والدین کی فکر مندی ‘ اولاد کا مقدر

ہمارا تقریباً ہر ایک کا یہ مسئلہ ہے جس کے حوالے سے ایک مہربان قاری نے بہت فکر انگیز مراسلہ بھیجا ہے ۔ والدین کی اکثریت اگر میں سو فیصد کہوں تو مبالغہ نہ ہو گا چاہتی ہے کہ ان کے بچے خاص طور پربیٹے پڑھ لکھ لیں اور نہ صرف اپنی موجودہ خاندان کی حیثیت کو برقرار رکھیں بلکہ اسے چار چاند لگائیں والدین کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ انہوں نے جس طرح کی زندگی گزاری ہوتی ہے خواہ وہ کتنی بھی اچھی گزری ہو ان کے بچے ان سے کہیں اچھی سے اچھی زندگی گزاریں ایک کہاوت ہے یا قول ہے بہرحال جو بھی ہے ایک والد ہی ہوتا ہے جو چاہتا ہے کہ ان کی اولاد ان سے بڑھ کر رتبہ وعہدہ اور مالی حیثیت کے حامل ہوں باقی دنیا میں کوئی ایسا رشتہ نہیں جس میں کوئی اس خواہش کا اظہار کرے کہ کوئی ان سے ایک انچ بھی آگے بڑھ جائے بلکہ یہ انسان کی فطرت ہوتی ہے کہ وہ خود تو بہت آگے بڑھنا چاہتا ہے اور دنیا والوں کو بہت پیچھے دیکھنا چاہتا ہے جو لوگ جدوجہد کے ذریعے محنت و مشقت کرکے رتبہ پا لیتے ہیں ان تک پہنچنا واقعی میں بہت مشکل ہوتی ہے ہر کسی کے ایک جیسے حالات نہیں ہوتے اور نہ ہی ہر کسی کو یکساں مواقع ملتے ہیں کچھ لوگوں کی قسمت میں قدرت نے گھر سے نکلتے ہی منزل لکھی ہوتی ہے اور کچھ لوگ عمر بھر سرگردان رہ کر بھی حالت سفر ہی میں زندگی کے سفر سے آخرت کے مسافر بن جاتے ہیں ان کی حسرتیںان کے ساتھ ہی دفن ہوتی ہیں کم ہی قسمت کے دھنی ہوتے ہیں کہ وہ جوچاہیں اسے حاصل کر پاتے ہیں ظاہر ہے اس میں ان کی محنت تو ہوتی ہے تھوڑی یا زیادہ لیکن کچھ نہ کچھ خاصیت قدرت نے ان کو ایسی ودیعت کی ہوتی ہے کہ وہ ممیز وممتاز ٹھہرتے ہیں سونے کا چمچہ منہ میں لیکر آنے والے اپنی جگہ لیکن ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو آنکھ تو جاگیردارخاندان میں بڑے صنعتی گروپ بڑے سیاسی اور بڑے بیورو کریٹ کے گھرکھولتے ہیں لیکن پھر گردش دوران ان کے پاس کچھ نہیں چھوڑتی کچھ لوگ آنکھ تو جھونپڑی میں کھولتے ہیں اور رخصت محل سے ہوتے ہیں قدرت کی اس تقسیم اور ان کی منشاء کسی کے سمجھنے کی بات نہیں میں نے ابتداء میں والدین کی جس سوچ کی بات کی تھی وہ اپنی صاحبزادیوں کے لئے بھی یکساں مواقع اور ان کو زندگی کی دوڑ میں کہیں بہت آگے کی مسابقت کے لئے تیار کرنے کی جستجو میں ہوتے ہیں اور ان کی صاحبزادیاں چمکتے ستاروں کی مانند نمایاں مقام حاصل کرتی ہیں والدین بچیوں کے حوالے سے خاص طور پر متفکر ہوتے ہیں شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ بچیوں کی پیدائش سے رخصتی تک ایک قسم کی نگرانی کی مشکل ہوتی ہے اور رخصتی کے بعد ان کی گھریلو زندگی کی والدین کو فکر رہتی ہے بیٹے بڑے ہو جائیں تو ماں باپ کے لئے وہ پھر بھی بچے ہی رہتے ہیں لیکن بیٹے ایسا نہیں سمجھتے اس لئے وہ کچھ لاپرواہ اور بے نیاز سے ہو جاتے ہیں اور اکثراپنی زندگی میں کھو کر والدین کو توجہ نہیں دیتے بیٹیاں توپھر بیٹیاں ہوتی ہیں ان کی کوئی کیا ہمسری کرے۔ میکے میں ہوں تووالدین کا خیال رخصتی کے بعد اور سسرال جا کر بھی والدین کو بھولتی نہیں شایدیہ قدرت کی تقسیم ہی ایسی ہے مختلف الفطرتی ان کے مزاج کا حصہ ہوتی ہے بات چلی کہاں سے تھی اور کس سمت مڑ گئی بہرحال میرے مہربان قاری نے والدین کی تشویش کا بھی ذکر کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ آج کے متوسط طبقے تک کے والدین کو اولاد کا غم کھائے جاتا ہے پہلے ان کوپڑھانے پر ان کی ملازمت و روزگار پھر ان کے مستقبل کی فکر زیریں متوسط اور بالا متوسط طبقات کی زندگی کا محور اولاد کی پرورش اور اولاد کی بہبود میں گزر جاتی ہے وہ اسی جدوجہد میں زندگی تیاگ دیتے ہیں اور ایک دن معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود کو بھلا بھلا کے کسی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں اور اب صاحب فراش ہونا ہی ان کا مقدر ہے ۔ اب جب میں دیکھتی ہوں تو اس سوچ میں کافی تبدیلی آنے لگی ہے آج کے والدین کو اولاد کی فکر تو ضرور ہے لیکن اعتدال کی حد تک وہ یہ راز جان چکے ہیں کہ وہ اولاد کی قسمت نہیں بن سکتے اور نہ ہی بدل سکتے ہیں وہ حقیقت پسندانہ سوچ رکھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ جب وہ تہی دامن رہ کر ایک بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہو چکے ہیں توان کی اولاد کو بھی قدرت ضرور مواقع دے گی وہ اولاد کی فکر کے ساتھ اپنی زندگی بھی بہتر گزارنا چاہتے ہیں وہ اپنے اسلاف سے کہیں زیادہ متوکل ہیں یہ بدلتے وقت کی نئی سوچ ہے یا حقیقت پہلے والے والدین زیادہ مخلص اور متفکر تھے لیکن نئی سوچ کے حامل والدین کو بھی الزام نہیں دیا جا سکتا میں پرانی سوچ کا حامل اور زندگی بھر جبر مسلسل کی طرح محنت کرکے اب تھک چکا ہوں سوچتا ہوں تو جوانسال والدین کی سوچ زیادہ حقیقت پسندانہ لگتی ہے کہ آخر سب کچھ تو اولاد نہیں کچھ اپنی زندگی بھی جی لینی چاہئے اس قدر مرمٹنے والے والدین کی اولاد اگر خدانخواستہ ناخلف اور لاپرواہ نکلی تو وہ بے چارے توجیتے جی مرجاتے ہیں کچھ اپنی بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ میری اپنی زندگی اورجسم کا بھی مجھ پر حق ہے اس کا حق میں کب ادا کروں اور کیا میں جس اولاد کے لئے روز جیتا مرتا ہوں قدرت کیا ان کو مواقع نہیں دے گی وہ آگے بڑھیں گے اور ایسی بھی مثالیں ہیںکہ اولاد اتنی ترقی کرتی ہے اور اتنا کچھ والدین کی زندگی ہی میں حاصل کیا ہوتا ہے جو ان کے والدین کے کبھی خواب وخیال میں بھی نہ آیا ہو اس لئے والدین متفکر ضرور رہیں محنت بھی کریں لیکن اعتدال سے ۔ جو بچہ ایک پیٹ اور دو بازولے کہ دنیا میں آیا ہے اسے اس کے حصے کا حصہ قدرت نے سنبھال رکھا ہے وہ اسے ملنا ہی ملنا ہے حالات بھی انہی کے دست قدرت میں ہیں لہٰذا ہلکان نہ ہوں بس بچوں کی اچھی تربیت پر توجہ دیں ان کو اچھی تعلیم دلانے کی سعی کریں باقی اوپر والے پہ چھوڑ دیں وہ مسبب الاسباب ہے وہ پتھر کے اندر کیڑے کوجب رزق پہنچاتا ہے وہ مالک و رازق ہے مہربان ذات ہے نوازنے والی ذات ہے اپنی محنت ضرور کیجئے لیکن بھروسہ اسی پر رکھیں۔ ان پر بھروسہ بڑی ہی مدد گار چیز ہوتی ہے ان سے مدد مانگیں اپنی مدد آپ سے زیادہ ان کی مدد کی تلاش میں رہئے ناکام کبھی نہیں ہوں گے ۔
قارئین اپنے پیغامات 03379750639 پر واٹس ایپ ‘ کر سکتے ہیں