آن لائن کلاسز، آخر کیوں؟

یہ ایک دورِ ابتلاء ہے، اس وقت بنی نوع انساں کو ایک غیرمرئی اور خطرناک دشمن یعنی (Covid-19) کا سامنا ہے۔ تاحال اس مرض کا مکمل علاج سامنے نہیں آسکا اور دنیا کے بیشتر ممالک کے نظام ہائے صحت اس کے آگے بے بسی کا شکار ہیں۔ یہ عالمی وباء نہ صرف لوگوں کے جان ومال کیلئے خطرے کا باعث ہے بلکہ بقول ہنری کسنجر یہ ''معاشرتی شکست وریخت'' کا بھی سبب بن رہی ہے۔ معیشت کا پہیہ رُک گیا ہے اور معاشرتی وتعلیمی سرگرمیاں بھی بند ہو چکی ہیں۔ ا گرچہ مستقبل قریب میں اس مرض کے علاج کی طرف پیشرفت کی توقع کی جاسکتی ہے لیکن معاشرے پر اس کے منفی اثرات تادیر رہنے کا امکان ہے۔
یہ جنگ دوجہتی ہے، ایک طرف تو اس مرض سے بچاؤ کی خاطر ہر فرد کیلئے خود کو دوسروں سے الگ رکھنا ضروری ہے تو دوسری طرف معاشرتی ومعاشی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے لوگوں کے باہم میل جول کی بحالی بھی بہت اہم ہے۔ یہ امر ناگزیر ہے کہ ہم معاشرتی وسماجی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے فوری اقدامات کرنے کی طرف توجہ دیں۔
جامعات بھی اسی مخمصے کی عکاس ہیں، یہ بات حقیقت ہے کہ جامعات میں مختلف علاقوں اور پس منظر سے آئے ہزاروں لوگ ایک دوسرے کیلئے اس وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں جس کیلئے جامعات کی بندش کے علاوہ کوئی چارہ نہیں لیکن یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ کوئی بھی معاشرہ جامعات جو علم کے پھیلاؤ کا بنیادی وسیلہ ہیں کی طویل بندش کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بدقسمتی سے ماضی میںہمارا معاشرہ تعلیمی نظام میں متعدد بار تعطل کی بھاری قیمت ادا کرچکا ہے۔
اس صورتحال میں ہایئر ایجوکیشن کمیشن کا مطمح نظر یہ رہا ہے کہ اس وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات کیساتھ ساتھ یہ امر بھی ملحوظ رکھا جائے کہ جامعات کی بندش سے ہونے والے تعلیمی نقصان کوکم ازکم سطح پہ رکھا جاسکے۔ خوش قسمتی سے طلباء کے وقت اور پیسے کے ضیاع سے بچنے کیلئے آن لائن تدریس ہمیں ایک مؤثر ذریعہ فراہم کرتی ہے۔ لہٰذا ایچ ای سی نے تمام جامعات پر یہ زور ڈالا ہے کہ وہ اس تبدیلی کیلئے اپنے آپ کو تیار کریں اور جس قدر جلد ممکن ہو اپنے طلباء سے آن لائن رابطہ مستحکم اور مؤثر بنانے کیلئے فوری نوعیت کے اقدامات کریں۔ تاہم طلباء اور اساتذہ کی واضح اکثریت اپنے وقت کا بہتر استعمال اور تعلیمی سلسلے کی تکمیل چاہتی ہے تاکہ وہ ملکی ترقی کیلئے اجتماعی کاوش میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ یقینا ان حلقوں کی طرف سے بھی معیار اور Connectivity جیسے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے لیکن ان کا مطالبہ اس حل سے اجتناب کی بجائے اس کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے جوکہ ایک قابل قدر بات ہے۔ میں ایسے تمام طلباء اور اساتذہ کو یقین دلانا چاہوں گا کہ ایچ ای سی ان مسائل کے حل کیلئے پوری طرح مصروف عمل ہے۔
یقینا اس مرحلے پر تو جامعات کی ایک محدود تعداد ہی اعلیٰ معیار کی آن لائن تدریس شروع اور جاری رکھنے کی پوزیشن میں ہے۔ تاہم اگر باقی جامعات ایچ ای سی کے وضع کردہ لائحہ عمل کے مطابق تیاری شروع کر دیں تو وہ بھی جون2020 تک معیاری سطح کی آن لائن تدریس شروع کرنے کی پوزیشن میں آجائیں گی۔ اس حوالے سے ایچ ای سی مختلف طریقوں سے جامعات کو متفرق سہولیات فراہم کر رہا ہے جن میں متعلقہ سوفٹ ویئر اور آن لائن تدریسی مواد کی دستیابی، اساتذہ کی تربیت، طلباء کی قابلیت کی آن لائن جانچ کے بارے میں رہنمائی اورConnectivity کی بہتری کیلئے معاونت شامل ہے۔
معیار سے متعلق خدشات کے پیش نظر وائس چانسلرز کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ آن لائن تدریس صرف اُس وقت شروع کریں جب وہ ذاتی طور پر مندرجہ ذیل چھ بنیادی نکات کی بابت تصدیق کر لیں۔
) (i University Readiness
متعلقہ یونیورسٹی کے پاس لرننگ مینجمنٹ سسٹم (LMS) دستیاب ہو اور آن لائن کورسز کے معیار کی جانچ کیلئے ایک نگران کمیٹی کی تشکیل کی جاچکی ہو۔
(ii) Faculty Readiness
تمام متعلقہ اساتذہ آن لائن تدریس کے حوالے سے تربیتی کورس کرچکے ہوں۔
(iii) Course Readiness
کورسز سے متعلق تمام معلومات LMS میں دستیاب ہوں۔
(iv) Library Readiness
کورسز کا تمام مطالعاتی مواد یونیورسٹی کی جانب سے آن لائن فراہم کردیا گیا ہو۔
Technology Readiness (v)
آن لائن تدریس کی ٹیکنالوجی سے متعلق تمام ضروریات فراہم کر دی گئی ہوں۔
(vi) Student Readiness
تعلیمی مواد تک رسائی اور Connectivityکی طلباء کو ضروری سہولیات مہیا کر دی گئی ہوں۔
یقینا ہم سب کو موجودہ صورتحال میںجلد بہتری کی اُمید رکھنی چاہئے۔ اگر تو لاک ڈاؤن جون تک ختم ہوجاتا ہے تو جامعات اپنے معمول کا تدریسی عمل دوبارہ شروع کر سکتی ہیں لیکن اگر وباء کی صورتحال کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں مزید توسیع ہوتی ہے تو اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں رہے گا کہ تعلیمی عمل کی بحالی کیلئے آن لائن تدریس کا سہارا لیا جائے۔ ہمیں اُمید ہے کہ ہماری نوجوان نسل خصوصاً طلباء ان مقاصد کے حصول کیلئے ہراول دستہ ثابت ہوگی۔