احتساب دیکھائی بھی تو دینا چاہئے

گزشتہ سے پیوستہ روز سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ کے مستعفی ہونے والے جج سید مظاہر علی اکبر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بطور جج سپریم کورٹ منصب سے ہٹایا جاناچاہیے تھا۔ مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل نے 9 شکایات کا جائزہ لیا اور انہیں آئین کے آرٹیکل 209 کی شق 6 کے تحت مس کنڈکنٹ کا مرتکب قرار دیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے مستعفی جج کیخلاف اپنی رائے صدر مملکت کو بھجواتے ہوئے مظاہر نقوی کی برطرفی کی سفارش کی ہے۔ کونسل کے جاری اعلامیہ کے مطابق سابق جج کو شوکاز نوٹس دے کر جواب کیلئے مہلت دی گئی مگر انہوں نے صفائی میں کچھ پیش نہیں کیا دوسری جانب سپریم کورٹ کے مستعفی جج کا مؤقف ہے کہ ان کا استعفیٰ صدر مملکت منظور کرچکے۔ جوڈیشل کونسل کی یکطرفہ کارروائی کو عدالت میں چیلنج کروں گا۔ سپریم کورٹ کے سابق جج کچھ عرصہ قبل اس وقت مستعفی ہوئے تھے جب ان کے خلاف کرپشن، بے ضابطگیوں اور اقربا پروری کے ساتھ سیاسی مقدمات میں ایک خاص فریق کا سہولت کار ہونے کے الزامات سامنے آئے اور پھر جوڈیشل کونسل میں دائر کی گئی درخواستوں پر کارروائی کا عمل شروع ہوا۔ قواعدوضوابط میں اس امر کی گنجائش موجود ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کا جج اپنے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا سامنا نہ کرنا چاہے تو مستعفی ہوجائے۔ استعفیٰ دینے کی صورت میں ایک تو کونسل کی کارروائی رک جاتی ہے ثانیاً جج پنشن او دوسری مراعات سے محروم نہیں ہوتا۔
ایک طویل عرصے سے قواعدوضوابط کی ان شقوں پر اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں قانونی ماہرین کے ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے لوگ یہ سوال کرتے رہے کہ کرپشن کے الزام میں سزا دینے اور اپیل مسترد کرنے والے جج صاحبان میں سے اگر کسی پر ایسے ہی الزامات سامنے آئیں تو انہیں محفوظ راستہ کیوں دیا جاتا ہے یہ کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ کرپشن کے الزامات پر کارروائی کا سامنا کرنے کی بجائے مستعفی ہوکر پنشن اور مراعات ملکی خزانے سے وصول کی جاتی رہیں؟ ہر دو سوالات ماضی میں بھی اس وقت سامنے آئے جب بعض ججز نے کارروائی کا سامنا کرنے کی بجائے مستعفی ہوکر کارروائی ختم کرادی۔ حال ہی میں مذکورہ جج کے مستعفی ہونے پر پہلے سے موجود سوالات مزید شدت کے ساتھ اٹھائے گئے اس کے ساتھ ساتھ خود عدلیہ کے اندر سے بھی یہ آوازیں سنائی دیں کہ کیا کرپشن اور دوسری بے ضابطگیوں کے مرتکب جج کو محفوظ راستہ دینا چاہیے نیز یہ کہ کیا اس سے عدالتی نظام کی ساکھ اور بہرصورت انصاف کے تقاضوں سے عہدہ برآء ہونے پر لوگوں کا اعتماد کم نہیں ہورہا؟ مستعفی ہونے والے جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی جاری رکھنا اخلاقاً ہی نہیں نظام عدل کے بنیادی تقاضوں کے بھی عین مطابق ہے۔ مندرجہ بالا کیس میں چیف جسٹس سمیت کونسل کے متعدد ارکان یہ کہتے دیکھائی دیئے کہ عدلیہ میں احتساب ہونا چاہیے کسی کو یہ موقع نہیں دیا جانا چاہیے کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کی ساکھ کو دائو پر لگاکر خود محفوظ راستے سے پنشن اور مراعات کا حق لے کر گھر چلا جائے۔
ہماری دانست میں یہی رائے درست ہے۔ کوئی بھی شخص کتنے بھی بڑے منصب پر فائز کیوں نہ ہو وہ آسمانی مخلوق ہرگز نہیں۔ قانون کی نگاہ میں سب ایک جیسے ہیں۔ احتساب کا عمل طبقاتی اور ادارہ جاتی درجہ بندی کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔ اصولی طور پر ہونا یہ چاہیے کہ اگر کسی جج پر کرپشن وغیرہ کے الزامات ثابت ہوتے ہیں تو اسے نہ صرف برطرف کیا جاناچا ہیے بلکہ اس سے کرپشن کے فواد بھی وصول کئے جانے چاہئیں۔ یہ بجا ہے کہ مذکورہ جج اس رائے کو چیلنج کرنے کا حق رکھتے ہیں لیکن اگر وہ خود کو پوتر سمجھتے ہیں تو پھر انہیں سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا سامناکرنا چاہیے تھا۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ ان کا مستعفی ہونا بذات خود جرم تسلیم کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ جہاں تک ان کے خلاف کارروائی کو مذہبی و سیاسی رنگ دیئے جانے کا تعلق ہے تو اس حوالے سے یہ عرض کیا جانا ضروری ہے کہ ان کے خلاف شکایات چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کے دور میں سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کی گئیں اس دور میں ان شکایات کا جائزہ لینے کی بجائے اس وقت کے چیف جسٹس انہیں اور ایک دوسرے جج کو اپنے ساتھ بنچوں میں بیٹھاکر کہتے رہے کہ ”میں کسی کو پیغام دے رہا ہوں”۔ سوال یہ ہے کہ اس دور میں سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کی بجائے چیف جسٹس نے یہ تاثر کیوں دیا کہ ”کوئی” سیاسی دائو پیچ کھیل رہا ہے؟ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سابق چیف جسٹس نے اس معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا ڈول اس لئے نہیں ڈالا تھا کہ وہ جانتے تھے کہ شکایات اور الزامات درست ہیں کارروائی کی صورت میں مذہبی و سیاسی تعصب کے کارڈز نہیں کھیلے جاسکیں گے۔
امر واقع یہ ہے کہ سابق جج مظاہر نقوی کے معاملے میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی اور رائے عدلیہ کے اندر احتساب کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔ احتساب سب کا ہونا چاہیے یا پھر ہر کرپٹ شخص کو محفوظ راستہ دیا جانا چاہیے۔ جیسا کہ مشرف دور میں ایڈمرل منصور الحق کو دیا گیا 9 ارب کی کرپشن کی 86 کروڑ میں نیب سے پلی بار گین کی اور گھر کے وسیع لان میں پوتوں نواسوں کیساتھ اٹکھیلیاں کرتے ہوئے سوچتے تھے ”یہ بلڈی سویلین کرپشن بھی ڈھنگ سے نہیں کرسکتے”بہرحال سپریم جوڈیشل کونسل نے ایک اچھا آغاز کیا کاش کسی دن افتخار محمد چوہدری وغیرہ کو بھی احتساب کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جاسکے۔ امیدیں پالنے میں ہرج ہی کیا ہے۔

مزید پڑھیں:  سیاسی پارٹی پر پابندی