بجلی بلوں کی ادائیگی کا بائیکاٹ

بجلی کے ہزاروں روپے کے اضافی بل موصول ہونے کے بعد شہریوں کے اوسان خطا ہوگئے ہیں اچانک اتنے بڑے اضافے کی وجہ سے صارفین کے پاس ادائیگی کیلئے رقم ہی موجود نہیںواضح رہے کہ گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران بجلی کی فی یونٹ کی قیمت20روپے کا اضافہ ہوا ہے ہر دوسرے مہینے بجلی کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے بجلی کے بلوں کی ادائیگی صارفین کی دسترس سے باہر ہوگئی ہے بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافہ کے بعد رواں مہینے اڑھائی سو سے تین سو یونٹ خرچ کرنے والے صارفین کی بجلی کا بل 12ہزار سے15ہزار روپے آیا ہے جس نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں مہنگائی کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمت میں اضافہ نے شہریوں کی سکت کو ختم کر دیا ہے اور یکمشت اتنی رقم نہ ہونے کی وجہ سے صارفین نے پیسکو کے مختلف دفاتر میں ڈیرے ڈال دیئے ہیں جہاں پر صارفین بل کی رقم میں کمی کرنے یا پھر اس کو قسط وار کرنے کیلئے قطاروں میں لگے کھڑے ہیں۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو خسارے سے نکالنے اور حکومت پر اس کا بوجھ کم کرنے کے لئے جن اقدامات کی ضرورت ہے بجائے اس کے کہ حکومت اس پرتوجہ دے ماہ بہ ماہ بجلی بلوں میں اضافہ در اضافہ کا سلسلہ اب اس قدر انتہا کو پہنچ چکا ہے کہ صارفین بلوں کی ادائیگی سے انکار پر مجبور ہو رہے ہیں مگر یہ بھی مسئلے کا حل نہیں مشکل امر یہ ہے کہ بجلی چوری کی روک تھام اور لائن لاسز پر قابوپانے کی پہیم مساعی کی بجائے اس خسارے کو بھی صارفین پرتقسیم کرکے بلوں میں شامل کیا جاتا ہے ٹیکسوں اور سرچارج کی بھرماراتنی ہے کہ صرف شدہ بجلی کی قیمت کم اور اضافی رقم زیادہ ہے ایسے میں صارفین کی جانب سے بلوں کی ادائیگی سے انکار یا پھر بامر مجبوری استطاعت نہ ہونے پر بجلی بلوں کی ادائیگی سے احتراز کی صورتحال میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور صورتحال قابو سے باہرہوتی نظرآرہی ہے حکومت مفت بجلی کی فراہمی یکسر ختم نہیں کر سکتی تو کم از کم فری یونٹ ہی بلا امتیاز کم کرے۔قابل توجہ امر یہ ہے کہ صرف واپڈا ہی کے اہلکار مفت بجلی استعمال نہیں کرتے بلکہ بہت سے سرکاری افسران اور افراد کو یہ سہولت حاصل ہے جن کے مفت یونٹ میں تھوڑی سی کٹوتی ہو جائے تو عام صارفین پر مزید بوجھ ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی شمسی توانائی اور سستی بجلی کے ذرائع پر توجہ کے دعوے تو بہت ہوتے ہیں مگر عملی طور پر اس میں کامیابی کے لئے مراعات اور اس نظام کو سہل بنانے پرخاص توجہ کی ضرورت ہے حکومت کو یہ سوچنا چاہئے کہ اگرملک بھر کے عوام تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بلوں کی ادائیگی سے متفقہ طور پر انکارکریں تو کیا ہوگا۔

مزید پڑھیں:  سیاسی و معاشی مسائل