صدرعارف علوی کیخلاف

صدرعارف علوی کیخلاف مواخذے کی تحریک پیش کی جاسکتی ہے، رانا ثنااللہ

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ صدرعارف علوی کیخلاف مواخذے کی تحریک پیش کی جاسکتی ہے، مواخذے کا فیصلہ اتحادی حکومت کے پارٹی سربراہ کریں گے۔
ویب ڈیسک: تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاکہ صدرعارف علوی کیخلاف مواخذے کا فیصلہ اتحادی حکومت کے پارٹی سربراہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن آئینی تقاضا ہے، صدر وزیراعظم کی رائے کا پابند ہے، صدر کا ہر عمل وزیراعظم کی مشاورت سے جڑا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ صدر مملکت نے غیرآئینی اقدام کیا اور خود کو عمران خان کا جیالا ثابت کیا، صدرمملکت کو اپنی نہیں توآفس کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاکہ صدر مملکت نے غیرقانونی اورغیرآئینی حرکت کی، اس سے قبل بھی آرمی چیف تقرری پرفائل لےکر لاہور بھاگ گیا تھا، لاہور جاکر عمران خان سے مشاورت کی وہ عمل اس آفس کےشایان شان نہیں تھا، صدر مملکت کا یہ عمل بھی انتہائی قابل افسوس ہے۔
یاد رہے کہ صدر عارف علوی نے آئین کے سیکشن 57 اے کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 9 اپریل کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی حکومت نے اس کو آئین کے متصادم قرار دیا۔

مزید دیکھیں :   سیلاب متاثرہ اضلاع کیلئے صحت و تعلیم کے 55ارب کے منصوبے منظور