معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کے تقاضے

نومنتخب وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ اس وقت ملک کو بہت بڑے اور مشکل چیلنجز کا سامنا ہے، معیشت کی بہتری کے لیے وقت دیں، ان شا اللہ ہم ان سے پوری طرح نمٹنے کی کوشش کریں گے۔ بیشک ہمیں اس وقت بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، ہم نے ماضی میں بھی بڑی کامیابی سے ان کا سامنا کیا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی بہت بڑے اور مشکل چیلنجز ہیں ۔ یہ سب چیزیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔یہ درست ہے کہ مارکیٹ نے ڈالر کی قیمت میں کمی کرکے نئے وزیر خزانہ کو سلامی دی ہے سونے کی قیمت میں بھی کمی او روپے کی قدر میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن یہ کافی نہیں نیز یہ عارضی بھی ہو سکتا ہے کہ سٹاک مارکیٹ میں بہتری آئی اور محولہ بالا عوامل سامنے آئے اصل بات عوام کو ریلیف دینے کا ہے اور عوام بجا طور پر توقع رکھ رہے ہیں کہ حکومت ان کو ریلیف دے گی اس کا سلسلہ تیل کی قیمتوں میں کمی اور بجلی و گیس بلوں میں رعایت سے ہونا چاہئے نہ صرف یہ کہ بلکہ ان کے اثرات کو معاشی حالات پر منتقل کرکے اور مہنگائی میں کمی لا کر کیا جانا چاہئے ایک عام آدمی کو معیشت کی بہتری اور ابتری کا پیچیدہ عمل اور اس کی وجوہات اسباب و علل سمجھانا آسانا نہیں مشکل کام ہے اور دیکھا جائے تو اس کی ضرورت بھی نہیں عام آدمی کو بس عملی طور پر باآسانی سمجھایا جا سکتا ہے کہ مہنگائی میں کتنی کمی آئی اور حکومتی اقدامات سے ان کو کتنا ریلیف ملا یہ عملی کاموں ہی سے ممکن ہوگا عام آدمی کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ نئے وزیر خزانہ حکمت عملی کیااختیار کرتے ہیں وہ اپنے مسائل میں کمی آنے کا منتظر ہے جتنی جلدی ان کے انتظار کے لمحات میں کمی لائی جائے گی اور ان کو ریلیف باور کرایا جائے گا اتنا جلدی عام آدمی کا حکومت کی پالیسیوں کے حوالے سے رائے مثبت ہو گی یقینا وزیر خزانہ کو سابق ادوار کے مقابلے میں کہیں بڑے چیلنجز درپیش ہیں البتہ بعض ایسے عوامل بھی ہیں جو امید کی کرن نظر آتے ہیں ان کرنوں سے پھوٹنے والی روشنی ہی کو عام آدمی کے لئے ریلیف کا سبب بنا دیاجائے تو یہ بھی غنیمت ہو گی۔
آلودگی میں سرفہرست پشاور
پاکستان ایئر کوالٹی انڈکس کے مطابق پشاور میں ہوا میں آلودگی صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ پشاور میں آلودگی کے اعداو شمار188جبکہ لاہور میں163 ریکارڈ کئے
گئے ہیں مذکورہ اعدادوشمار جانچنے کا طریقہ کار کسی بھی شہر کی ہوا میں موجود ذرات کی موجودگی کے8گھنٹوں کی اوسط ہے۔ ماہرین کے مطابق پشاور میں کافی روز سے بارش نہ ہونے اور ہوائیں نہ چلنے کی وجہ سے بھی آلودگی بڑھتی جا رہی ہے اور بارش کی مدد سے ہی پشاور کی ہوا کو آلودہ ہونے سے بچایا جاسکتا ہے جبکہ اس ہوا کی آلودہ ہونے کی بڑی وجہ گاڑیوں اور صنعتوں کا دھواں اور کچرا جلانے سمیت دیگر کئی امور ہیں ۔آلودگی کی شرح میں پشاور کا لاہور سے بھی بازی لے جانا خطرناک رجحان ہے پشاور میں آلودگی میں بی آر ٹی سروس کے اجراء کے بعد کمی آنی چاہئے تھی لیکن بدقسمتی سے اس کے باوجود پشاور کی گنجان آباد ی اور بغیر منصوبہ بندی کے شہر کا پھیلائو صاف ہوا کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے جس کی بنیادی وجہ دھول اور دھویں کے علاوہ پشاور میں کھلے مقامات اور پارکس کی عدم موجودگی ہے درختوں سے تو شہر کو بالکل صاف ہی کر دیاگیا ہے سبزے کا نام و نشان نہیں اور پشاور کے ارد گرد جو باغات اور سبزہ ہونے کے باعث اسے پھولوں کا شہر گردانا جاتاتھا اس کی جگہ اب کنکریٹ کی دیواروں ‘ گندے نالوں اور تجاوزات نے لے لی ہے اور بدقسمتی سے یہ سلسلہ جاری ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ مزید ایک انچ بھی زرعی اراضی اور سبزے کو آبادی کی عفریت کے نگلنے سے بچا لیا جائے ۔یہ درست ہے کہ زرعی اراضی کو بچانے کے لئے عمودی عمارتوں کی تعمیر کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے لیکن جس بڑے پیمانے پر اب صوبائی دارالحکومت میں بلند و بالا رہائشی و کاروباری عمارتیں بننے لگی ہیں اس کے باعث ہوا کی آلودگی اور زیر زمین پانی کے ذخائر کے خاتمے کا خطرہ ہے جس کا بروقت ادراک اور تدارک پرتوجہ دی جانی چاہئے ۔ صوبائی دارالحکومت میں فضائی کثافت اور آلودگی میں اضافے کا باعث بننے والے کارخانوں اور ماربل کے کارخانوں سمیت دیگر کارخانوں سے زہریلے مواد اور دھویں جیسے مسائل کا اب ماحولیاتی حل یقینی بنانے کی ضرورت ہے بصورت دیگر اس شہر میں انسانی بقاء اور چرند و پرند اور سبزے کی بقاء ممکن نہ رہے گی توقع کی جانی چاہئے کہ اس پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے گی اور دعوئوں کی بجائے عملی طور پر اقدامات ہوتے ہوئے نظر آئیں۔

مزید دیکھیں :   معیشت اور سیاست