تم قتل کروہو کہ کرامات کروہو

کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے بندہ مرغ و ماہی چھوڑ کردال ساگ کھانے پر بھی محاورتہً مجبور ہوجاتا ہے’محاورةً ہم نے اس لئے کہا کہ کسی زمانے میں جب یہ محاورہ ایجاد ہوا ہو گا تو یقیناً دال ساگ سادہ اور غریب عوام کی خوراک رہی ہوگی ‘ یہ الگ بات ہے کہ اب کیا دال ‘ کیاساگ اورکیا مرغ و ماہی۔ سب کچھ کی قیمتوں کو پر لگ چکے ہیں بلکہ اب تو سبزیاں ‘دالیں ‘ کڑاہی گوشت کے مقابلے میںزیادہ مہنگی مل رہی ہیں ‘ وہ جوپشتو کاایک محاورہ ہے کہ پیاز ہو مگر قدرافزائی کے ساتھ ہو تو اس سستی ترین سبزی کی جوقدر و منزلت ان دنوں ہو رہی ہے اور ایک کلو پیاز دوسوروپے سے نیچے آنے کوتیارہی نہیں ہے ‘ ہاں دوسو کے اوپر اوپرہی قیمتیں پہنچی ہوئی ہیں ‘ اس لئے کسی زمانے میں غریب لوگ سادہ روٹی کے ساتھ پیاز کھا کر گزارہ کرنے کی جن روایات کے امین رہے ہیں ‘اب ان کا تصور بھی نہیں کیاجا سکتا ‘ خدا جانے اس کا کارن کیا ہے ‘ بظاہر تو کہاجا رہا ہے کہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے جس طرح ملک بھر میں وسیع اراضی زیر آب اور کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں یوں ہر قسم کے اجناس کی ملک میں قلت پیدا ہونا فطری امر تھا’ اس کے بعد کن اشیائے خورد ونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اورابھی شاید مزید بلندی کی طرف مائل پرواز رہ کر اوج ثریا کو چھونے کا ریکارڈ قائم کریں ‘ یقین سے کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ‘ بہرحال یہ جوکالم کے آغاز میں ہم نے منہ کا ذائقہ بدلنے کی بات کی ہے تو اس کی وجہ بھی عرض کردیتے ہیں کہ دیگر موضوعات خصوصاً ملکی سیاسی صورتحال پردوتین کالم تواتر سے لکھنے کے بعد ذرا عوامی نقطہ نظر بھی سامنے لانا ضروری ہوتا ہے یعنی عام آدمی کے ان مسائل پر بات کی جائے جن سے انہیں روز مرہ زندگی میں سامنا رہتا ہے ‘ اور اس حوالے سے ایک خبر کو زیربحث لانا تو بنتا ہے جس میں صوبائی دارالحکومت پشاور میں دودھ اورچائے کی پتی کے نرخوں میں اضافے کی اطلاعات ہیں ‘ ایک بات کی البتہ وضاحت بھی کردی جائے تو شاید بات کی سمجھ آجائے اور وہ یہ کہ اشیائے صرف کی قیمتوں کے حوالے سے اب ملک کے طول وعرض میں لگ بھگ ایک ہی صورتحال ہے ‘ یعنی کراچی سے پشاور تک اور دیگرعلاقوں میں قیمتوں کی صورتحال معمولی ردوبدل سے تقریباً ایک ہی رہتی ہے جس کی وجہ یہ ٹی وی چینلز ہیں جواپنے ہر بلٹن میں تمام شہروں میں مقررہ نرخوں کے اتار چڑھائو کو نشر کرکے کراچی جیسے بڑے شہر سے لے کر پشاور جیسے علاقوں تک کے دکانداروں ‘ تاجروں اور آڑھتیوں کو اپنی اشیاء کے نرخ مقرر کرنے میں سہولت لیکن صارفین کے لئے مشکلات پیدا کردیتے ہیں ‘ وہ زمانہ اب لد گیا جب کراچی میں مقرر ہونے والے نرخوں کی اطلاع کہیں دو تین دن بعد پشاور پہنچتی تھی ‘ ویسے بھی کراچی کے مقابلے میں پشاور میں نرخ قدرے اعتدال پر ہی رہتے تھے کیونکہ کراچی میں دودھ بھنس کالونی اوردوسرے ان علاقوں سے جہاں دودھیل جانوروں کے باڑے موجود ہیں ‘ کراچی کے دور دراز علاقوں تک دودھ فراہم کرنے پرٹرانسپورٹ کے بے پناہ اخراجات اٹھتے ہیں اس لئے وہاں نرخ ہمیشہ ہی زیادہ رہتے تھے ‘ جبکہ پشاور کے اندرون علاقوں یا زیادہ سے زیادہ اب قریبی علاقوں سے دودھ لانے پر ٹرانسپورٹ کے اخراجات اتنے نہیں اس لئے بھی نرخ نسبتاً اعتدال میں رہتے تھے ‘ مگر اب ٹی وی چینلز کی مہربانی سے یہ فرق بھی تقریباً ختم ہی ہو چکا ہے گویا بقول ڈاکٹر کلیم عاجز
