وانامیں7روزسے جاری دھرناختم،مظاہرین کے10مطالبات تسلیم

ویب ڈیسک :لوئروزیرستان کے صدرمقام وانا میں سات روز سے جاری اولسی پاسون کا دھرنا انتظامیہ کیساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ڈی سی لوئر وزیرستان ناصرخان،ڈی پی او جنوبی وزیرستان شبیر حسین اور اسسٹنٹ کمشنر وانا سلمان کنڈی کی موجودگی میں ختم کردیاگیا۔اس موقع پر علماء کرام، قبائلی عمائدین اور مقامی سیاسی رہنمائوں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں عوام نے بھی شرکت کی۔ دھرنا شرکاء کے تمام دس نکاتی مطالبات حکومت نے تسلیم کرکے ان پر عملدرآمد شروع کردیا۔دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی ناصر خان نے کہاکہ تمام دس مطالبات پر ہم جلد کام شروع کریں گے۔وانا بازار میں پولیس کی عملداری،بازار کے داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعیناتی،کالے شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی،غیرحاضر پولیس اہلکاروں سے ڈیوٹی لینا،شرپسندوں کی موجودگی ختم کرنااور پاک افغان بارڈر انگوراڈاگیٹ پر احمدزائی وزیرکو کاروبار اور آمدورفت کے لئے سہولتیں فراہم کرنے میں کسی قسم کا دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مغوی جمشید خان وزیر کو 15 دن کے اندر اغواء کاروں کے چنگل سے بازیاب کرانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ لوئر وزیرستان میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے پولیس اور سول انتظامیہ ہمہ وقت تیاری رہے گی اور عوام کی جان ومال کے تحفظ کے حوالے حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتی رہے گی۔

مزید دیکھیں :   پشاور دھماکے میں شہداء کی تعداد 88 ہوگئی، 55 زخمی زیر علاج