مشرقیات

سیاست سے ہٹ کر کوئی لکھے بھی تو کیا لکھے ہر موضوع سیاست زدہ ہوگیا ہے،آپ کسی ایک شعبے کا بتائیں جو سیاست سے آلودہ نہ ہو،شوبز اور کھیلوں سے وابستہ سابق اور حاضر سروس اسٹار تک سیاست میں ملوث ہو کر کھلے عام اپنی سیاسی وابستگی ظاہر کرکے داد بے داد سمیٹ رہے ہیں ۔بیوروکریسی میں بھی سیاسی جماعتوں کے گرگے کوئی نئی بات نہیں یہ سب اپنی اپنی جماعتوںاور ان کے لیڈروں کا حق خدمت ادا کرنے کا موقع جانے نہیں دیتے اور ہماری خدمت شدمت کاموقع انہیں طویل عرصہ ملازمت میں بھی نہیں ملتا،آپ نے دیکھا ہی ہوگاکہ بابو حضرات کس طرح حکم حاکم بجا لانے کے لیے ہمہ وقت دوڑ دھوپ کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں حکم حاکم کا تعلق ہمارے کسی حق ادائیگی سے ہو تو حق تویہ ہے کہ حق ادا ہواتاہم ایسا نہ ہم نے دیکھا نہ سنا بجائے اس کے بابوئوں کی ساری دوڑدھوپ کا مقصد اپنے سیاسی گرو کی خوشنودی اور اس سے وابستہ مراعات پر ہوتا ہے ۔ہم نے تو اپنے اسکول کے زمانے میں ایک ایسے اعلی سطح کے بابو کو بھی دیکھا ہے جو وزیرباتدبیر کی واسکٹ پر نظر نہ آنے والی گردوغبار کو اپنے ہاتھوں سے جھاڑنے پر معمور تھے۔اس معمولی سی خدمت کے بدلے ان بابو صاحب نے آگے ترقی کی تمام منازل آسانی سے طے کیں۔یہ تو بابوئوںکا حا ل رہا اب آئیں عام لوگوںکی طرف۔انہیں عام سمجھ کر ہر کوئی آم کی طرح چوستا رہتاہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ عام سے آم بننے کا سارا شوق انہیں خود ہی ہوتاہے،اپنے علاقے کے ہر صاحب رسوخ اور ثروت کے ڈیرے سے یہ مرادیں پال لیتے ہیں اپنے بچوںکو چپڑاسی بھرتی کرانے کے بعد ساری عمر بندہ بے دام بن کر خان خوانین کی خدمت پر جت جاتے ہیں ،ووٹ کیا چیز ہے جان بھی ان کے حکم پر نچھاور کرنے کو تیار رہتے ہیں۔حجروں ڈیروں کی صفائی سے لے کر اپنے محسن کے بچوں کی شادی بیاہ کی تیاریوں کے ہر مرحلے پر یہ لوگ مفت میں ساری خدمات سرانجام دینے کے لیے ازخود پہنچ جاتے ہیں۔بدلے میں انہیں اتنا باسی کھانا میسر آجاتا ہے کہ اگلے دوچار دن دال آٹے کی فکر سے آزاد ہو جاتے ہیں ان کی ساری دوڑدھوپ یا چمچہ گیری کہہ لیں ان دوچار لقموں کے لیے ہوتی ہے ۔ہمارے ہاں سطح غربت سے نیچے رہنے والوں کی اکثریت ایسے ہی مفت کی خدمت اور بعد میں روٹیاں توڑنے کے باعث کبھی بھی غربت کی سطح سے اوپر نہی اٹھی۔دو چار فیصد لوگ ہوتے تو کوئی خاص بات نہیں تھی تاہم ہمارے ہاں ایک تہائی سے زیادہ لوگ صرف جسم وجاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے چند لقموں کے عوض اپنی توانائیاں بیچ دیتے ہیں اور پھر زندگی بھر زندہ باد مردہ کے نعرے ان کی زبان پر ہوتے ہیں غلامی اور استحصال کے ہر ہتھکنڈے کو یہ لوگ سیاست سمجھتے ہوئے خوئے غلامی میں ہی خوش رہتے ہیں اور ان کی عقل میں آزادی کا خیال آئے بھی تو برسوں کے پالے سیاسی تعصب کے سامنے یہ خیال ہو ا ہو جاتا ہے ۔