بول رہا ہے تو مارچ تک اس کے خلاف مارچ کا انتظار کیوں کیا جائے، یہ منطق اگر عوام کو سمجھائی جائے تو بہتر ہو گا۔ یوم پاکستان کے موقع پر مارچ کی کال دینے پر وفاقی وزیر داخلہ کا اعتراض بے جا نہیں ہے، ایک ایسے دن جب قوم کو متحد ہو کر اس عزم کا اعادہ کرنے کی ضرورت ہے جو قیام پاکستان کی بنیاد بنا اس روز سیاسی انتشار اور نااتفاقی کا مظاہرہ مناسب فیصلہ نہیں ،احتجاج بلاشبہ حزب اختلاف کا قانونی و اخلاقی حق ہے
اس پر معترض نہیں ہوا جا سکتا ، مگر اس کے لیے قومی دن کا انتخاب قابل تبدیل فیصلہ ہے جس پر نظر ثانی کی جائے تو خود حزب اختلاف کے حق میں بہتر ہو گا ، اسے حزب اختلاف کی دو عملی ہی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ ایک جانب وہ دسمبر میں ایوان کے اندر تبدیلی لانے کے اشارے دے رہی ہے اور دوسری جانب عوامی احتجاج کے فیصلوں پر ہی اکتفا کرتی نظر آتی ہے ، اس طرح کا ایک ناکام تجربہ حزب اختلاف پہلے بھی کرچکی ہے ۔ صورت حال کا اگر مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو ضمنی انتخاب ہوں یا بلدیاتی انتخابات یا پھر حکمران جماعت ، پیپلز پارٹی اور حزب اختلاف کے اتحادی جماعتوں کے جلسے جلوس عوام اب ان سب سے اکتا چکی ہے ، عوام ان ساری سرگرمیوں سے بیزار اور اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں جس میں سرفہرست یقیناً مہنگائی ہے جسے حزب اختلاف کیش کرنے کی کوشش ضرور کر رہی ہے مگر اس کے لیے بھی حزب اختلاف کو موسم اور سازگار وقت کا انتظار ہے جو دع عملی اور خود غرضی کے سوا کچھ نہیں ، مہنگائی کی اسی عفریت کا خود حکمران جماعت کے کارکنوں یہاں تک کہ قیادت کو بھی احساس ہے اور وہ بھی اسے برابر صلہ قرار دے رہے ہیں ۔ مشیر خزانہ اور ماضی قریب کے ایک وزیر خزانہ مہنگائی سے آئندہ پندرہ دنوں یا کچھ زیادہ عرصہ میں نکلنے اور مہنگائی میں کمی کا عندیہ دے رہے ہیں جن کے دعوئوں کی حقیقت کا عوام کو بخوبی علم ہے لیکن بفرض محال اگر مہنگائی میں کمی آتی ہے تو پھر حزب اختلاف کے مارچ کا کیا ہو گا؟ ہمارے تئیں مہنگائی کا علاج مارچ اور احتجاج نہیں بہتر معاشی پالیسیاں اور ٹھوس منصوبہ بندی و فیصلے ہیں ان سب کے لیے ملک میں استحکام اور انتشار سے گریز ضروری ہے ، ملک میں سیاسی عدم استحکام کے اثرات معاشی بدحالی کی صورت ہی میں سامنے آتے ہیں، ایک ذرا سی جنبش پر سٹاک مارکیٹ کریش کر جاتی ہے ، حزب اختلاف کی جماعتیں اگر مہنگائی میں کمی لانے کے لیے واقعی سنجیدگی سے خواہاں ہیں تو ان کو کم از کم اس حوالے سے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو فضا کو ساز گار بنانے میں تعاون کرنا ہو گا ، احتجاج کر کے کاروبار حیات کی معطلی مزید مسائل کا باعث ہوگا ، حکومت کی مخالفت کا زیادہ بہتر فورم پارلیمان سے بہتر کوئی فورم نہیں اور حکومت کی تبدیلی بھی اگر ایوان کے ذریعے ہی ہو تو نظام حیات کے تعطل سے کہیں بہتر اور آسان عمل ہو گا ، حزب اختلاف کو ایسا راستہ اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے جو خود ان کے لیے مشکل ساکھ کے سوال کا باعث اور عوام کے لیے بھی تکلیف دہ ہو۔
بلا تاخیر آپریشن کیا جائے
تاریخی مسجد مہابت خان کے احاطے میں دکانوں کے خلاف آپریشن کے لیے حکومت نے جس عزم کے ساتھ تیاریوں کا عندیہ دیا ہے ، اسے کسی دبائو اور مصلحت کا شکار نہیں ہونے دینا چاہیے ، تاریخی مسجد کی بحالی اور تزئین و آرائش میں جو رکاوٹیں ہیں ان کو گرانے ، انہدام اور ہٹا کر تاریخی مسجد کی بحالی کا عمل بلا تاخیر مکمل کرنے کی ضرورت ہے، اس ضمن میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے ، مزید تاخیر سے تاریخی مسجد کو نقصان پہنچنے اور اس کے انہدام کا خطرہ ہے۔ پشاور کے شہریوں کو بھی اس قدیم مسجد کی بحالی کے عمل میں حکومتی اقدامات کی تائید و حمایت کی ذمہ داری نبھانی چاہیے اور چند کاروباری افراد کے مفاد کو اس احسن عمل پر کسی صورت ترجیح نہیں ملنی چاہیے، توقع کی جانی چاہیے کہ جلد سے جلد یہ عمل مکمل کیا جائے گا اور مسجد کی تزئین و آرائش و بحالی کے کام کاآغاز ہوگا۔
حکومتی ترجیح کی ایک مثال
نہروں کی صفائی اور آلودگی سے پاک نکاسی آب کے لیے مشینری کی خریداری اور کھیلوں کی سرگرمیوں جیسے ضروری ترقیاتی اور عوامی کاموں کے لیے مختص رقم سے کٹوتی کر کے نتھیا گلی کے گورنر ہائوس کے گرد خاردار تاریں لگانے کے لیے استعمال ، حکمران جماعت کی پالیسی کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ اس کا فیصلہ کس نے کیا اور کس کی ہدایت پر ایسا کیاگیا اس کی تحقیقات ہونی چاہیے ، اس طرح کے عوامل حکومتی ترجیحات اور شخصیات کے فیصلوں کا آئینہ دار ہوتے ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عوام کے غمخوار اور تبدیلی کے دعویدار اپنے وعدوں اور دعوئوں کی تکمیل میں کس حد تک سنجیدہ ہیں۔ گورنر ہائوس کو یونیورسٹی اگر نہ بنایا جا سکا تو کم از کم عوامی فلاح کے فنڈز سے متروک اور کبھی کبھی زیر استعمال عمارت کے گرد خاردار تاریں لگانے کے لیے تو مستعمل نہ ہوں۔