شہباز گل اور پاکستان

الیکشن کمیشن کی طرف سے آٹھ سال بعد فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے اور پھر اس کے فوراً بعد وفاقی حکومت کی طرف سے الیکشن کمیشن کو توشہ خانہ ریفرنس بھیجنے کے عمل نے تحریک انصاف کو اتنا حواس باختہ کر دیا ہے کہ اس کے رہنما فوج تو فوج اس کے شہیدوں کو بھی معاف نہیں کر رہے اور ان کے خلاف ایسی لغو اورگھٹیا باتیں کر رہے ہیں جس سے انسانیت بھی شرما جاتی ہے۔ ایسی ہی اخلاق سے گری اور تشدد آمیز گفتگو تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے چند روز قبل ایک ٹی وی چینل پر ٹاک شو کے دوران کی، جو سراسر ملک دشمنی اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہے۔ اپنی گفتگو میں موصوف نے نہ صرف فوج کو متنازعہ بنایا بلکہ فوجی جوانوں کو اپنے ادارے کے خلاف بغاوت پر اکسایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے روز ٹی وی چینلز کو کنٹرول کرنے والے ادارے پیمرا نے نہ صرف مذکورہ چینل کی نشریات معطل کر دیں اور اسے شوکاز نوٹس بھجوادیا بلکہ ایک روز بعد قانون نافذ کرنے ادارے کے اہلکاروں نے شہباز گل کو اس وقت اپنی حراست میں لے لیا جب وہ بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کرنے کے بعد واپس اپنے گھر جا رہے تھے۔ ان کے خلاف ملک دشمنی اور بغاوت پر اکسانے جیسی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اگرچہ عمران خان سمیت تحریک انصاف کے تمام رہنما اسے حکومت کے انتقامی ہتھکنڈے قرار دے رہے ہیں مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ شہباز گل ایک عرصہ سے فوج کے خلاف زہریلا پراپیگنڈا کرنے میں مصروف تھے اور لسبیلہ حادثے میں شہید ہونے والے اعلیٰ فوجی حکام کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی نفرت انگیز مہم کے ماسٹر مائنڈ بھی یہی بتائے جاتے ہیں۔ شہباز گل کو 2018ء کے انتخابات سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا ۔ان کا تعلق فیصل آباد کے ایک دیہی علاقے سے ہے اور غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم فیصل آباد سے حاصل کی اور ماسٹر کی ڈگری اسلام آباد سے لی۔ پی ایچ ڈی کیلئے ملائیشیا کا سفر کیا۔ 2007ء میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں مینجمنٹ سائنسز میں اسسٹنٹ پروفیسر بھرتی ہوئے۔ 26 مئی2020ء کو ایک ٹی وی انٹرویو میں شہباز گل نے خود اعتراف کیا کہ ان کا تعلق نہایت مفلوک الحال گھرانے سے تھا اور انہوں نے اپنی پہلی ملازمت سے جو جوتے خریدے تھے وہ گھسے پٹے جوتے آج تک سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔شہباز گل سیاست کے تخت پر اس وقت جلوہ افروز ہوئے اور شہرت کی بلندیوں پر پہنچے جب عمران خان نے انہیں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا ترجمان مقرر کیا ۔ اس کے بعد انہیں ٹی وی ٹاک شوز میں بلایا جانے لگا جہاں وہ اپنے درشت لہجے اور تندو تیز گفتگو کی بدولت جلد مقبول ہوگئے۔ اس دوران انہوں نے مریم نواز کو خوب آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شہزادی اور راجکماری جیسے القابات سے نوازا اور روز بروز عمران خان کے دل میں گھر کرتے رہے کیونکہ عمران خان ایسی گفتگو کو پسند کرتے ہیں لیکن شہبازگل اس وقت بزدار کیلئے مسئلہ بننا شروع ہو گئے جب انہوں نے کابینہ کے اجلاسوں میں وزراء اور بیوروکریسی کو ہدف تنقید بنانا شروع کر دیا چنانچہ وزیراعلیٰ بزدار نے کئی بار عمران خان سے اس کی شکایت کی لیکن عمران خان ہر بار خاموش رہے۔ کہا جاتا ہے کہ عمران خان نے بزدار پر نظر رکھنے کیلئے شہباز گل کو ان کا ترجمان مقرر کیا تھا لیکن جب بات بہت بڑھ گئی تو عمران خان نے انہیں مستعفی ہونے کا مشورہ دیا چنانچہ شہباز گل نے استعفیٰ دے دیا۔ عمران چونکہ ان کی کمونیکیشن صلاحیتوں سے بہت متاثر تھے اس لئے 13مئی 2020ء کو اپنا معاون خصوصی برائے سیاسی روابط لگا دیا۔ یہاں بھی شہباز گل نے مخالفین پر بہت کیچڑ اچھالے اور انہیں طنز و استہزاء کا خوب نشانہ بنایا مثلاً 23جولائی 2020ء کو بلاول کے اجرک والا ماسک پہننے پر ایک ٹی وی ٹاک شو میں طنز کی پھبتی کستے ہوئے کہا اس طرح صوبائی کارڈ کھیلنے کا یہ طریقہ پہلی بار دیکھا ہے،گاؤں میں بھینس کے بچھڑے کو ایسا ماسک پہنایا جاتا ہے تاکہ وہ زیادہ دودھ نہ پی لے۔ شہباز گل کے ان ریمارکس پر پیپلز پارٹی میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ شازیہ مری نے جوب دیتے ہوئے کہا کہ سندھی ٹوپی اور اجرک ہماری پہچان ہے ایسے لوگ سیاست میں آگئے ہیں جنہیں بات کرنے کا سلیقہ نہیں۔ اگرچہ عمران خان شہباز گل کے ذریعے مخالفین پر خوب طنز و تشنیع کے تیر برسواتے رہے ہیں اور فخر سے کہتے رہے ہیں کہ شہباز گل ہماری پارٹی کا ٹائیگر ہے اور شہباز گل بھی عمران خان کا قرب زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کیلئے نہ صرف تہذیب و اخلاق کی تمام حدیں پار کرگئے حتی کہ افواج پاکستان کے خلاف زبان درازی اور ملک دشمنی میں بھی ساری سرحدیں عبور کر لیں جنکی وجہ سے بھارت کے دفاعی تجزیہ کاروں کو بھی کہنا پڑا کہ ہماری افواج نے ستر سالوں میں پاکستانی افواج کو وہ نقصان نہیں پہنچایا جو پاکستانی قوم نے خود اپنی افواج کو پہنچایا ہے۔ یہ ہمارے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ اس سے اور ہمارے لئے شرم کا مقام کیا ہو گا کہ شہباز گل کی کھلے عام ملک دشمنی اور بغاوت کی باتوں کے باوجود اسے ہیرو بنایا جا رہا ہے۔ غریب کے گھر میں آنکھیں کھولنے والا شہباز گل آج امریکی یونیورسٹی کا پروفیسر بنا ہے یا پھر سیاستدان بنا ہے تو محض پاکستان کی وجہ سے۔

مزید دیکھیں :   اختلافات میں اعتدال کی راہ