آوارگی میں حد سے گزر جانا چا ہئے

اب کیا کیا جائے، جب بیانات ہی ایسے آئیں گے جیسا سابقہ (اب تو سابقہ ہی ہو گئے ہیں)وزیراعظم شہباز شریف نے دیا ہے تو پھر ہماری رگ ظرافت تو پھڑکے گی اور ازراہ تفتن ہمارے تبصرے بھی اسی نوعیت کے ہی ہوں گے گزشتہ روز اینکر پرسنز اورسینئر صحافیوںکے ساتھ ایک الوداعی ملاقات میں انہوں نے کہا کے 30 سال سے اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ کا تارہ ہوں ۔ اس پر ایک مشہور بھارتی فلم آوارہ کا انتہائی مقبول گیت کایاد آنا بھی فطری بات تھی تاہم اس گیت کے بول اور سابق وزیر اعظم کے الفاظ میں بعد المشرقین ہے۔ یعنی موصوف نے تو خود کو ”کسی”کی آنکھوں کا تارہ قرار دیا ہے جبکہ گیت کے الفاظ کسی اور پس منظر کی عکاسی کرتے ہیں جو یوں ہیں کہ
آوارہ ہوں، آوارہ ہوں
یا گردش میں ہوں
آسمان کا تارہ ہوں’ آوارہ ہوں
چونکہ چھوٹے میاں صاحب پر کسی بھی حوالے سے ”آوارگی” کی تہمت نہیں لگائی جا سکتی اس لئے ہم بھی یہ جرأت نہیںکر سکتے وگر نہ تو بقول شاعر کہنا پڑتا کہ
آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہئے
لیکن کبھی تو لوٹ کے گھر آنا چاہئے
محولہ بھارتی فلمی گیت کی مقبولیت کا نہ صرف بھارت، پاکستان میں چرچا رہا ہے بلکہ سابق سوویت یونین کے ساتھ بھارت کے خصوصی اور قریبی تعلقات کی وجہ سے سوویت یونین میں شامل (سابق)وسط ایشیائی ریاستوں میں تاجکستان، ازبکستان ثمر قند ‘بخارا اور دیگر ممالک میں اس گیت کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں ایک ریاست کے صدر بھی سٹیج پر ایک تقریب میں اسی نغمے کو پر فارم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ کئی اور ویڈیوزمیں نوجوان گلوکار بلکہ بچے بھی اس گیت کے تناظر میں آنجہانی راجکپور جیسا سوانگ بھر کرپر فارم کرتے دکھائی دیتے ہیں، خیر بات ہو رہی تھی سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے اس بیان کی جس میں انہوں نے خود کو گزشتہ30 سال سے اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ کاتارہ قرار دیا ہے’ اور کہا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کے میرے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات اچھے رہے’ لیکن یہ بتائیں کہ مجھے کب اورکس موقع پر رعایت دی گئی، اس پروہ شخص یاد آگیا جو روز گائوں کے حجرے میں خان کی”جولانئی طبع”کا نشانہ بنتا تھا، ایک روز خوش خوش گھر آیا، بیوی نے خوشی کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ آج خان نے خوش ہو کر اسے بڑے ”اچھے” الفاظ سے یاد کیا ہے’ اب ان ” اچھے”الفاظ کی نہ ہم نشاندہی کر سکتے ہیں نہ تشریح بلکہ اس حوالے سے آپ کو کسی پختون سے رجوع کرناپڑے گا ، جبکہ غور سے دیکھیں تو خود چھوٹے میاں نے ایک سوال کی صورت میں ” باہمی تعلقات”کے حوالے سے الٹا اینکر پرسنز اور سینئر صحافیوں سے جو کچھ پوچھا ہے اس میں ہی حقائق ” پوشیدہ ” دکھائی دیتے ہیں اور تعلقات کی نوعیت کی نشاندہی کر رہے ہیں ، گویا لطیفے کے اس شخص اورخان کے مابین جو کچھ ہوتاتھا اس کی وضاحت ہو رہی ہے ‘فرحت عباس شاہ کے ایک شعرسے بھی ممکن ہے صورتحال زیادہ واضح ہو کر سامنے آئے یعنی
