ریلیف کے منتظر عوام

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مژدہ سنایا ہے کہ ڈیفالٹ کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ ایک ارب ڈالر کے سکوک بانڈز کی ادائیگی بروقت ہو گی۔ وزیرخزانہ کے مطابق پاکستان نے اپنی بین الاقوامی ادائیگیوں میں کبھی ڈیفالٹ نہیں کیا ہے اور نہ اس کے قریب جائے گا، اس سے بڑھ کر وزیرخزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے اگلے برس کیلئے تمام بین الاقوامی ادائیگیوں کا بندوبست کر دیا ہے، انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہونے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کی پریشانی کی بات نہیں ہے۔
وزیرخزانہ کی بروقت وضاحت سے ان افواہوں کا خاتمہ ہو گا جن میں یہ بات اڑائی جا رہی تھی کہ پاکستان دسمبر میں ایک ارب ڈالر کے سکوک بانڈز کی ادائیگی نہ کر سکنے کی وجہ سے ڈیفالٹ کر جائے گا، ان افواہوں کے باعث کاروبار میں مندی کا رجحان دیکھنے کو ملا تھا، امید ہے وزیر خزانہ کی وضاحت کے بعد کاروبار میں بہتری دیکھنے کو ملے گی، مگر یہ کوئی ایسی کامیابی نہیں ہے جس پر خوشی کا اظہار کیا جائے کیونکہ اتحادی حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا دعویٰ کر کے اقتدار میں آئی تھی، جس میں اسے بظاہر ناکام کا سامنا ہے، یہ بات عوام کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئی ہو گی جب حکومت میں آنے سے پہلے پی ڈی ایم میں شامل اتحادی جماعتوں نے تحریک انصاف حکومت کی ناقص کارکردگی کو جواز بنا کر لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا، پی ڈی ایم کے بقول تحریک انصاف نے عوام کیلئے مسائل میں اضافہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا، تاہم جب تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت ختم کر دی گئی اور چودہ جماعتوں کے اتحاد سے نئی حکومت قائم ہو گئی تو مہنگائی میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا، اس دوران اتحادی حکومت نے مؤقف اپنایا کہ ابتدا کے تین ماہ مشکل ہوں گے، عوام کو اکتوبر میں ریلیف ملنا شروع ہو جائے گا۔ عوام میں سے اکثریت نے اتحادی حکومت کے اس مؤقف اور مہنگائی کو بادل نخواستہ قبول کر لیا کہ واقعی چار برسوں کی تباہی کو ٹھیک کرنے میں کچھ وقت لگے گا، لیکن عوام کا انتظار طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہے، گزشتہ چھ ماہ کے دوران اتحادی حکومت کی طرف سے بھی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر کام کیا جا رہا ہے اور دور دور تک عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے آثار دکھائی نہیںدیتے ہیں۔ اس کا اندازہ وزیر خزانہ کے بیان سے بھی لگایا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی بجائے محض اتنا کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ ڈیفالٹ کا خطرہ نہیں ہے، یعنی حکومت کے پاس عوام کیلئے کوئی منصوبہ نہیں ہے، یہ بات تو چند ماہ پہلے سے کہی جا رہی ہے انہیں اس امر کی وضاحت پیش کرنی چاہئے کہ عوام کیلئے آسانی پیدا کرنے کا دعویٰ ایفا کیوں نہیں ہو سکا ہے، اگر یونہی نظام چلانا تھا تو تحریک انصاف کی حکومت کو کیوں ہٹایا گیا، اور یہ کہ اتحادی حکومت کب تک عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی؟ وزیرخزانہ مگر ان سوالوں کے جواب دینے کی بجائے سابق حکومت پر ملبہ ڈال کر اسے موردالزام ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں جو سیاسی عدم استحکام تھا وہ آج بھی قائم ہے بلکہ اس میں شدت آ چکی ہے، آرمی چیف کی تقرری جیسے اہم معاملے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، گزشتہ روز معلوم ہوا تھا کہ آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے ڈیڈلاک ختم ہو گیا ہے مگر وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ اختلاف اپنی جگہ پر قائم ہے۔ وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے صدر مملکت عارف علوی کو انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کے پاس آخری چانس ہے، آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر کچھ گڑ بڑ کرنے کی کوشش کی تو پھر اس کا نتیجہ بھی بھگتنا پڑے گا، مطلب یہ کہ انہیں صدر مملکت سے خدشات ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی وزیراعظم کا اختیار ہے، عمران خان اس عمل کو سبوتاژ کرکے ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں، وزیرخارجہ کے خدشات کہ وجہ یہ ہے کہ اسی ہفتے آرمی چیف کی تقرری کا عمل پورا ہونا ہے اور اسی ہفتے لانگ مارچ کے راولپنڈی میں پہنچنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کیلئے سب سے اہم مسئلہ آرمی چیف کی تقرری بن چکا ہے، ایسے حالات میں یہ توقع رکھنا کہ حکومت عوامی مسائل کی طرف توجہ دے گی یا عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا کوئی منصوبہ سامنے آئے گا، ملک کے زمینی حقائق کے بالکل منافی ہے کیونکہ سیاسی استحکام کے بغیر ملک کی ترقی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا کوئی منصوبہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا ہے، اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہر دو جانب سے بالغ نطری کا مظاہرہ کیا جائے تاکہ حکومت یکسوئی کے ساتھ ملک کے حقیقی مسائل پر توجہ دے سکے۔

مزید دیکھیں :   عہد وسطیٰ کی یورپی جامعات