قابل غورامر

سپریم کورٹ کی جانب سے سرکاری املاک اور دستاویزات پر سیاستدانوں اور پبلک آفس ہولڈرز کی تصاویر چسپاں کرنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ عوامی نقطہ نظر سے خاص طور پر اہمیت کاحامل اس لئے ہے کہ اس سے سرکاری وسائل سے سیاسی مقاصد کے حصول کاراستہ رک جانے کی توقع ہے سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ تمام چیف سیکرٹریز اور وفاقی انتظامیہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں ۔ سپریم کورٹ کے حکمنامے کے بعد اب اس روایت کا خاتمہ ہونا چاہئے اگرچہ بظاہر اس رسمی سے اقدام کا ملکی خزانے پر بوجھ نظر نہیں آتا لیکن اگرسنجیدگی سے غور کیا جائے تو یہ بھی مصارف میں اضافہ کی ایک صورت اس طرح سے رہی ہے کہ ملک میں لاکھوں منصوبوں کے افتتاح اور تکمیل کے مواقع پرجوتقریبات منعقد ہوتی رہیں اس پرسرکاری پٹرول سے لے کرسرکاری اوقات کارسے وقت نکالنا اور تقریب کے انعقاد پرآنے والے اخراجات ہی نہیںہوتے تھے بلکہ ہر تقریب کے لئے کام کے افتتاح اور کام کی تکمیل پر جوتختی نصب ہوتی ہیں ان سارے اخراجات کوملا کرکوئی ماہرحساب دان حساب لگا کربتا دے توملک بھرمیں اس پر کروڑوں روپے کے بلاوجہ کے مصارف آتے ہوں گے اوراس کے ساتھ ساتھ سرکاری خزانے سے تکمیل شدہ منصوبوں پر سیاست اپنی چمکانے کاعمل کسی صورت قابل قبول نہ تھا اس بہانے سیاسی اجتماعات کا انعقاد وہ بدعت ہے جس کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے ممکن ہے کسی اور موقع پرعدالت کی جانب سے اس طرح کی ساری صورتحال کو سیاسی اور حکومتی دسترس سے دور کرنے کا کوئی حکمنامہ آئے اوراس کی بجائے ماہرین سے منصوبے کی جانچ پڑتال اور منظوری کی صورت میں منصوبے کو عوامی افادیت کے لئے کھول دینے کا طریقہ کاروضع کیا جائے گا تاکہ وزیر اعلیٰ سے لے کر وزراء اور چیف سیکرٹری سے لے کرمتعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام تک سبھی کو اس طرح کی تقریبات میں وقت ضائع کرنے کی بجائے عوام کی خدمت پر توجہ دینے کا موقع ملے اور وہ اس وقت کو حکومتی اور پیشہ ورانہ کاموں پر صرف کرکے نافع بنایا جا سکے۔
ایک بارپھر پختونخوا
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے خیبر پختونخوا کی قیادت پر بھاری ذمہ داری عائد کردی گئی ہے پنجاب سے شروع ہونے والا لانگ مارچ عملی طور پر روات میں ختم کر دیا گیا ہے جبکہ 26نومبر کے جلسے ، دھرنا یا احتجاج کا تمام تر دارومدار اب صرف اور صرف خیبر پختونخوا پر ہوگا راولپنڈی میں خیمہ بستی قائم کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہیبدلتے حالات اور ممکنہ طور پر ان خطرات سے قطع نظرجس کا انتباہ جاری ہوچکا ہے ایک مرتبہ پھرخیبر پختونخوا ہی پر انحصار سے اس امر کا اظہارہوتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پنجاب ‘ بلوچستان اور سندھ میں اپنی اورکارکنوں کے جوش و جذبے سے مطمئن نہیں لاہور سے شروع ہونے والی تحریک عمران خان کی موجودگی و شرکت کے باوجود وہ تاثر قائم نہ کر سکی جوتحریک