مردان لیڈی ہیلتھ ورکرز کی سیٹ

مردان :محکمہ صحت میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی سیٹوں پر مرد بھرتی

ویب ڈیسک :محکمہ صحت میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی سیٹوں پر مرد وں کی بھرتیوں کے سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے تمام ریکارڈ قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہے ۔ ڈی ایچ او نے واقعہ کو محکمہ خزانہ کی غلطی قرار دے دیا ہے جبکہ محکمہ خزانہ نے ذمہ داری محکمہ صحت پر ڈال دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت حکام نے مطلوبہ سیٹیں نہ ہونے کے باوجود مختلف کیڈرز میں بھرتیاں کی ہیں اور ان کی تنخواہوں کے لئے ایل ایچ ڈبلیو کے سیلری پوزیشن کوڈز استعمال کئے ۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ محکمہ صحت مردان میں ایل ایچ ڈبلیو ( لیڈی ہیلتھ ورکرز) کی 30سیٹوں پر مردوں کو بھرتی کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ڈی ایچ او ڈاکٹر کچکول خان نے رابطہ پر ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایل ایچ ڈبلیو کی سیٹوں پر کوئی مرد بھرتی نہیں کیا گیا ہے اگر یہ ثابت ہوجائے تو وہ ہر قسم کی سزا کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے صرف 8 کلاس فور ملازمین کی تنخواہوں کا مسئلہ ہے محکمہ خزانہ مردان کی غلطی کی وجہ سے ان کی تنخواہوں کے لئے ایل ایچ ڈبلیو کوڈ کا استعمال کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ ان کے دفتر کے اکانٹس سکیشن کی بھی غلطی ہے جس کی تحقیقات کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ خزانہ نے اب تمام8 ملازمین کے سیلری کوڈز درست کر دیئے ہیں۔ ادھر محکمہ خزانہ کے ضلعی آفیسر ہدایت اللہ خان کا موقف جاننے کے لئے ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے محکمے پر الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا کہ اکانٹ سیکشن کسی ملازم کو کوڈ الاٹ نہیں کرتا بلکہ جب کوئی ملازم بھرتی ہوتا ہے تو اسے تنخواہ کے لئے متعلقہ محکمے کی طرف سے بھرتی آرڈر، چارج رپورٹ، میڈیکل، سروس بک اور سورس ون مل جاتاہے اور ان چیزوں کو ہم چیک کرتے ہیں اور سورس ون پر انہیں تنخواہ ریلیز کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ مذکورہ ملازمین کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ڈی ایچ او نے آکر اس معاملے کو خود درست کرکے دستخط کئے ادھر یہ خبر کے سامنے آنے کے بعد ڈی جی محکمہ صحت کی ہدایت پر پراجیکٹ ڈائریکٹر نے مردان پہنچ کر محکمہ صحت کا تمام ریکارڈ قبضے میں لے لیا اور ڈی ایچ او سمیت دیگر حکام کے بیانات قلمبند کرد لئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں محکمہ صحت میں 170سے زائد کلاس فور بھرتی کئے گئے ہیں اور ان میں زیادہ تر بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہیں۔

مزید دیکھیں :   اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اعلانات پر لاء آفیسرز میں بے چینی