مشرقیات

ہاتھ پہ ہاتھ دھر ے بیٹھے رہیں لاٹری کے انتظار میں تاہم تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ایسی قوموں کی کوئی لاٹری بھی نہیں نکلتی اپنی ہی ستر سالہ تاریخ پر نظر ڈال لیں ،جب آپ پاکستان بنانے چل پڑے تھے تو قرارداد کے بعد صرف سات سال بعد منزل مل گئی اب نیا سفر درپیش تھا مگر ہم سب آرام سے بیٹھ گئے اور منزل ستر برس بعدآنی کیا تھی الٹا ستر برس کی مسافت مزید بڑھ گئی اب تو اس نقصان کی تلافی کا موقع بھی نہیں رہا موقع اس لئے نہیں رہا کہ ہنوز مسافر جاگتی آنکھوں سے خواب بن رہا ہے کہ کہیں سے کوئی خزانہ ہاتھ آئے یا کوئی لاٹری ہی نکل آئے تو اس قوم کے سارے اگلے پچھلے حساب چکا کر گلچھڑے اڑائے جائیں،ادھر آسے پاسے کے جتنے بھی حریف ہیں انہوں نے بھلے سست رفتاری ہی سے سہی مگر سفر جاری رکھا اور آج آبادی میں ہم سے زیادہ ہونے کے باوجود معاشیات کے میدان میں بھی ہم سے کہیں آگے پہنچ چکے ہیں اپنے جڑواں بھائی بنگلہ دیش نے الگ گھر بسانے کے بعد تو کما ل ہی کر دکھایا فی کس آمدنی کے لحاظ سے ہم سے کہیں تیز دوڑ رہا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ مسلے کا حل کیا ہے ،لاٹری کو تو بھول جائیں یہ بھی مان لیا کہ زمین کے نیچے قدرت نے بے بہا خزانے دبا کر رکھے ہوئے ہیں تاہم اصل خزانہ تو ہر شخص اپنے جسم کے اوپری حصے میں لئے پھرتا ہے اسے کام میں نہ لائیں تو زمین کے اند ر اور باہر کے تمام خزانے عقل کے اندھوں کو نظر نہیں آتے۔اپنے علامہ صاحب کا ایک شعر آپ کو اچھی طرح یا دہوگا ،مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی جو ان کودیکھیں یورپ میں تو دل ہوتاہے سیپارہ توجناب ان کتابوں سے جو یورپ نے سیکھا اور اس علم کی بدولت جس ترقی سے یورپ جگمگا رہا ہے یہ روشنی بیٹھے بیٹھے حاصل نہیں ہوئی اس کے لئے صدیوں یورپ نے مغزماری کی ہے ہر میدان میں تب ہی اس نے ہر میدان میں اپنے جھنڈے گاڑے ہیں ۔کسی ایک بھی یورپی ملک اور انکل سام کے دیس کی بھی مثال دکھا دیں جہاں زمین نے کوئی خزانہ اگلا ہو یا ان کی کوئی لاٹری نکلی ہو ،دماغ کو کام میں لاکر انہوں نے صدیوں بعد ہی سہی عقل کے ذریعے اپنا حال اور مستقبل روشن کرنے کا سارا سامان کر لیا ہے کوئی مانے یا نہ مانے اسی راستے پر چل کر ہر انسان اپنے لیے خود شاندار مسقتبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے ہما شما کو بھی اب شیخ چلی کے خوابوں سے باز آجانا چاہیئے ،عقل کا استعمال کریں کچھ علم حاصل کر کے اسے کام میں لائیں یہ خزانہ ہی آپ کا میرا مستقبل سنوارے گا، زمین کے اند رچھپے خزانے بھی ان پر آشکار ہوتے ہیں جو ان کی آگہی رکھتے ہیں جو لاعلم ہیں انہیں قدرت محروم ہی رکھتی ہے۔

مزید دیکھیں :   جمہوری نظام سے فرار ہونے کے رحجانات