تربیت ا ساتذہ کی ضرورت اور تقاضے

اساتذہ کی تربیت اورمیرٹ پر ان کی تقرری اس لئے ضروری ہے کہ قوم کے نونہالوں کا مستقبل ان کے ہاتھ میں ہے ماضی میں کیا ہوا اور کس طرح کے افراد بھرتی کئے گئے اس سے قطع نظر اب اصلاحات نوکاایک عمل شروع کرنے کی ضرورت ہے جس کی بنیاد میرٹ پرآنے والے اساتذہ کی پوری طرح تربیت کااہتمام کیا جائے مقام غور ہے کہ قوم کے مستقبل یعنی قوم کے نونہالوں کو ہم کیسے ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں دے سکتے ہیں جن کے پاس اپنے مضمون کا علم تو بہت زیادہ ہو لیکن پیشہ معلمی کا تربیت کے حامل نہ ہو ۔کیا یہ قوم بچوںکی مستقبل کو دائو پرلگانے والا عمل نہیں ہوگا۔ہمیں اپنے بچوں کو ایسے لوگوں کے حوالے کرنا ہوگا جو کہ صحیح معنوں میں تربیت یافتہ ہواور اپنے پیشہ معلمی سے comited ہوں۔بغیر تربیت ک تعلیمی میدان میں نووارد اساتذہ کو دوران تدریس بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے میں بحیثیت ایک سینئر انسٹرکٹرکے ان نوارد اساتذہ کی اپنے متعلقہ مضمون کے لحاظ سے تو تعلیمی قابلیت کا بہت زیادہ معترف ہوں۔ لیکن مجھے اس بات کا بھی علم ہے کہ ان کو پیشہ معلمی کے اسرار ورموز کی اتنی جانکاری نہیں جتنا کہ ایک تربیت یافتہ استاد کو ہوتی ہے یہ اساتذہ بچوں کی سائیکالوجی کو ٹھیک طرح سے نہیں جانتے یہ وہ گر نہیں جانتے کہ بچوں کو پڑھائی پر کیسے آمادہ کیاجا سکتا ہے یہ اساتذہ بچوں کی ہمہ جہت نشوونما کے طریقوں سے نابلد ہیں۔نئے تعینات ہونے والے اساتذہ کے لئے صوبائی حکومت نے انڈکشن کے نام سے تربیتی پروگرام شروع کر رکھا ہے جو صوبے میں قائم مختلف تربیتی اداروں (RPDC`S) میں جاری ہے اس تربیتی پروگرام کا دورانیہ نو مہینوں پرمشتمل ہے ۔ جن میں دو مہینے ان نئے تعینات اساتذہ کو پیڈاگوجی سے متعلقہ مضامین جیسے سائیکالوجی ‘ کلاس روم مینجمنٹ ‘ کریکولم اینڈ انسٹرکشن ‘ کلاس روم اسسمنٹ ‘ سکول آرگنائزیشن اور آئی سی ٹی وغیرہ پڑھائے جاتے ہیںجبکہ باقی سات مہینوں میں ان کو لازمی مضامین (کورسبجیکٹ)کی تربیت دی جاتی ہے ۔میرے نزدیک انڈکس ایک اچھا پروگرام ہے لیکن اس پروگرام سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا گیا اور یہی وجہ ہے کہ اس کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہو رہے ہیں اس بارے میں حکومت کو چاہئے کہ پری سروس ٹریننگ کو نئے سرے سے رائج کرے اور اس میں امپرومنٹ کے ساتھ ساتھ جدت لائی جائے اس کے ہمیں دو فوائد ہوں گے ایک فائدہ یہ ہو گا کہ جب استاد کی سکول میں تعیناتی ہوگی تووہ پہلے ہی سے مطلوبہ تربیت لے چکا ہو گا اور اس طرح بچوں کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچ جائے گا دوسرا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اگر خدانخواستہ اس امیدوار کو نوکری نہ ملی تو وہ جب کسی پرائیویٹ سکول میں پڑھانے کے لئے جائے گا تو کم از کم وہاں پر تو وہ صحیح طریقے سے پڑھا سکے گاکیونکہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ سرکاری سکولوں سے پرائیویٹ سکولوں کی تعداد زیادہ ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گورنمنٹ سکولوں سے زیادہ بچے پرائیویٹ سکولوں میں ہیں لہٰذا ایک تیرسے دو شکار۔
ہرایک ٹریننگ ادارے کے ساتھ مانٹیسوری لیبارٹریز بنائی جائیںearly child hood education (ECR) سے متعلق ادارے میں تربیت اور ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے ۔
تربیتی اداروں کی فیکلٹی کو جدید خطوط پہ استوارکرنے کے لئے مختلف ٹریننگز اور ورکشاپس کروائی جائیں تاکہ جدید دور کے تعلیمی مسائل اور تقاضوں کے ساتھ احسن طریقے سے نمٹا جا سکے ۔
سکولوں میں اساتذہ کی حاضری کوچیک کرنے کے لئے فزیکل مانیٹرنگ کی جاری ہے میری تجویز ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ان اساتذہ کی پروفیشنل سپرویژن بھی کی جائے اور ضلع کے متعلقہ RPDC`S کے پروفیشنل ماہرین کو اپنے ادارے کے Catch up ایریا کے سکولوں کی باقاعدہ وزٹ پرلگایا جائے تاکہ یہ ماہرین ان سکولوں میں تعینات اساتذہ کے طریقہ تدریس اور تدریس سے منسلک دوسرے لوازمات کا جائزہ لیں اور اگر رہنمائی کی ضرورت ہو تو موقع پر ان کی رہنمائی کی جا سکے اور اگلے دورے تک کے لئے ان اساتذہ کو کوئی ٹارگٹ دیا جائے تاکہ وہ اس ٹارگٹ کے حصول کے لئے جانفشانی سے کام کریں اگر حکومت موجودہ انڈکشن پروگرام کو جاری رکھنا چاہتی ہے تو اس کے میکنزم میں تھوڑی بہت تبدیلی لانا ہو گی مثلاً موجودہ انڈکشن پروگرام میں پیڈاگوجی کے لئے دو مہینے رکھے گئے ہیں میرے نزدیک یہ چار مہینوں پہ مشتمل ہونا چاہئے کیونکہ تربیت معلمی میں تو پیڈاگوجی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ انڈکشن پروگرام میں جودو مہینے پیڈاگوجی کے لئے رکھے ہوئے ہیں وہ بھی ہفتے میں ایک یا دو دن کی کلاسز ہوتی ہیں کیونکہ اساتذہ کو مکمل طور پرسکولوں سے باہر کرکے ٹریننگ پہ نہیں لگوا سکتے ۔نئے تعینات ہونے والے اساتذہ کو فوراً سکولوں میں نہ بھجوایا جائے بلکہ پہلے فورسسز کی طرح ان کی نو مہینے کی لازمی اور مسلسل ٹریننگ کروائی جائے اور پھر کہیں جا کر ان کوسکولوں میں جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ یکسوئی سے اپنا پیشہ معلمی جاری رکھ سکیں۔

مزید دیکھیں :   اساتذہ کبھی خوش نہیں ہوتے