انصاف کی مقبولیت اور کارکنوں کے جوش و جذبے کا تقاضا تھا جہاں تک خیبر پختونخوا کاتعلق ہے اس صوبے ہی میںتحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی اور اسی صوبے ہی میں خلاف روایت دوسری مرتبہ بھی تحریک انصاف ہی کو اقتدار ملا مستزاد مرکزمیں پی ٹی آئی حکومت کے قیام کی بنیاد بھی خیبر پختونخوا ہی سے مضبوط ہوئی آئندہ انتخابات میں بھی خیبر پختونخوا کی حد تک توپی ٹی آئی کی مقبولیت نظر آتی ہے لیکن ملک کے دیگر صوبوں خاص طور پر پنجاب سے وابستہ امیدیں شاید پوری نہ ہوں بلکہ اس امر کا بھی خدشہ ہے کہ پنجاب میں پارٹی کوفعال و متحد رکھنا بھی شاید مشکل ہو۔ تحریک انصاف کی قیادت کو اب اس امر کا احساس ہو چکا ہو گا کہ ان کے دور حکومت میں صوبے پر جس خصوصی توجہ کی ضرورت تھی اور صوبے کے بعض مالی معاملات اور بقایاجات کی ادائیگی کا جو موقع تھا اس سے کماحقہ فائدہ نہ اٹھانا قیادت کی غلطی تھی۔
قابل تقلید
پشاور کے علاقہ شاہ پور میں ہائوس اسٹیشن آفیسر(ایس ایچ او) نے شادی کی تقریبات میں خواجہ سراء اوررقاصائوں کو بلانے پر پابندی لگانے اور لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کرنے کا عمل قانون کی مطابق کس حد تک درست ہے یا غلط سماجی اور اخلاقی طور پر اس کی تحسین کی جانی چاہئے اس طرح کے پروگراموں میں اکثر لڑائی جھگڑے ہوتے رہے ہیں ۔چرس اور دوسرے نشہ آور چیزوں کا بھی استعمال ہونالڑائی جھگڑے اورعلاقہ کا امن بھی متاثر ہوتا آیا ہے ۔ شرعی لحاظ سے بھی یہ ہر گز درست نہیں کہ نکاح یا شادی کی تقریب میں رقص کی ایسی محفل سجائی جائے جس سے علاقہ کے دیگر افرادخصوصاً نوجوان اور بچے بھی متاثر ہوں۔اس کی تقلید صوبہ بھر اور خاص طور پر پشاور کے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو کرنی چاہئے جبکہ عوام کو بھی اس ضمن میں تعاون کرناچاہئے ساتھ ہی شادی بیاہ کے موقع پر سڑکیں اور گلیاں بند کرکے رات بھر اونچی آواز میں گانا لگانے اور شور شرابا کی بھی عملی ممانعت ہونی چاہئے۔
کرایوں میں باربار اضافہ کیوں؟
نجی سکولوں میں ٹرانسپورٹ فیس میں 80 فیصد تک اضافہ بلاجواز ہے اس صورتحال پر حسب معمول پرائیویٹ اور سیمی گورنمنٹ تعلیمی اداروں کو کنٹرول کرنے کے لئے بنائے گئے ادارے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ نجی سکولوں کی انتظامیہ مختلف طریقوں سے طلبہ کے والدین پر جس طرح بوجھ ڈالتی ہے ان سے قطع نظرٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مسلسل اضافہ ایک بڑامسئلہ ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ فیس میں خاصا اضافہ کیاگیا تھا اب مزید ا ضافہ بلا جواز ہے اس کا واحد حل یہی ہوسکتا ہے کہ بچوں کے لئے سکول ٹرانسپورٹ نہ لی جائے اور جوسکول بی آرٹی روٹ کے قریب واقع ہیں ان کے بڑے طلبہ اس کااستعمال کریں اور آئندہ کے لئے والدین بچوں کے داخلے میں اس کو اہمیت دیں ساتھ ہی کسی قریبی سکول کا انتخاب کیاجائے تاکہ روز روز کے اس مسئلے سے نجات ملے۔

مزید دیکھیں :   جنابِ تقی عثمانی کا بروقت جواب دعوی