دن ایک ستم ‘ ایک ستم رات کرو ہو
وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کروہو
دامن پہ کوئی چھینٹ ‘ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کروہو
بات ہو رہی تھی پشاور میں دودھ اور چائے کی پتی کی قیمتوں میں اضافے کی ‘ خبر کے مطابق دودھ کی قیمت دو سو روپے لیٹر جبکہ چائے کی پتی فی کلو 1200 روپے سے متجاوز ہوگئی ہے ‘جہاں تک دودھ کے نرخوں میں ا ضافے کی بات ہے تو مارکیٹ میں 150 سے 180 روپے لیٹر مقرر ہیں لیکن اب مشکل ہی سے کہیں ان نرخوں پردودھ دستیاب ہو رہا ہو ‘لفظ خالص کا نہ تو خبر میں کوئی ذکر ہے نہ ہم نے لکھنے کا تکلف کیا ہے اس لئے کہ اب یہ لفظ ویسے بھی ایک محاورے کے مطابق ”گدھے کے سر سے سینگ” کی مانند غائب ہوچکا ہے ‘ بلکہ وہ جوکسی زمانے میں دودھ اورپانی کے باہمی ” اشتراک ” کے قصے سنائے جاتے تھے اور جن کے حوالے سے مرزا محمود سرحدی نے آج سے کئی دہائیاں پہلے کہا تھا وہ صورتحال بھی اب کہیں نظرنہیں آتی یعنی
محتسب سے کہوں تو کیا جا کر
میری مانند وہ بھی روتا ہے
پہلے ہوتا تھا دودھ میں پانی
آج پانی میں دودھ ہوتا ہے
اس کی وضاحت یوں بھی ضروری ہے کہ اب تو کہیں اکا دکا چھوڑ ک کہیں سے پانی ملا دودھ بھی مل جائے تواسے غنیمت جان کر اللہ کاشکر ضرور ادا کرنا چاہئے جیسا کہ مولانا اسماعیل میرٹھی نے بھی کہا تھا کہ رب کا شکر ادا کر بھائی ‘ جس نے ہماری گائے بنائی ‘ یعنی کم از کم بھینس اورگائے کا دودھ ہی مل جاتا تھا خواہ اس میں پانی کی ملاوٹ ہی کیوں نہ کی گئی ہو ‘ مگر اب تو یار لوگوں بھینس یاگائے نہ ہونے کے باوجود”دودھ کی پروڈکشن” شروع کر رکھی ہے ‘ اور ملک بھر میں اب کیمیکلز سے بنے ہوئے دودھ کی”بہاریں” ہیں جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس مصنوعی دودھ میں جن کیمیکلز کااستعمال کیا جاتا ہے ان سے کینسر جیسی خطرناک بیماری کھلے عام بانٹنے کی کوششیں ہو رہی ہیں ‘ مگر متعلقہ ادارے کہیں مہینے دو مہینے بعد ایک آدھ بار خواب غفلت سے بیدار ہو کر چھاپے مارنا شروع کردیتے ہیں اور میڈیا پر سینکڑوں لیٹر ناقص دودھ ضائع کرنے کی خبریں اور تصویریں شائع اور نشر کرکے ایک بار پھرلمبی تان کرسو جاتے ہیں کیونکہ ان کو مبینہ بھتہ ملتا رہتا ہے ۔ ملک میں دودھ ‘ دہی وغیرہ کی جتنی کھیت رہتی ہے ‘ اس کی پیداوار توحالیہ سیلاب سے پہلے بھی ممکن نہیں تھی اور ملاوٹ والے دودھ کی سپلائی ہوتی تھی مگر سیلاب میں جہاں ہزاروں جانور بھی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کھیت اتنی ہی ہے جتنی پہلے ہوتی تھی توسوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر خالص دودھ کہاں سے آرہا ہے؟ ظاہر ہے کیمیکلز سے تیار ہو کر دودھ ہی سپلائی کیا جارہا ہے اور وہ بھی دوسو روپے لیٹر؟ جہاں تک چائے کی پتی کی قیمت میں اضافے کا تعلق ہے تو اگرچہ اب وہ صورت نہیں رہی جب مرزا محمود سرحدی نے کہا تھا کہ
اب تو ہم بھی ہیں صاحب ایجاد
اب تو ہم بھی دعائیں لیتے ہیں
رنگ دے کر چنوں کے چھلکوں کو
چائے کے بھائو بیچ دیتے ہیں

مزید دیکھیں :   من چہ می سرایم و طنبورہ من چہ می سراید