پیناڈول دوا

ہائیکورٹ کا3ہفتوں میں پیناڈول دوا کی دستیابی یقینی بنانے کاحکم

ویب ڈیسک :پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید خان نے مارکیٹ میں پیناڈول گولیاں شارٹ ہونے اور انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز حیات آباد میں سرجری کیلئے سپیشلسٹ ڈاکٹر نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام پہلے ہی پریشان ہیں۔
اب پیناڈول کی عام دوا بھی مارکیٹ میں دستیاب نہیں؟ عدالت نے پیناڈول گولیوں کی دستیابی تین ہفتوں میں یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز کو بھی آئندہ سماعت پر عدالت طلب کرلیا ہے ۔ عدالت نے پیناڈول سمیت ادویات کیلئے خام مال ملک میں تیار کرنے سے متعلق الگ الگ رپورٹ بھی مانگ لی۔ فاضل بنچ نے ملک محمد اجمل خان ایڈوکیٹ کی رٹ پر سماعت کی، اس موقع پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سکندر حیات شاہ اور ڈریپ کے نمائندے بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس قیصر رشید خان اور جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے سماعت شروع کی تو عدالت کو بتایا گیا کہ مارکیٹ میں ایک عام دوا پیناڈول ٹیبلٹ بھی دستیاب نہیں اور یہ بلیک میں مہنگی فروخت کی جارہی ہے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پینا ڈول تو ایک ایسی دوا ہے جو ہر گھر کی ضرورت ہے۔ اب پیناڈول بھی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ؟ فاضل جسٹس نے مزید کہا کہ تین ہفتوں میں پینا ڈول کی مارکیٹ میں دستیابی یقینی نہ بنائی گئی تو پھر سیکرٹری ہیلتھ اور دیگر اعلی حکام کو طلب کریں گے جبکہ اس حوالے سے رپورٹ بھی طلب کرلی۔ دوران سماعت منصور طارق ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز میں سرجری کیلئے سپیشلسٹ ڈاکٹر موجود نہیں۔
کڈنی سنٹر میں مریضوں کی سرجری کے لئے اسلام آباد کے نجی کڈنی سنٹر سے ڈاکٹر اور ان کی ٹیم آتی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس انسٹیٹیوٹ میں سپیشلسٹ ڈاکٹر کیوں نہیں ہے؟ حکومت عوام کی تکالیف کا کچھ احساس کرے۔ درخواست گزار وکیل کے مطابق انسٹیٹیوٹ میں ایک ڈاکٹر کو 2015 میں گریڈ 20 میں ترقی دی گئی تھی لیکن ابھی تک سرجری کیلئے باہر سے ڈاکٹر آتا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر چیئرمین بورڈ آف گورنر کو طلب کرلیا۔

مزید دیکھیں :   بنوں:ڈبلیوایس ایس سی ملازمین نے شہریوں کاپانی بندکردیا