من چہ می سرایم و طنبورہ من چہ می سراید

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز نے کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وباء میں اضافے کے باعث آئندہ چند ماہ بہت تکلیف دہ ہوں گے جبکہ کورونا کے اعداد وشمار جاری کرنے والے اور اس سے نمٹنے کیلئے قائم ادارے کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے کیسز میں مسلسل ساتویں روز بھی کمی رپورٹ ہورہی ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کی رپورٹ اور وزیراطلاعات کی پیشگوئی میں واضح اختلاف ابہام کا باعث ہے جس سے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اصل صورتحال کیا ہے۔ آیا کورونا کے پھیلائو میں کمی آرہی ہے یا پھر اس میں شدت کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔ اعدادوشمار غلط ہیں یا پھر بیان لاعلمی یا غلط اندازے پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی کچھ دنوں قبل کورونا کے پھیلائو میں اضافے کا خطرہ ظاہر کیا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اعداد وشمار اگر مستند اور درست ہیں تو پھر حکام کاخودساختہ اندازوں پر مبنی خطرات کا اظہار کرنے کی بجائے مستند معلومات کی روشنی میں اظہار خیال کرنا مناسب ہوگا، پاکستان میں ماہرین کورونا وباء کے پھیلائوکا عروج مئی کے دروسرے ہفتے کا بتارہے ہیں، مستزادعیدالفطر سے قبل لاک ڈائون کے خاتمے ونرمی کی صورتحال اور بڑے پیمانے پر احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزیوں کے عمل کے اثرات کے تناظر میں بھی کورونا وباء کے عروج پر ہونے کا وقت ہے، اعداد وشمار اس میں کمی کا اشارہ دے رہے ہیں بہرحال حقیقی صورتحال کا اندازہ اسی طرح کے مغالطے میں ممکن نہیں، بہتر ہوگا کہ سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے اور عوام کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔
پرواز کرتے تابوت
چترال سے اسلام آباد جانے والے پی آئی اے کے طیارے کے حادثے کی رپورٹ میں اُڑان بھرنے سے قبل جہاز میں خرابی، اہم ترین پرزہ ٹوٹنے اور دوسرے پرزے کی خرابی کا اعتراف قومی فضائی کمپنی میں غفلت ولاپرواہی اور انسانی جانوں سے کھیلنے کا عمل ثابت ہوگیا ہے۔ 43مسافروں کے جانوں سے کھیلنے والے انجینئرنگ کے عملے اور دیگر ذمہ دار حکام کیخلاف کیا کارروائی کی گئی رپورٹ میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ جس وقت طیارے کا حادثہ پیش آیا تھا انہی دنوں ایوں چترال کے بعض باشندوں نے گائوں کے اوپر سے طیارہ گزرتے وقت غیرمعمولی گڑ گڑاہٹ اور شور سننے کا جو بیان دیا تھا تحقیقاتی رپورٹ نے اس پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ سول ایوی ایشن پی آئی اے اور ایئر پورٹ پر متعین دیگر عملہ میں ایک عام آدمی جتنا بھی شعور نہ تھا اور غیرذمہ داری کی انتہا کی گئی، واضح علامت اور خرابی کے باوجود پرواز کی اجازت کیسے دی گئی اس سوال سے قطع نظر پی آئی اے کے بڑھتے حادثات کے بعد اب موت کے ان تابوتوں میں شاید ہی کوئی سفر کرے۔
جیل میں کورونا پھیلنے کی وجوہات معلوم کرنے کی ضرورت
مارچ سے قیدیوں سے ملاقات پر پابندی کے باوجود سنٹرل جیل پشاور کے گیارہ قیدیوں کا کورونا کا شکار ہونا تعجب کا باعث امر ہے۔ کورونا وائرس کے حوالے سے ماہرین کا خیال ہے کہ اسے خود جاکر نہ لائو تو خود سے نہیں آتا، ایسے میں صوبے کے مرکزی بندی خانے میں گیارہ قیدیوں کوکورونا کیسے لگ گیا اور مزید کتنے قیدیوں کے متاثر ہونے کا امکان ہے، یہ نہایت تشویشناک امور ہیں۔ صوبے کے مختلف جیلوں میں قیدیوں کی جانب سے بار بار عدم احتیاط اور کورونا کے ممکنہ پھیلائو کے جن خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا وہ درست ثابت ہوئے اور متعلقہ حکام نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں۔ عدم احتیاط کے باعث قیدیوں کے متاثر ہونے کے بعد پورے جیل میں قیدیوں میں خوف وہراس اسلئے بھی فطری امر ہے کہ وہاں پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ممکن ہی نہیں اور نہ ہی حکام ان کو وہ سہولیات فراہم کر رہے ہیں جو ضروری ہیں، حکومت کو اس کا سخت نوٹس لینا چاہئے اور ان اسباب وعوامل، غفلت اور کوتاہیوں کی تحقیقات کرانی چاہئے جو اس وباء کے سنٹرل جیل کے قیدیوں تک پہنچنے کا باعث بنے، علاوہ ازیں صوبے کے سارے جیلوں میں صفائی وممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا ہنگامی بنیادوں پر بندوبست کیا جائے۔
حیات آباد قبرستان پر پولیس کا قبضہ چھڑایا جائے
حیات آباد قومی جرگہ کی جانب سے حیات آباد کے مستقل اور مالکانہ بنیادوں پر رہائش پذیر آبادی کیلئے قبرستان کا بندوبست کرنے کا مطالبہ معروضی صورتحال میں فوری توجہ کا حامل امر ہے۔ حیات آباد کے قبرستان میں گنجائش ختم ہونے والی ہے جبکہ قبرستان کے ایک بڑے حصے پر پولیس کا قبضہ ہے، سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہی اگر قبضہ مافیا کا کردار ادا کرنے لگے اور حکام خاموش تماشائی بنے رہیں تو عوام فریاد کس سے کریں، کس سے منصفی چاہیں اور ان کی داد رسی کون کرے۔ حیات آباد کے قبرستان کو جلد سے جلد تجاوزات سے پاک کرایا جائے اور مزید اراضی کا بندوبست کرنے پر بروقت توجہ دی جائے۔