محسن غریب لوگ تو تنکوں کا ڈھیر ہیں

زبان خنجر کے چپ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آستین کا لہو سارا کچا چٹھاکھول کر رکھ دیتا ہے ‘یہی صورتحال اس وقت خود گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھا کر واضح کردی ہے اور کہہ دیا ہے کہ بجلی بلوں میں ایسے ٹیکسز ہیں جن کا صارف سے کوئی تعلق نہیں ہے ‘ اس اجمال کی تفصیل بتانے سے پہلے پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کا ذکر کرلیتے ہیں جس کے تحت فاضل عدالت نے بجلی بلوں میں ایف پی اے کی وصولی معطل کر دی ہے ‘ حالانکہ گزشتہ ماہ وفاقی حکومت نے بھی (صرف سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر)ایف پی اے کی وصولی روک دی تھی اور اس حوالے سے استثنیٰ میں مقررہ یونٹس میں اضافہ بھی کر لیا تھا لیکن وفاقی وزیر خرم دستگیر نے یہ چتائونی بھی ساتھ ہی دیدی تھی کہ ایف پی اے مکمل طور پر معطل نہیں کی گئی بلکہ بقول ان کے سیلاب کی صورتحال بہتر ہوجانے کے بعد جو رقم فی الحال وصول نہیں کی جارہی ہے بعد میں اس کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ اور عوام کو مشورہ دیاگیا تھا کہ وہ بھیجے جانے والے بل ادا نہ کریں ‘ ان کونئے بل بھیجے جارہے ہیں ‘ البتہ جنہوں نے بل جمع کرا دیئے ہیں ان کو اگلے بلوں میں ریلیف دیدیاجائے گا ‘ اب یہ الگ بات ہے کہ ہم جیسے بے چارے صارفین کے تازہ ملنے والے بلوں میں وصول شدہ ایف پی اے کی ایڈجسٹمنٹ کا کوئی ذکر اذکار ہے ہی نہیں ‘ یعنی ”تماشا ختم ‘ پیسہ ہضم” اتناالبتہ ضرور ہے کہ تازہ بلوں میں ایف پی اے شامل نہیں ہے ‘ مگر حیرت ہے کہ بغیر ایف پی اے کے بھی بل گزشتہ مہینے سے زیادہ ہیں ‘ یعنی جو چند یونٹ زیادہ استعمال ہوئے بھی ہیں ان کا شاخسانہ اتنا تو ہو نہیں سکتا کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ شامل کئے بغیر بھی بل اتنا بڑھ جائے ‘ اب یہ کونسا تگڑم لڑایا گیا ہے؟ اور شاید یہی وہ ٹیکسز ہوں گے جن کی جانب خود نیپرا نے توجہ دلادی ہے کہ بلوں میں ایسے ٹیکسز بھی شامل ہوتے ہیں جن کا صارفین سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔دراصل واپڈا نے نیپرا کی چھتری تلے بالکل وہی کام شروع کر رکھا ہے جوبچوں کے لئے شائع ہونے والی کامک سٹوریز میں بعض یورپی ممالک کی قدیم کہانیوں میں ان ادوار کے بادشاہوں اور والیان ریاست کے تذکرے میںملتا ہے ۔ رنگین خوبصورت کہانیوں کی ان کتابوں کا مقصد تو اہل یورپ کے نزدیک یہ ہوتا ہے کہ نسل نو کوسابق بادشاہوں اور والیان ریاست کی ان زیادتیوں کے بارے میں بتا کر انہیں سبق دیا جائے کہ ظلم و جور سے حکومتیں نہیں چلتیں بلکہ عوام کے ذہنوں میں نفرت بڑھتی ہے ‘ ا ن باتصویر کہانیوں میں غریب عوام سے زور زبردستی ٹیکس کی وصولی میں بااثر اور طاقتور حلقوں کی سرگرمیوں کا تذکرہ کیا جاتاہے کہ کس طرح بادشاہوں کے سپاہی گائوں گائوں جا کر غریب کسانوں اور دیگر طبقات سے بہ زور شمشیر ٹیکس وصول کرکے عوام کو بے یارومددگار چھوڑ دیتے تھے ‘ اور جو لوگ یہ ٹیکس ادا نہ کرسکتے تو انہیں زد و کوب کیا جاتا ‘ یا گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا تاوقتیکہ ان کے لواحقین زمین جائیداد بیج کر سرکاری محاصل ادا نہ کر دیتے ‘ زمانہ بدل چکا ہے اب عوام سے ٹیکسوں کی وصولی کے کئی کئی نئے طریقے ایجاد ہوچکے ہیں ‘ اور ہرادارہ ماہانہ بل بھیج کر نہ صرف بروقت ادائیگی چاہتا ہے بلکہ اگرغلطی سے بھی کوئی بدنصیب بل ادا کرنے میں تاخیر کردے تو ساتھ ہی اس پر جرمانے کی دھمکی اسی بل میں اضافی رقم کی صورت میں لاگو ہو جاتی ہے ‘ گویا بقول محسن نقوی
