استحکام پاکستان کے تقاضے

یوم آزادی پر بھر پور جشن یقینا اہل وطن کا حق تھا لیکن حکومتی سطح پر ملی نغموں کی گونج کی بجائے جس طرح مجرا نما تقریب کا انعقاد کیا گیا اس پر تنقید بلاوجہ نہیں یوم آزادی پر بدقسمتی سے ہم حکومتی سطح پر اس طرح آزادی کا مظاہرہ پہلے نہیں کیا کرتے تھے بلکہ باوقار تقریبات کا انعقاد ہوتا تھا جس سے قطع نظر اب کے بار صرف کراچی میں یوم آزادی کے موقع پر ہوائی فائرنگ کے واقعات میں57افراد زخمی ہوئے ملک بھر میںجشن کے نام پر مینار پاکستان پر خواتین سے بدتمیزی سے لیکر جس طرح سڑکوں ‘ گلی ‘ محلوں میں بگل بجا بجا کر موٹر سائیکل کے سائلنسر نکال کر گاڑیوں کے ہارن بجا بجا کر سڑکوں پر غیر ضروری کرتب اور ریس لگانے کا شغل میلہ منچلوں کا رویہ قرار دے کر صرف نظر کی گنجائش ہے لیکن جو جگہیں وقار اور متانت کی متقاضی تھیں وہاں پر بھی غیرسنجیدگی کے اظہار پر افسوس کا ہی اظہار کیا جاسکتا ہے ۔ نئے انداز میں ترانہ ریلیز کرنے کی مخالفت نہیں لیکن ہمارے وزیر اعظم نے بجائے اس کے کہ کوئی لائحہ عمل دے دیتا صرف سوال پر اکتفا کیا کہ پاکستان ایٹمی طاقت بن سکتا ہے تو معاشی طاقت کیوں نہیں بن سکتا اس سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ قومی سطح پر ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کے لئے یکسوئی کے ساتھ جو جدوجہد کی گئی اس کے مقابلے میں ملک کو معاشی طور پر اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کی کسی اجتماعی جدوجہد کی مثال نہیں ملتی ایٹمی طاقت ہونے کی افادیت اور ضرورت سے انکار ممکن نہیں لیکن اس طاقت کو محفوظ رکھنے اور ملک کو باوقار ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے معاشی قوت کا حصول ناگزیر ہے ایٹمی اور معاشی قوت دونوں لازم و ملزوم ہیں اگر دونوں کو ضروری اور ایک دوسرے کا سہارا قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا ہمارے سامنے روس کی مثال ہے جو ایٹمی قوت رکھنے کے باوجود معاشی وجوہات کی بناء پر منقسم ہونے کے خطرے سے گزرا اور اس کے بعد معاشی قوت حاصل کرکے دوبارہ طاقتور پوزیشن میں سامنے آیا ہے وطن عزیز اس وقت معاشی قوت بننے کے مرحلے سے تو کوسوں دور ہے بلکہ اس وقت ملک کو دیوالیہ پن کے خطرات سے نکالنے کے جتن ہو رہے ہیں اگرچہ یہ موقع بھارت سے موازنہ کا نہیں لیکن خود احتسابی کے لئے ایسا کرنے میں مضائقہ نہیں ہمارے وزیر اعظم نے محض سوال پر اکتفا کیا جبکہ بھارت کے وزیر اعظم نے اپنی یوم آزادی کے موقع پربھارت کو 25سال بعد کے مقام کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی اور لائحہ عمل کا ا علان کیا اس موقع پر ہمیں بھی خود احتسابی کی ضرورت تھی اور بحیثیت قوم یکجا ہو کر ملک کو اس صورتحال سے نکالنے کی جتن کا فریضہ ادا کرنا نہیں چاہئے؟ آج 75سال گزرنے کے بعد بھی اگر جائزہ لیا جائے تو ہمارے ملک میں سیاسی انجینئرنگ ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے اور ہم اپنے آزاد وطن میں عوام کی مرضی کی حکومت قائم نہیں کر سکے۔یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ اپنے قیام کے 75 سال بعد بھی ہمارا ملک ڈیفالٹ کے خطرات سے دوچار ہے اور اسے سیاسی استحکام نصیب نہیں ہے۔ اس وقت عام پاکستانی غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے پریشان ہے۔ ان کے نزدیک پچھلے 75 سالوں میں عدلیہ سمیت ریاست کے مختلف اداروں کا اپنی حدود میں نہ رہنا اور آئین کا احترام نہ کرنا بہت سے مسائل کا سبب بنا۔ اس وجہ سے ہم ان 75 سالوں میں دنیا میں کوئی بہتر مقام نہ بنا سکے ‘آدھا ملک بھی گنوا بیٹھے اور زرعی خودکفالت ‘ صنعتی ترقی اور اقتصادی بہتری بھی حاصل نہیں کرسکے۔آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ممالک میں شمار ہونے والا پاکستان اگر آج تک خود کو دستیاب جملہ امکانات بروئے کار لا ہی نہیں سکا تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس سوال کا جواب اس ملک کو عشروں سے درپیش سیاسی اور معاشی عدم استحکام میں پوشیدہ ہے۔آج کا پاکستان سیاسی طور پر منقسم ہے اور اسے شدید نوعیت کے مالیاتی اور اقتصادی بحران کا سامنا بھی ہے۔ قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے پاکستان میں اس وقت مہنگائی اتنی زیادہ ہے کہ عوام کی زندگی مشکل تر ہو چکی ہے۔بہرحال اب یہ بات خوش آئند ہے کہ اس وقت ساری قوم کا فوکس معاشی بحالی کی طرف ہو گیا ہے اور ہر کسی کو سمجھ آ گئی ہے کہ ملک کے معاشی مسائل کو حل کیے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ہمارے تئیں پاکستان کو دنیا میں باوقار ملک بنانے کی جدوجہد صرف حکومت اور ملکی اداروں ہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر پاکستانی کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کی ادائیگی پر توجہ دے اور ملک کی ترقی و استحکام میں اپنا کردار ادا کرے جب تک ہم من الحیث ا لقوم اپنے اجتماعی کردار سے وطن عزیز کو ان حالات سے نکالنے کی سعی نہیں کریں گے ہم اسی طرح مسائل میں گھرے رہیں گے ہمیں ان مسائل کا خود ہی حل تلاش کرنا اور اس سے نکلنا ہوگا ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کے لئے باہر سے کوئی ہماری دستگیری کے لئے نہیں آئے گابلکہ ہم نے خود ہی کرنا ہوگا۔

مزید دیکھیں :   شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھنے کے نتائج