سابق حکومت کی نا اہلی کی گردان!

اتحادی حکومت کو قائم ہوئے چوتھا ماہ شروع ہو چکا ہے، توقع تھی کہ اس مدت کے اندر معاشی حالات بہتر ہو جائیں گے، کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت کو ختم کرنے سے پہلے اپوزیشن جماعتوں نے دعویٰ بھی کیا تھا کہ ان کے پاس پورا معاشی پروگرام اور تجربہ کار معاشی ٹیم موجود ہے، عوام نے بھی انتظار کیا اور اتحادی حکومت کو موقع دیا تاکہ وہ اپنی سوچ کے مطابق معاشی پروگرام تشکیل دے سکے، تحریک انصاف کے علاوہ باقی سیاسی جماعتیں چونکہ حکومت کا حصہ ہیں اس لئے اتحادی حکومت کو بظاہر کسی چیلنج کا سامنا بھی نہیں ہے، بقول اتحادی جماعتوں کے ان کی بہترین سفارت کاری کی وجہ سے امریکہ سمیت عالمی سطح پر فضا ان کے حق میں ہے، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس)ایف اے ٹی ایف(کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نام نکالے جانے کا عندیہ بھی حکومت کی کامیابی ہے جبکہ آئی ایم ایف سے بھی مالی پیکج مل گیا ہے،اس کے بعد توقع تھی کہ اتحادی حکومت ملک کو معاشی گرداب سے باہر نکالنے میں ضرور کامیاب ہو جائے گی، مگر عملی طور پر ایسا نہیں ہوا ہے بلکہ مسائل پہلے کی نسبت کئی گنا بڑھ گئے ہیں، پٹرولیم مصنوعات اور ڈالر کی قیمت کو دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اتحادی حکومت معاشی حالات پر قابو پانے سے قاصر ہے، اس ناکامی کا اعتراف حکومتی وزراء کر رہے ہیں، وزیر خزانہ اور وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک کہہ چکے ہیں کہ معاشی حالات میں بہتری کے لئے مزید چار سے پانچ ماہ درکار ہوں گے، انہوں نے سارا ملبہ تحریک انصاف کی سابق حکومت پر ڈال کر خود کو بری الزمہ قرار دینے کی کوشش کی اور مؤقف اختیار کیا کہ مہنگائی میں اضافہ کی بنیادی وجہ سابق حکومت کے اقدامات ہیں۔
وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے بھی معاشی دگرگوں صورتحال کا ذمہ دار تحریک انصاف کی سابق حکومت کو قرار دیا ہے، انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے تگنی کا ناچ نچا دیا ہے، وزیرداخلہ کے بیان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتحادی جماعتوں نے جتنا ہوم ورک تحریک انصاف کی حکومت کو ختم کرنے کیلئے کیا اگر اس کاعشر عشیر بھی معاشی معاملات کو سمجھنے کیلئے کیا ہوتا تو اتحادی جماعتیں قطعی طور پر تحریک انصاف کی حکومت کو گرانے کی منصوبہ بندی نہ کر تیں، ایسا محسوس ہو رہا ہے بغض عمران میں عجلت بازی میں اتحادی جماعتوں نے اقدام اٹھا دیا ہے اور معاملات کی سنگینی کا ادراک حکومت میں آنے کے بعد ہو رہا ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ کیا اتحادی حکومت تحریک انصاف کی سابق حکومت کو معاشی حالات کا ذمہ دار قرار دے کر خود بری الزمہ ہو سکتی ہے؟ کیا یہ درست ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے آنے والی حکومت کیلئے واقعی کوئی راستہ نہیں چھوڑا؟ کیا آئی ایم ایف کے علاوہ ہمارے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں بچا ہے؟ یہ اور اس جیسے دیگر سوالات کا تسلی بخش جواب دینا موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے، آئی ایم ایف کی شرائط اگر سخت ہیں تو اتحادی حکومت کے پاس متبادل معاشی پروگرام کیا ہے؟
ہماری دانست میں اب اتحادی حکومت کو سابق حکومت کی نااہلی کی گردان ختم کر دینی چاہئے، فوری طور پر متبادل معاشی پروگرام تشکیل دیا جانا چاہئے، کفایت شعاری سے متعلق حکومتی اقدامات کی تحسین کی جانی چاہئے مگر ہمارے معاشی حالات اس سے زیادہ کے متقاضی ہیں، سارا بوجھ عوام پر ڈالنے کی بجائے ٹیکس وصولی کا نظام بہتر کر کے اس کا دائرہ کار بڑھایا جائے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو)ایف بی آر(کا ہر چیئرمین کریڈٹ لیتا ہے کہ اس نے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کیا ہے لیکن دیکھا جائے تو22کروڑ آبادی میں صرف30لاکھ افراد کا ٹیکس فائل ریٹرن کرنا بہت کم ہے، اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس چوری کا رجحان بہت زیادہ ہے، ٹیکس وصولی کا ایسا کمزور نظام ہے کہ سرکاری خزانے کی بجائے اہلکاروں کو فائدہ ہوتا ہے جس سے حکومت کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ریاست معاشی طور پر کمزور ہو جاتی ہے، لہٰذا ہمیں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا کر اس کی سخت شرائط کو تسلیم کرنے کی بجائے متبادل معاشی پالیسی ترتیب دینی ہوگی۔

مزید دیکھیں :   ہر حد کی ایک حد تو ہوتی ہے