محسن غریب لوگ تو تنکوں کا ڈھیر ہیں
ملبے میں دب گئے ‘ کبھی پانی میں بہہ گئے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آستین کا لہو خود بول پڑا ہے یعنی پیمرا نے تسلیم کر لیا ہے کہ بجلی صارفین پر ایسے ٹیکس بھی لگائے گئے ہیں جن کا صارفین کے ساتھ تعلق سرے سے ہے ہی نہیں تو کیا عوامی نمائندگی کے نام پرپارلیمنٹ کا حصہ ہونے کے ناتے کوئی بھی ایسا نہیں جو سینٹ ‘ قومی اسمبلی یا پھر چار صوبائی اسمبلیوں میں سے کسی بھی ایوان میں اس حوالے سے آواز اٹھائے؟ یاپھر سپریم کورٹ اور صوبوں کے مختلف ہائی کورٹس میں اس پر سوموٹو ایکشن لیکر عوام کی داد رسی کی جائے ‘ پشاور ہائی کورٹ نے کم از کم اتنا توکیا کہ ایک صارف کی شکایت پر اس نئی ا فتاد یعنی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو معطل کرکے صوبے کے عوام کو ریلیف دیدی ہے ‘ یہ الگ بات ہے کہ واپڈا والے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست نہ دیدیں یا اوپر چلے جائیں یعنی سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کر دیں ‘ گویا ایک پشتو محاورے کے مطابق کہ ”د مقدمے سر تہ گورہ ” یعنی مقدمے کے خاتمے پرنظر ڈالتے رہو ‘ حالانکہ ایسا کرنے میں واپڈا والوں کو بڑا نقصان بھی ہو سکتا ہے ‘ مقصد صاف اور واضح ہے کہ ابھی تو ایف پی اے کی معطلی کا حکم صرف خیبر پختونخوا پر لاگوکیا گیا ہے جس کے لئے بہرحال جواز بھی موجود ہے کہ صوبے میں صرف اپنی پن بجلی استعمال ہوتی ہے اور یہاں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز وغیرہ لاگوکرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ‘ تاہم اگر واپڈا والے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیتے ہیں اور وہاں سے بھی ایف پی اے کی معطلی پر مہر تصدیق ثبت ہوجاتا ہے تو دوسرے صوبوں میں بھی اس ٹیکس کے خلاف درخواستوں کی بھرمار ہوجائے گی ‘ جس کے نتائج ممکنہ طور پر واپڈا والوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا سکتے ہیں ایک ضمنی سا سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ جن صارفین سے گزشتہ دو ماہ متواتر ایف پی اے کے نام پر وصول کئے گئے ہیں ان کو یہ رقم کب واپس ملے گی؟ یعنی کیا اگلے مہینوں کے بلوں میں اس رقم کو ایڈجسٹ کیا جائیگا یا پھر پیسکو والے اسے مال مفت سمجھ کر ہڑپ کر دیں گے کیونکہ ویسے بھی بجلی والے ادارے لکڑ ہضم ‘ پتھر ہضم کے مقولے پرعمل کرتے ہوئے بقول نیپرا کئی طرح کے غیر متعلقہ ٹیکس وصول کرتے ہوئے ڈکار بھی نہیں مارتے ۔ اسی لئے تو گزارش کی ہے کہ کوئی تو ہو جومری وحشتوں کا ساتھی ہو ‘ یعنی کیا کوئی حکمنامہ ‘ کوئی استفسار اس حوالے سے بھی آئے گا کہ جن سے ایف پی اے وصول کیا گیا ہے ان کو یہ رقم واپس کی جائے گی یانہیں؟ بقول شاعر
خود اپنے خالی گھرمیں صدا دی کہ ”کوئی ہے؟”
خود ہی کہا کہ ”کون ہو؟” خود ہی کہا کہ ”میں”

مزید دیکھیں :   سیاسی کشمکش میں اضافہ