ہمارا حوصلہ دیکھو ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں

کل اپنی ایک پرانی ڈائری میں لکھے ہوئے پسندیدہ اشعار پڑھنے بیٹھا تو اقبال ساجد مرحوم کے درج ذیل شعر نے تا دیر مُلکی حالات کی طرف متوجہ کیے رکھا ، ماضی حال اور مستقبل کے پس منظر میں بہت کچھ دیکھنے کو ملا ۔ پھر اسی شعر کو آج کے کالم کا موضوع بنایا ۔
جہاں بھونچال بنیادِ فصیل و در میں رہتے ہیں
ہمارا حوصلہ دیکھو ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں
ہمارے اس پیارے گھر کو بنے ہوئے دہائیاں گزر چکی ہیں اور یہاں یہ تیسری نسل ہے جو پرورش پا کر جوان ہو گئی ہے ۔ اس گھر کے بارے جو کچھ بزرگوں سے سنا اور یہاں رہتے ہوئے جو ہم نے دیکھا ، وہ صرف اُداسی ہی نہیں جو اس کی دیواروں پہ بال کھولے سو رہی ہے بلکہ وہ بہت سے اسباب ہیں جس نے ہمیں ایک مسلسل بھو نچال کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ ایک کے بعد دوسرا بحران ، نازک حالات ، ریاستی دہشت گردی ، مذہبی منافرت ، عبادت گاہیں اور درس گاہیں غیر محفوظ ، بچوں اور خواتین پر تشدد ، احتجاج دھرنے اور توڑ پھوڑ ، الزامات ، کوئی صادق و امین کوئی غدار ، گالی گلوچ ، بلند و بانگ دعوے اور یو ٹرن ، آزادی رائے پر پابندی و پکڑ ، ہر جھوٹے بیانیہ پر آمین ، مہنگائی ، بجلی گیس اور پٹرول کی مار ، بے روزگاری ، انجنئیر ڈاکٹر اور ہنر مندوں کی مُلک سے ہجرت ، غربت میں اضافہ ، ڈاکوؤں کا راج اور چوروں کی چاندنی، سیاسی و معاشی عدم استحکام ، اداروں میں تصادم ، آئین کی بے توقیری ، صبح و شام گمراہ کن پراپیگنڈا ، بس ہر طرف کشیدگی ، بد امنی اور لوٹ کھسوٹ ۔ اب ایسے میں کسے وکیل کریں اور کس سے منصفی چاہئیں ۔ گھر کے قریب پارک میں مامور ایک مالی نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یہ آٹا ، دال ، پیاز ، ٹماٹر،
چینی ، سبزی اور آلو کب سستے ہوں گے ؟ اور کس کے پاس جا کر سوال فریاد کروں ؟ مَیں اُسے منیر نیازی کے بارے کیا بتاتا ، اتنا کہا کہ تمہارے ان سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں کیونکہ سوال غلط ہو تو جواب کوئی بھی نہیں دیتا ۔ وہ بوڑھا مالی مسکرایا اور کہا مجھے علم ہے کہ سچ کہنے اور بولنے پر تعزیر ہے جو یہاں کبھی ختم نہیں ہو گی ۔ ایک جمہوری مُلک میں سیاسی جماعتیں عوام کی آواز ہوا کرتی ہیں ، پارک کا یہ مالی اور ہر فرد اپنی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر ایسے تمام سوالات کر سکتا ہے لیکن افسوس کہ ہماری سیاسی جماعتوں کی بنیادیں ہی غلط استوار ہوئی ہیں ۔
یہاں تو جاہ پرستی ، شاہ پرستی اور موقع پرستی نے اس گھر کو کمزور اور سماج کو کھوکھلا کر دیا ہے ۔ نظریہ تو رہا نہیں ، ہماری جماعتوں کے پاس تو منشور بھی نہیں بس کبھی ایک ایشو کو پکڑ لیا تو کبھی کسی دوسرے پہ بات کر کے عوامی پذیرائی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ جیسے طالبان سے مذاکرت کرنے یا نہ کرنے کا مسّلہ ، کبھی ڈیم کی مخالفت ، کوئی چور ڈاکو اور غدار ، کسی سے لوٹی ہوئی رقم کی واپسی ، لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے دعوے ، ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ ، غلط شماریات کی بنیاد پر حکومتی کار کردگی کا موازنہ۔ یہ سیاست نہیں محض بیانات ہیں جس کا حاصل کچھ بھی نہیں ۔ ہمارے جمہوری نظام کو غیر ضروری اور سوچی سمجھی مداخلت نے بھی بڑا نقصان دیا ہے ۔ مُلکی مفاد کے نام پر کی جانے والی ہر ایسی مداخلت کے پیچھے ذاتی
