جامعہ عثمانیہ پشاورنے بھی صحت کارڈپرفتویٰ دےدیا

پشاور(نیوزرپورٹر) انشورنس کارڈ پر مفت علاج کے بعض صورتوں پر جامعہ بنوری ٹائون کراچی کے ایک فتویٰ سے پیدا ہونیوالے ابہام کے خاتمہ کیلئے جامعہ عثمانیہ پشاور نے فتویٰ جاری کردیا۔ جامعہ عثمانیہ کی مجلس فقہی کے سامنے سوال رکھاگیا تھا کہ ہیلتھ انشورنس یاصحت کارڈپروگرام کی شرعی حیثیت کیا ہے؟جامعہ عثمانیہ کی طرف سے جاری کردہ فتویٰ میں کہاگیا ہے کہ عوام کومفت علاج کی سہولت فراہم فلاحی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اس لئے عوام ریاست کی طرف سے دی جانے والی سہولت سے فائدہ اٹھائیں اس کاکوئی وبال یا گناہ نہیں۔ ہیلتھ انشورنس یاصحت کارڈ کے علاوہ بھی عوام اورخواص کئی دیگرحکومتی اقدامات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔یادرہے کہ جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹائون کے دارالافتا نے ہیلتھ انشورنس کی بعض صورتوں کوسود اورجوئے سے تعبیر کرتے ہوئے حرام قراردیاتھا۔

مزید دیکھیں :   لمپی سکن سےمتاثرہ جانور کا گوشت کھایا جاسکتا ہے،ڈی جی لائیواسٹاک