شانوں پہ زلف، زلف میں دل، دل میں حسرتیں

کیا مراجعت کرتے ہوئے ہم قیام پاکستان اور اس سے بھی کچھ پہلے کے دور میں سانس لینے کی تیاری کر رہے ہیں؟ لاک ڈائون کی وجہ سے باربر شاپس مسلسل بند رکھے جانے کی وجہ سے لوگوں کو بال کٹوانے اور باریش حضرات کو داڑھیاں سیٹ کروانے میں جو مشکلات درپیش ہیں اگرچہ کلین شیو کرنے والوں کو کم ازکم داڑھی کے معاملے میں ان بکھیڑوں میں پڑنے کا کوئی مسئلہ نہیں تاہم بال تر شوانے میں انہیں بھی مشکلات کا سامنا ہے جس کا حل محدود طور پر ہی سہی یار لوگوں نے یوں ڈھونڈ لیا ہے کہ اپنی اپنی جان پہچان کے زلف تراشوں کو گھر پر ہی بلوا کر بڑوں سے لیکر بچوں تک کے بال اور بزرگوں کی داڑھیاں سیٹ کروانا شروع کردی ہیں، اس پر ہمیں وہ دور یاد آرہا ہے جب غریب غربے شہر میں مختلف مقامات پر چٹائیاں بچھا کر حجامت کرنے والے باربروں یا زلف تراشوں سے حجامت کروایا کرتے تھے۔ یہ زلف تراش اور باربر کے الفاظ تو کچھ بعد کے دور کی بات ہے جبکہ اس دور میں حجامت بنانے والوں کو عام طور پر حجام یا نائی کے ناموں سے پکارا جاتا تھا، بلکہ ذرا سماجی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس لفظ ''نائی'' میںگہری معنویت پوشیدہ نظر آتی ہے اور یہ ایک شخص نہیں بلکہ ایک ''ادارے'' کی حیثیت سے ہماری سماجی زندگی کا اہم حصہ تھا۔ خاص طور پر دیہی معاشرے میں تو اس کی اہمیت بہت زیادہ اور اسے ہر گھر کا فرد سمجھا جاتا تھا، جس کا کام نہ صرف ہر خوشی کے موقع پر تمام متعلقہ لوگوں کو بلوانے کا فریضہ ادا کرنا ہوتا تھا، شادی بیاہ کے مختلف رسومات میں ''ہر اول دستے'' کا کردار نائی ہی ادا کرتا، نیوندرہ سے لیکر ولیمے کے اختتام تک گھر کی تمام ذمہ داریاں اسی کے سپرد ہوتیں، بچوں خاص طور پر لڑکوں کی پیدائش کے موقع پر گھر گھر جا کر خوشخبری سنانے سے لیکر ختنے کرانے کی ذمہ داری بھی نائی ہی ادا کرتا، فوتگی کے موقع پر کفن دفن کے انتظامات، خیرخیرات بانٹنے وغیرہ جیسی سرگرمیوں میں بھی نائی ہی پیش پیش ہوتا اور گاؤں میں صبح سے شام تک گھوم کر لوگوں کے بال تراشنا، داڑھیاں سیٹ کرنا بھی اسی کے ذمے تھا، جس کیلئے یا تو یہ چمڑے کا ایک جیکٹ نما چیز سینے کیساتھ باندھ کر گھومتا جس میں سامنے کی طرف قینچی، کھنگی، استرا، بال کاٹنے کی ہاتھ سے چلنے والی مشین وغیرہ لٹکے ہوتے، جبکہ ہاتھ میں ایک چھوٹا سا برتن ہوتا، جس کے نیچے (سردیوں میں) کوئلے جلا کر پانی کو گرم کرنے کا کام لیا جاتا تاکہ بالوں کو گیلا کرکے یا پھر داڑھی کو صابن لگا کر کام چلایا جائے، یوں نائی کی چلتی پھرتی دکان ہر لمحے، ہر جگہ کھولی جا سکتی پھر جب یہ لوگ شہروں میں آئے تو کہیں اسی پرانے چمڑے والے جیبوں بھرے جیکٹ ان کے سینوں پر دکھائی دیتے تو کہیں چھوٹے چھوٹے بکسوں میں ان کی دکانیں سمٹ آتی تھیں، چند برس بعد جن حجاموں کے پاس کچھ سرمایہ جمع ہوگیا تو انہوں نے دکانیں قائم کر کے ایک شیشہ سامنے رکھ کر لوگوں کو کرسیوں پر بٹھا کر اپنا دھندہ چلایا اور دکانوں پر باربر شاپ، ہیئر کٹنگ سیلون قسم کے جدید ناموں کے بورڈ آویزاں کرنے شروع کر دیئے۔ جوں جوں صورتحال بہتر ہوتی چلی گئی تو کرسیوں میں بھی جدت آگئی اور گھومنے، پیچھے کی جانب جھکنے، کرسی کی پشت سے ٹیک لگانے کیلئے اوپر نیچے ہونے والے سہارے بھی کسی دکان کی جانب لوگوں کی توجہ دلانے کا باعث بنتے چلے گئے جبکہ مختلف جگہوں پر سقاوے بھی قائم کئے گئے جہاں لوگوں کا صبح سے شام تک تانتا بندھا رہنے لگا اور ہوتے ہوتے اب تو ہیئر کٹنگ سیلون جہاں سابقہ طرز کی دکانوں پر مشتمل ہیں وہاں انتہائی جدید مشینوں اور ماہر زلف تراشوں کیساتھ ساتھ بیوٹی پارلرز ماہرین سے مزین ہو رہے ہیں۔ آج کی نوجوان نسل جو جدید طرز کے شوقین ہیں، باقاعدہ فون کر کے پہلے سے وقت لیتے ہیں اور جب دوتین گھنٹے بعد ان مردانہ بیوٹی پارلرز سے باہر آتے ہیں تو مالکان پارلرز ان کی جیبیں خالی کرنے میں بہت حد تک کامیاب ہو چکے ہوتے ہیں، یعنی بال ترشوانے، شیمپو کرکے ہیر ڈرائر سے بال سکھانے، فیشل کرنے اور دیگر نہ جانے اور کون کونسی سہولیات حاصل کرنے کے بعد پانچ سات ہزار روپے تو لے ہی لیتے ہیں۔ اب ان جدید طرز کی دکانوں کی روزانہ آمدنی بعض اوقات لاکھ ڈیڑھ لاکھ تک بن جاتی ہے جبکہ شنید ہے کہ کراچی میں یہ کام بعض ٹی وی فنکاروں نے دکانیں بنا کر سنبھال لی ہے اور وہاں کام کرنے والوں کو ہزاروں روپے تنخواہ دیکر خود لاکھوں بٹور لیتے ہیں جبکہ ان ہائی کلاس شاپس سے استفادہ کرنے والے پھر بھی مطمئن نہیں ہوتے اور بقول شاعر
شانوں پہ زلف، زلف میں دل، دل میں حسرتیں
جب اتنا بوجھ سر پہ نزاکت کہاں رہی
بات مراجعت سے شروع ہو کر نہ جانے کتنے ادوار کا احاطہ کرتے ہوئے کہاں تک جا پہنچی ہے، اب جو یہ لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو بڑے پارلرز تو ایک طرف گلیوں، بازاروں میں قائم دکانوں کی بھی بری حالت ہے۔ یہ بے چارے بھی طبقے کے لحاظ سے غریبوں کی صفوں میں آتے ہیں مگر ان میں سے اکثریت سے وہ سرکاری ادارے یا سماجی تنظیمیں بے خبری کے عالم میں نظر آتی ہیں۔ مزدوری پہلے تو بالکل ہی عنقا ہو چکی تھی اب اکا دکا پرانے گاہک ان کو گھروں پر ضرور بلواتے ہیں مگر روزانہ پانچ دس ہزار کمانے والے جب بہ مشکل دوچار سو پر آجائیں تو ان کے گھروں میں پلنے والے بچے کیا کریں، کہاں جائیں گے، اب یہ اتنے ماہر بھی نہیں ہیں کہ چھ فٹ کی دوری سے بال تراشیں، داڑھیاں سیٹ کریں اور بچوں کیلئے رزق کمائیں، یوں دوسرے بیروزگاروں کی طرح ان کا کیا بنے گا؟ اس پر متعلقہ حکام کو ضرور سوچنا چاہئے، یعنی ان کی امداد کیسے کی جائے، اس بارے میں کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ بقول شوق جعفری
اب وہ موسم ہے کہ حالات سے ڈر لگتا ہے
آج ہر ہاتھ کو ہر ہاتھ سے ڈر لگتا ہے