مفاد ہی کار فرما ہوتا ہے ۔ پتلی تماشے کے اس کھیل میں سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں جس کا نتیجہ سیاسی عدم استحکام ہے ۔ یوں انہوں نے جمہوری نظام کو بھی کمزور کیا اور خود بھی ہر گناہ کے سزا وار ٹھہرے ، کبھی احتساب کے شکنجے میں تو کبھی عدالتوں میں حاضر۔
یہ ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور پگڑی اُچھالنے کا نتیجہ ہے کہ گرفتار بھی ہو رہے ہیں اور نا اہل بھی ہو چکے ہیں ۔ عوام کی بجائے عدالتیں ہی ان کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہیں ۔ احتساب کے عمل میں بھی کوئی جان نہیں رہی ، ہر مقدمہ سیاسی بن کر رہ جاتا ہے ، کوئی اگر پرانے گناہ معاف کرانے میں کامیاب ہو گیا تو کچھ دنوں بعد نئے گناہوں کی گٹھڑی سر پہ اُٹھائے ہوتا ہے ۔ ان گناہوں کے سر زد ہونے یا نہ ہونے سے ان کی عوامی مقبولیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگوں نے احتساب کو بھی پتلی تماشے کا ایک منظر سمجھا ہوا ہے ۔ گھر میں جاری شب و روز کے اس تماشا کو ہم سب ہمہ تن بیٹھے دیکھ رہے ہیں جبکہ گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہیں ۔ یہ کیسا گھر ہے کہ جہاں رہنے والے کسی شمار میں نہیں اور ان کی بنیادی ضروریات پر کوئی توجہ نہیں ۔ جمہوری نظام میں پارلیمنٹ ہی وہ واحد جگہ ہے جہاں عوامی مسائل کو حل کرنے اور ان کی ترجیہات پہ بات کی جاتی ہے ، سیاسی اختلافات بھی یہاں ختم ہوتے ہیں لیکن ہمارے نمائندے پارلیمنٹ میں نہیں بیٹھتے اور یہاں مکالمہ کرنے کی بجائے استعفےٰ دے کر عوام کو سڑکوں پر ہلڑ بازی کرنے کے لیے اکٹھا کرتے ہیں ۔ جو باہر نہیں نکل سکتے تو گھروں میں بیٹھ کر سوشل میڈیا کا ہتھیار استعمال کر تے ہیں اور سیاسی شخصیات کے حق و مخالفت میں بلا تصدیق افواہیں اور غلط معلومات پھیلا کر دوسروں کو گمراہ کر رہے ہوتے ہیں ۔ اسے بڑی تبدیلی کہا جا رہا ہے کہ لوگ با خبر ہو گئے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ نوجوان نسل میں نفرت ، انتقام اور جمہوری نظام سے دُوری پیدا ہو رہی ہے ۔ مُلکی مفادات کا نقصان ہو رہا ہے ۔ اللہ نے ہمارے اس گھر کو بڑی نعمتوں سے نواز رکھا ہے ، گھر میں رہنے والے سب با صلاحیت ہیں اور اپنے گھر کو خوب تر بنانے میں مثالی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ نہ انہیں مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں کہ ان کی صلاحیتوں سے فائدہ ہو اور نہ گھر کی ترقی کو کبھی اپنی ترجیح بنا پائے ۔ کبھی زرعی اور صنعتی انقلاب کی نوید سنائی جاتی ہے ، کبھی قرض اتارو مُلک سنوارو کی باتیں سنتے ہیں ، ڈیم بنانے کو پیسے جمع کرنے کی تحریک دی جاتی ہے تو کبھی نجکاری سے حالات میں بہتری لانے کی یقین دہانی ہوتی ہے ۔دوست ممالک مالی تعاون بھی کر رہے ہیں ، اقتصادی ماہرین روزانہ دُور کی کوڑیاں بھی لاتے ہیں مگر ہمارا گھر مسلسل معاشی بحران کا شکار ہے ۔ کیا یہ سب کچھ گھر میں موجود اشرافیہ اور استحصالی طبقہ کا کیا دھرا تو نہیں ؟ کیا ہم سب کسی سازش کا شکار تو نہیں ہوئے ؟ ان تمام حالات کے باوجود اس گھر میں رہتے ہوئے ہمارا حوصلہ بھی قائم ہے ۔

مزید پڑھیں:  انہونیوں کے موسم کی دستک