4 75

یورپ’ ا مریکہ بھی جہالت اور کرونا کے آگے بے بس

کرونا ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے، کالے گورے، امیر غریب، پڑھے لکھے اور ان پڑھ میں فرق کئے بغیر کرونا تادم تحریر ڈیڈھ لاکھ سے زائد قیمتی جانیں کھا چکا ہے اور ابھی تک اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ میرے قارئین کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ابھی تک اس کی کوئی دوا ایجاد ہوسکی ہے اور نہ ہی حفاظتی ویکسین۔ پہلے دن سے آج تک اس کا ایک علاج ہے اور وہ ہے پرہیز یعنی جتنا زیادہ لوگوں سے دور رہیں گے اتنی آپ کی حفاظت ہوگی، ورنہ کسی کو نہیں معلوم کہ بازاروں اور مسجدوں میں ہمارے ساتھ والے شخص کا کیا حال ہے۔
یہ بات بھی اب سبھی جانتے ہیں کہ کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی کٹ کم مقدار میں ہونے کے باعث حتی المقدور کوشش کی جاتی ہے کہ صرف انہی لوگوں کا ٹیسٹ ہو جن پر شک ہے۔ ابھی تک کے حالات میں ہم نے دیکھا کہ بظاہر کوئی بھی علامت نہ ہونے کے باوجود لوگ کرونا کے شکار ہوچکے ہیں ان میں سب سے نمایاں مثال سندھ کے وزیر سعید غنی اور عبدالستار ایدھی کے بیٹے کی ہے جو بظاہر بالکل ٹھیک ٹھاک لگ رہے تھے لیکن ٹیسٹ آنے پر پازیٹیو نکلے۔ اب یہ لوگ لاعلمی کی وجہ سے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں لوگوں سے مل چکے ہیں اور یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ کرونا وائرس کئی لوگوں پر اٹیک کرتا ہے لیکن اس کا شکار صرف کمزور لوگ ہوتے ہیں ان میں بوڑھے اور بچے یا خاص طور سے مریض شامل ہیں۔ دنیا میں اب تک مرنے والوں میں زیادہ تعداد پہلے سے کسی مرض کے دیرینہ مریض لوگ ہی اس کا شکار بنے ہیں اور پھر تمام تر طبعی امداد کے باوجود واپس زندگی میں نہ آسکے۔
اسی لئے سارے ڈاکٹر باربار چلا چلا کر درخواست کر رہے ہیں کہ خدارا گھروں میں رہیں کیونکہ آپ تو اپنی صحت کی وجہ سے اس بیماری کا زور آزما لیں گے لیکن آپ جو جراثیم گھر لے کر جائیں گے اور گھر کے افراد سے ملیں گے اس جراثیم کو ان تک منتقل کردیں گے اور گھر کے کمزور لوگ بوڑھے والدین اور بچے وہ اس بیماری کا زور نہیں سہ سکیں گے اور پھر آپ کی ذرا سی غلطی کی سزا ان کو بھگتنی پڑے گی اور پھر اس غلطی کا کوئی تدارک بھی نہیں اور وہ آپ کے پیارے زندگی کی بازی ہار کر عمر بھر کیلئے آپ کو روتا چھوڑ جائیں گے۔ اب یہاں تک ہوتا تو ٹھیک تھا لیکن اگر اس وائرس کا شکار کوئی ایسا شخص ہوا جو پورے کنمبے کا کمانے والا ہو تو پھر اس کے مرنے کے بعد زندہ رہ جانے والے زندہ درگور ہو جائیں گے کیونکہ ہمارے معاشرے میں زکواة وخیرات صرف ایک مہینے میں دیئے جاتے ہیں اور باقی سارا سال فاقے گزارنے پڑتے ہیں۔
سا ری کی ساری دنیا کے حکمران تن من دھن کا زور لگا رہے ہیں کہ کسی طور اس سے بچا جاسکے لیکن ان سب کا المیہ یہ ہے کہ حکومت کی لڑائی کرونا وائرس سے زیادہ اپنے وطن کے جاہلوں سے ہے اور یہاں بتاتے ہوئے مجھے ذرا بھی خوشی نہیں ہورہی کہ یہ حال صرف میرے وطن کا ہی نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملکوں کے پڑھے لکھے عوام بھی لاک ڈاؤن کے دوران گھروں میں رہنے کیلئے تیار نہیں۔ یہاں یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ اس وقت سب سے زیادہ اموات یورپ کے ممالک اٹلی اور سپین کیساتھ ساتھ امریکہ کے عوام کی ہے جہاں اکثریت پڑھے لکھوں کی ہے لیکن یہ پڑھے لکھے جاہل گھروں میں رہنے کیلئے تیار ہی نہیں۔ امریکا کی کئی ریاستوں کے گورنر اور ان کے عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں کہ ہم اس لاک ڈاؤن کو نہیں مانتے۔ امریکہ کا بظار خبط الحواس صدر بھی اس بات کو مان چکا ہے اور باقاعدہ منت سماجت پر آگیا ہے۔ جن گورنروں کو وہ کبھی لفٹ نہیں کرواتا تھا آج ان سے درخواست کر رہا ہے جس عوام کی وہ ایک نہ سنتا تھا آج ہاتھ جوڑجوڑ کر ان سے کہہ رہا ہے کہ خدارا گھروں میں رہیں، ہمارا ملک ساری ترقی کے باوجود طبعی آلات میں اتنا کمزور ہے کہ اب تک پچاس ہزار لوگوں کو موت کے منہ میں جانے سے نہ بچا سکا اور امریکہ کی حکومت کو ڈر ہے کہ یہ تعداد لاکھوں تک نہ پہنچ جائے۔
کچھ یہی حال میرے وطن پیارے پاکستان کا بھی ہے یہاں تو ابھی تک نزلہ زکام کیلئے ہسپتال جانا درستنہیں ہے، ہزاروں لوگ اب بھی بغیر علاج کے ہی گھروں میں مر جاتے ہیں، انہیں ہسپتال کی شکل دیکھنی بھی نصیب نہیں ہوتی۔ ہزاروں مائیں ہر سال نئے زندگی کو جنم دیتے ہوئے زچگی ہی میں اپنی زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔ گردوں کے مریض ڈائیلاسسز کی مشین کا نمبر آنے کے انتظار میں ہی اللہ کو پیارے ہوجاتے ہیں۔ اسہال کے شکار بچے ڈرپ لگنے کے انتظار میں اس دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں پہلے تو ہسپتال ہے ہی نہیں اور جہاں ہیں ان میں طبعی مشینوں کی تعداد بھی ناکافی ہے۔ کرونا وائرس کے شکار مریض کو بچانے کی واحد مشین وینٹی لیٹر ہے اور مجھ سے زیادہ آپ کو علم ہوگا کہ اس کی پاکستان بھر کے ہسپتالوں میں تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ اب کوئی اندھا ہی ہوگا جو اس وائرس سے بچاؤ کی تدبیر نہیں کرے گا اور اگر نہیں کریگا تو پھر اس کا واحد انجام موت ہے کیونکہ ہسپتالوں میں عملہ بھی اس بیماری کا شکار ہو رہا ہے اور اب تو بڑے بڑ ے پروفیسر ڈاکٹر بھی نہیں بچ پا رہے۔