میں نے پوچھا مری جان کیسے ہو؟
اس نے ہولے سے کہا”خوفزدہ”
قوم سے آخری خطاب میں سابق وزیر اعظم شہباز شریف بڑی دور کی کوڑی لائے ہیں اور فرمایا ہے کہ آئین کے راستے آئے تھے (اس سے عدم اتفاق کی ایک فیصد بھی گنجائش نہیں یعنی سو فیصد درست ہے تاہم اگلے ہی لمحے جو کچھ انہوں نے فرمایا ہے یعنی اطمینان قلب کے ساتھ واپس جا رہے ہیں تو اس پر سوال تو اٹھتے ہیں بلکہ اٹھتے رہیں گے کیونکہ جس اطمینان قلب کی انہوں نے بات کی ہے ممکن ہے وہ ان کی ذاتی حد تک درست ہو’ اگرچہ اس میں بھی شک ہو سکتا ہے یعنی اگر وہ اپنے ضمیر کو ٹٹول کردیکھیں تو خود اپنی ہی جماعت کے کچھ رہنمائوں کے بیانات بھی جن میں سے ایک اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بھی شامل ہیں’ موصوف کے دعووں کی تردید کے لئے کافی ہیں، جبکہ عوامی نکتہ نظرسے دیکھا جائے تو میاں صاحب نے اپنے سوا 24کروڑ سے زیادہ عوام کو ”درد دل”آشنا کر دیا ہے اور جس طرح ملک میں مہنگائی سے آج عوام پریشان بلکہ سرگردان ہیں ان کا کوئی والی وارث دکھائی نہیں دیتا ، اور وہ عوام؟ اتحادی جماعتوں کی حکومت سے توقعات وابستہ کئے بیٹھے تھے اب ان کی حالت اس شعر میں واضح دکھائی دے رہی ہے کہ
میں تو سمجھ رہا تھا کہ مجھ پر ہے مہرباں
دیوار کی یہ چھائوں تو سورج کے ساتھ تھی
ایک لحاظ سے تو خیرمیاںصاحب کا دعویٰ درست بھی ہے یعنی ملک کو تباہی سے بچایا(اشارہ ڈیفالٹ کی طرف ہے) اس لئے مطمئن ضمیر کے ساتھ جارہے ہیں تاہم اس کے بعد جو کچھ انہوں نے کہا اس سے معروضی حالات میں اتفاق مشکل دکھائی دیتا ہے ‘ یعنی انہوں نے کہا کہ آنے والے انتخابات میں”ووٹ کو عزت دو” والے نعرے کے ساتھ اتریں گے کیونکہ مہنگائی کی جوحالت ان کی اتحادی حکومت نے کردی ہے ‘ اس کا سارا”ڈس کریڈٹ” صرف نون لیگ کے کھاتے میں جائے گا ‘ دوسرے اتحادی دامن جھاڑ کر صاف بچ کر نکل جائیں گے ‘ اس لئے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بڑے میاں نے”مجھے کیوں نکالا؟” اور ووٹ کو عزت دو کے سلوگن سے جوفضا بنائی تھی چھوٹے میاں نے ان کے ووٹ کو عزت دو والے نعرے کو خدا جانے کتنے پنکچر لگاکر اس نعرے سے ہوا خارج کر دی ہے ‘ جبکہ کسی کی آنکھ کاتارہ ہونے کے ناتے ”اور ملازم” کے مابین”تعلقات” کے تناظر میں موصوف نے بڑے میاں صاحب کے راستے کے کانٹے چننے میں آسانی ہونے کے باوجود حکمت عملی اختیار نہیں کی اور میاں صاحب کی واپسی آج بھی قانونی موشگافیوں کے تارعنکبوت میں الجھی ہوئی ہے اس پر ایک استاد شاعر کا یہ تبصرہ پوری طرح صادق آتا ہے کہ
کارحیات ‘ ریشمی دھاگوں کا کھیل تھا
الجھے تو پھر سلجھ نہ سکے تار زیست کے
اور اب کسی کی آنکھ کا تارہ ہونے کے شوق گلبوسی کے زعم میں مبتلا چھوٹے میاں نے بڑے میاں کو بقول مرحوم محسن احسان یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ
تنہا کھڑا ہوں میں بھی سر کر بلائے عصر
اور سوچتا ہوں میرے طرفدار کیا ہوئے؟