مشرقیات

امام غزالی بہت بڑے آدمی تھے ۔ کیا علم اور کیا عمل ہر طرح بہت بڑے تھے ایک مرتبہ اپنے ایک دوست سے ملنے اس کے گھر گئے ابھی گھر میں گھسے یہ تھے کہ دوست کی آواز سنی ‘ ڈانٹ اور پھٹکار کی آواز ‘ نہ جانے کس سے ناراض تھا کہ مسلسل برسے جارہا تھا ذرا اور قریب ہوئے تو معلوم ہوا کبھی بیوی پر برس رہا ہے کبھی بچوں پر ۔یہ چیز کہاں ہے؟ وہ چیز کہاں ہے؟ تلوار کیوں چمکدار نہیں ؟ عمامہ ایسا کیوں؟ عبادیسی کیوں؟ عطر کہاں رکھا ہے ؟ معلوم ہوتا تھا کہ وہ گھبراہٹ میں ادھر ادھر بھاگا بھاگا پھر رہا تھا صاف معلوم ہوتا تھا اسے کہیں جانا تھا اور جگہ ایسی تھی جہاں بڑے اہتمام سے جانا تھا ۔ امام غزالی نے سمجھ لیا کہ ان کا دوست حضور رس تھا ۔ دربار شاہی میں جارہا ہو گا۔یہ سرکار دربار کی بات بھی عجیب ہے کچھ تو ہاں جان دیتے ہیں مارے مارے دوڑے دوڑے پھرتے ہیں اور کچھ کا یہ عالم ہوتا ہے کہ جانا ایک طرف اس کا ذکر سننا بھی پسند نہیں کرتے ۔ ایک بزرگ تھے ابو قلابہ جرمی !بہت بڑے قانون داں تھے ۔اسلامی قانون کے ماہر جسے کہتے ہیں فقییہ!ذہن کے بڑے تیز تھے مشکل سے مشکل بات ہوتی چٹکی بجاتے میں اس کا حل بتا دیتے ایسے لائق کی کب ضرورت نہیں ہوتی ہوتے ہوتے ان کی شہرت جب عراق کے گورنر کے کانوں تک پہنچی تو اس نے انہیں بلا بھیجا اس کا خیال تھا انہیں قاضی بنا دے صوبے کا چیف جسٹس ان کے پاس بلاوا گیا تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر شام کی طرف چلے گئے تاکہ ان کا پیچھا نہ ہوسکے ایک شاگرد تھے ایوب انہیں بڑا رنج ہوا کہ استاد نے یہ عہدہ کیوں نہ قبول کیا بڑی مدت بعد عراق لوٹے توشاگرد رشید نے خدمت میں پہنچ کر سلام دعا کی پھر مناسب موقع پر کہا۔۔ آقائی!اگر آپ قاضی بن جاتے تو نقصان کوئی نہیں تھا۔ عدل و انصاف کا بول بالا ہوتا اور لالہ آپ کو اس کا صلہ دیتا۔ درباری بلاوے سے بھاگنے والے ابو قلابہ جرمی نے جواب دیا۔۔۔ ایوب! مانا کہ ایک شخص تیرنا جانتا ہے اور اچھی طرح تیرنا جانتا ہے مگر یہ بھی تو سوچو کہ اگر وہ سمندر میں کود جائے تو کہاں تک تیر سکتا ہے۔ ایوب استاد کی بات کو سمجھ گئے تو سر ڈال کر خاموش ہوگئے ۔ امام غزالی اپنے دوست کے گھرمیں داخل ہوئے تو تیزی سے دوست کے پاس پہنچے ۔ دیکھا بدستور چیخ و پکار میں لگا ہے تو اس سے پوچھا۔۔ خیر تو ہے ۔!کیوں بوکھلا گئے ہو؟ کوئی خاص بات۔
جواب ملا ہاں میں اچھے سے اچھا اور بہتر سے لباس ڈھونڈ رہا ہوں اپنے ہتھیار چھانٹ رہا ہوں کہ تلوار کی چمک ایسی ہو کہ نگاہوں کو اچک لے میرا لباس ایسا دیدہ زیب اور شاندار ہو کہ دیکھنے والا بس دیکھتا رہ جائے۔۔امام غزالی نے پوچھا۔۔ کیوں؟ وہ بولا۔۔ خلیفہ نے بلایا ہے ۔ امام نے یہ بات سنی تو سوچا میرا دوست خلیفہ کے دربارمیں جانے کے لئے اتنی تیاری اور ایسا اہتمام کرتا ہو ذرا اس سے پوچھوں کہ اے میرے دوست تمہیں بہت جلد اللہ بھی یاد کرنے والا ہے کچھ تیاری کچھ اہتمام وہاں کے لئے بھی کر رکھا ہے؟۔

مزید دیکھیں :   محسن غریب لوگ تو تنکوں کا ڈھیر ہیں